اداریہ کالم

پاک فوج کی لازوال قربانیاں

جیسا کہ ہم بارہا مرتبہ ان صفحات پر لکھ چکے ہیں کہ پاک فوج کی دہشت گردی کیخلاف لڑی والی جنگ کے دوران یہ قربانیاں اس قدر طویل ہیں کہ ان پر کئی رجسٹر اور کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں مگر قربانیوں کے اس سلسلے میں کمی واقع نہیںہوئی اور سرفروش جوان پہلے سے بڑھ کر جذبہ شہادت کے آرزو لیئے میدان عمل میں کود رہے ہیںتاکہ دہشتگردوں کا مکمل صفایا کرکے اپنے ہم وطنوں کو سکھ ،چین اور آرام مہیا کرسکے، اسی حوالے سے گزشتہ روز دہشتگردوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک کیپٹن شہید ہوگئے ، قوم کو ان کی قربانیوں کا پوری طرح ادراک ہے اور پوری قوم انہیں خراج تحسین پیش کررہی ہیں، اسی حوالے سے صدر مملکت کا یہ کہنا بجا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ہم یہ جنگ جاری رکھیں گے ،شہبادت مطلوب ومقصود مومن ۔۔نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی ،پوری قوم کو ان شہداءکی قربانیوں پر فخر ہے اور پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ان کی پشت پر کھڑی ہے، اخباری اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل سید کاشف اور کیپٹن احمد کی نمازِ جنازہ چکلالہ گیریژن میں ادا کی گئی، شہدا کی نماز جنازہ میں صدر آصف علی زرداری، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر خارجہ، وزیر داخلہ، سینئر فوجی افسران اور شہدا کے لواحقین نے شرکت کی۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد بھی نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔ چکلالہ گیریژن میں صدر مملکت اور آرمی چیف نے شہدا کے لواحقین کو گلے لگا کر دلاسہ دیا اور تعزیت کی۔اس موقع پر صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ شہدا کی عظیم قربانی ہمارے بہادر بیٹوں کے غیر متزلزل عزم کا اظہار ہے جنہوں نے ہماری مادر وطن کے دفاع کے لیے قربانی پیش کرنے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی،ہمارے بہادربھائی، بیٹے اور دوست سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں،مارے بیٹوں کا خون رائیگاں نہیں جائیگا، پاکستان کے عوام اور فوج ایک ساتھ ہیں، ہم ملکر دہشتگردوں کا مقابلہ کریں گے ۔ ملک میں دہشت گرد کارروائیاں کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دیں گے،دہشت گردوں سے جوانوں کے بہائے گئے خون کا خراج لیں گے۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی فوج نے ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کے نظریات کو مسلسل برقرار رکھا ہے۔ ان پائیدار اصولوں کی رہنمائی میں، پاکستانی فوج نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ میں پیشہ ورانہ مہارت اور وفاداری کی اعلیٰ مثال قائم کی۔یہ عظیم قربانی ہمارے بہادر بیٹوں کے غیر متزلزل عزم کی ایک اور شاندار روایت ہے جنہوں نے ہماری مادر وطن کے دفاع کے لیے قربانی پیش کرنے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ پوری قوم ہماری مسلح افواج کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے۔بعدازاں شہدا کی میتیں ان کے آبائی علاقوں میں پہنچا دی گئیں جہاں انہیں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل سید کاشف علی شہید کی اسلام آباد، کیپٹن محمد احمد بدر کی تلہ گنگ میں تدفین کی گئی، حولدار صابر شہید کو ضلع خیبر، نائیک خورشید کو ضلع لکی مروت میں سپردخاک کیا گیا۔ سپاہی ناصر شہید کی پشاور، سپاہی راجہ شہید کوہاٹ اور سپاہی ساجد کی ایبٹ آباد میں تدفین کی گئی، نماز جنازہ میں شہدا کے اہلخانہ، عزیز و اقارب، پاک فوج کے افسروں، عمائدین علاقہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پاک فوج کے بہادر جوانوں کی یہ قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں، مادر وطن سے دہشتگردی کے ناسور کے خاتمے تک ہماری یہ جنگ جاری رہے گی۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے شمالی وزیرستان میں میر علی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے پر اظہارِ مذمت کیا ،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں میر علی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ دشمن کو ایسا جواب ملے گا کہ ساری زندگی یاد رکھیں گے، اب وہ وقت نہیں کہ دشمن حملہ کرے اور ہم صرف مذمت کریں۔ دشمن جس طرح حملہ کر رہا ہے، اس سے کہیں سخت جواب ملے گا، پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد اور پاک فوج کے ساتھ ہے۔ ہم سب دشمن کی بزدلانہ کارروائیوں کا بھرپور جواب دیں گے، میر علی میں شہادت کا بلند رتبہ پانے والے جوان پوری قوم کے ہیرو ہیں، پاکستانی قوم اپنے بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتی ہے۔وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز نے لازوال قربانیاں دی ہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہے، ملک میں امن کے لیے سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔دوسری جانب وزیراطلااعات عطا تارڑ نے کہا کہ شہدا کےخلاف توہین آمیز مہم ناقابل برداشت ،کارروائی ہوگی،شہداءکی قربانیوں کا مذاق اڑانے ،پاکستان مخالف مہم چلانےوالے کسی رعایت کے مستحق نہیں ۔ میر علی میں دہشت گرد واقعہ کی مذمت کرتا ہوں، دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے اتحاد ضروری ہے۔ لیفٹیننٹ کرنل، کیپٹن اور ہمارے جوان شہید ہوئے، دہشت گردی کے خلاف قربانی دینے والے ہمارے محسن ہیں۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ شہدا کے خلاف ایک سیاسی جماعت نے سوشل میڈیا پرمہم چلائی، ان کی شہادتوں کا مذاق اڑایا، وطن کے ساتھ اس سے بڑی ملک دشمنی ہو ہی نہیں ہوسکتی ہے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج اگر ملک قائم ہے تو ان شہدا کی قربانیوں کی وجہ سے ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ الیکشن میں اختلافات پرشہدا کو شامل کرنا انتہائی گھٹیا عمل ہے، یہ سیاسی جماعت اپنی شناخت کھوچکی، آج یہ بے نام پارٹی ہے، ناجانے کون اس پارٹی کو چلا رہا ہے،کون ملک سے باہر بیٹھ کر گالیاں دے رہا ہے۔ تحریک انصاف پر تنقید کے نشتر برساتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ملک کی خیر مانگنے کے بجائے یہ اسے بد دعائیں دیتے ہیں، آئی ایم ایف کو خط لکھنا ملک دشمنی کے مترادف ہے۔ عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ امریکی سازش کا نعرہ لگانے والے آج امریکہ کی فٹ پاتھوں پر بیٹھ کر پاکستان کے خلاف نعرے لگوا رہے ہیں، شہداءکی قربانیوں کا مذاق اڑانے اور پاکستان مخالف مہم چلانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
مریم نوازکاکوٹ لکھپت جیل کادورہ
سیاست میں جیل جانا کوئی نئی بات نہیں،قیام پاکستان سے پہلے مولانا محمد علی جوہر ، کامریٹ مولانا شوکت علی اور کئی دیگر سیاستدان جیل کاٹ چکے ہیں ،قیام پاکستان کے بعد بھی جیل کاٹنے والے سیاستدانوں کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے مختلف جیلوں میں اپنا وقت گزارا ،ان میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹوانکی دختر بے نظیر بھٹو اور ہزاروں کارکنان نے جیلیں کاٹیں ، موجودہ دور میں نواز شریف کے خاندان نے نہایت پامردی اور سیکلال کے ساتھ جیل کی صعوبتیں برداشت کیں، ان کی صاحبزادی اور وزیر اعلی ٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی کسی طور پر پیچھے نہ رہی ، انہیں اڈیالہ جیل اور کوٹ لکھپت جیل میں اپنے اسیری کے ایام گزارے اور سرخرو ہوکر باہر نکلے اور آج وزارت اعلیٰ پنجاب کی منصب پر فائز ہیں ، ہم سمجھتے ہیں کہ سیاست میں سیاسی حریفوں کو جیل بھیجنا دانشمندی کا تقاضا نہیں بلکہ اس موقع پر صبر و تحمل سے کام لیا جانا چاہیے، تاہم محترمہ گزشتہ روز کوٹ لکھپت جیل تشریف لے گئی اور وہاں کا دورہ کیا ، اس موقع پر انہوں نے صوبے بھر میں قیدیوں کیلئے 3ماہ سزا کی معافی اور155قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا ، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے سنٹرل جیل کوٹ لکھت کا دورہ کیا اور قیدی خواتین کے ساتھ روزہ افطار کیا۔وزیر اعلی مریم نواز مہمانوں کے ساتھ بیٹھنے کی بجائے قیدی خواتین کے ساتھ بیٹھ گئیں، وزیراعلی قیدی خواتین کو خود سموسے ، پکوڑے ،پھل اور کھانا پیش کرتی رہیں، سنٹرل جیل کے لان میں پودا لگایا اور مزید درخت لگانے کی ہدایت بھی کی۔مریم نواز نے اس سیل کا دورہ بھی کیا جہاں ان کے والد نواز شریف قید کے دوران رہے، مریم نواز جیل میں گزارے وقت کی یادیں تازہ کرتے ہوئے جذباتی ہوگئیں۔جیل کے کچن کا دورہ کیا ، قیدیوں کیلئے تیار کھانے کا جائزہ لیا اور معیار چیک کیا، وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر قیدیوں کےلئے سپیشل افطار مینیو تیار کیا گیا، وزیراعلیٰ نے قیدیوں سے بات چیت کی،مسائل اورضروریات کے بارے میں دریافت کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے