پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بھارتی فالس فلیگ آپریشن کا منصوبہ بے نقاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ مودی سرکار 14فروری کو پلوامہ حملے کی چوتھی برسی پر اسی طرز کا ایک اور ڈرامہ رچانے جا رہی ہے۔مودی سرکار فالس فلیگ آپریشن کو جواز بنا کر جنگ بندی معاہدہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ اسی لئے پاکستان کو نشانہ بنانے کی غرض سے کسی بھی فالس فلیگ آپریشن کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔منصوبے کے مطابق14فروری کو کشمیر کے جنوبی اضلاع میں بارود سے لیس دھماکہ خیز گاڑی کے طرز کا حملہ کیا جانا ہے، پلوامہ، کلگام، انتناگ اور شوپیاں میں فوجی اہداف پر خود کش حملہ کئے جانے کی قوی اطلاعات ہیں۔خفیہ اطلاعات کے مطابق کسی نوجوان سے خود کش حملہ کروا کر الزام پاکستان اور آئی ایس آئی پر تھوپنا ہے۔بھارت کی 9 ریاستوں میں اس سال انتخابات ہونا ہیں جو 2024ءکے بھارتی لوک سبھا انتخابات میں فیصلہ کن اہمیت کے حامل ہیں۔ موددی سرکار فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے پاکستان مخالف جذبات ابھار کر الیکشن جیتنا چاہتی ہے۔ چاہے اس مقصد کے حصول کے لئے مودی سرکار کو کتنے ہی فوجی کیوں نہ مروانا پڑیں۔ بھارتی فوج کے جوان مودی سرکار کے اقتدار کی ہوس کا ایندھن بنیں گے۔ باراک اوباما نے اپنی کتابThe Promised Land میں لکھا تھا کہ پاکستان مخالف جذبات پر ہندوستان انتخابات جیتتا ہے۔ جنوری 2022ءمیں کانگریس رہنما ادت راج نے نریندر مودی پر پلوامہ حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے کا انکشاف کیا۔ 16جنوری 2021ءکو The Wire کی رپورٹ میں ارناب گوسوامی کی لیک واٹس ایپ چیٹ کے مطابق پلوامہ حملے میں مودی سرکار خود ملوث تھے۔ 27اکتوبر 2022ءکو بھارتی وزیر دفاع نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو مقبوضہ کشمیر میں طاقت کے زور پر خم کرنے کا بیان دیا تھا۔ یکم نومبر 2022ءکو بھارتی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل اوپندرا نے بیان دیا کہ بھارتی فوج آزاد کشمیر پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ حالیہ اشتعال انگیز بیانات اور اقدامات کا مقصد جنگ کا ماحول بنا کر خطے کا امن داو¿ پر لگانا ہے۔ مودی سرکار فالس فلیگ آپریشن کو جواز بنا کر جنگ بندی معاہدہ ختم کرنا چاہتا ہے، اسی لئے پاکستان کو نشانہ بنانے کی غرض سے کسی بھی فالس فلیگ آپریشن کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔بھارت ہمیشہ ایسی شرارتیں کرتا رہتا ہے جس میں پاکستان پر الزام تراشی کرنا آسان ہو۔ بھارت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کےلئے ایسے ڈرامے کرتا رہتا ہے۔ کبھی سرجیکل سٹرائیک ، کبھی آزاد کشمیر پر حملہ تو کبھی مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کی مدد کرنے کا الزام۔ مگر اس کے ڈراموں میں کوئی نہ کوئی ایسا واضح نقص ہوتا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی اس کی بات پر دھیان نہیں دیتا۔ یوں بھارت وقتی طور پر تو پاکستان کےلئے مشکلات کھڑی کر دیتا ہے لیکن بعد میں یہی واقعہ یا ڈرامہ بھارت کے گلے پڑ جاتا ہے۔ممبئی حملہ ہو، پارلیمنٹ پر حملہ ہو، اڑی واقعہ، سمجھوتہ ایکسپریس ہو یا حالیہ پلوامہ حملہ، بھارت کو ہر واقعہ کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ دکھائی دیتا ہے۔ لیکن جب تحقیقات کی بات کی جاتی ہے تو اس کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ ہر واقعہ کی تحقیقات کے بعد ثابت ہوتا ہے کہ یہ بھارت کی خود منصوبہ بندی ہوتی ہے اور الزام پاکستان پر۔ اب تک تقریباً تمام ایسے واقعات جن کا پاکستان پر الزام لگا ، ثابت ہو چکے ہیں کہ بھارت نے خود کئے۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ پاکستان میں حالات بہتر ہورہے ہوں تو بھارت میں کوئی نہ کوئی واقعہ ہوجاتا ہے ۔ یا پھر جب بھی بھارت میں انتخابات ہوتے تو ایسے واقعات ظہور پذیر ہونے لگتے ہیں اور پاکستان پران کا الزام دھرا جاتا ہے تاکہ انتخابات میں پاکستان مخالف کارڈ کھیلا جا سکے۔ بی جے پی نے حالیہ حکمرانی ایسے ہی حاصل کی تھی۔دراصل پاکستان کے آزاد ہونے کی حقیقت بھارت آج تک تسلیم نہیں کرسکا۔ بھارت کا سارا میڈیا وار جرنلزم کی طرف ہے جبکہ ہمارا میڈیا پر امن صحافت کو لے کر آگے بڑھ رہا ہے۔ہمیں پاکستانی میڈیا کی تعریف کرنی چاہیے۔پاکستان سفارتی طور پر تنہا نہیں۔ دسمبر 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا اس وقت وہاں 2002 میں عام انتخابات اور صدارتی انتخابات ہونے تھے اور یہی وہ وقت تھا جب نائن الیون کے بعد پاکستان میں مغربی سرحد سے دہشت گردی ملک میں داخل ہونا شروع ہوئی۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی ۔ یہ بات بھی بھارت کو قبول نہ تھی۔ بھارت میں دہشت گردی کے واقعات پر جب بھی ہم نے بات کرنا چاہی بھارت نے ہمارا ہاتھ جھٹک دیا۔ خطہ میں امن کےلئے جب بھی ہم مذاکرات کی بات کرتے تھے تو بھارت کہتا تھا کہ دہشت گری پر بات کریں اور وزیر اعظم نے یہ بھی پیش کش کی کہ ہم اس پر بھی بات کرنے کو تیار ہیں۔ اسی لئے ترجمان پاک فوج نے بھارت کو واضح پیغام دیا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ آپ حکومت کی امن کی پیشکش پر ذمہ داری سے غور کریں گے اور خطے کی ترقی و امن میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ ہم 21 ویں صدی میں ہیں۔ ہمارے پاس بہت سے چیلنجز ہیں ۔ عوام کو تعلیم صحت اور جینے کا حق حاصل ہے۔ بھارت آنے والی نسلوں سے اپنی بے وقوفی کے ذریعے یہ حق نہ چھینے۔ پاکستان اور پاکستانیت سے دشمنی کریں انسانیت سے مت کریں۔ آپ امن اور ترقی چاہتے ہیں توخطے کے امن کو تباہ نہ کریں اور ترقی کے موقع کو مت گنوائیں۔ اگر ہماری یہ سوچ ہے کہ خطے نے مل کر ترقی کرنا ہے تو ہم جنگ کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتے۔
کالم
پلوامہ طرز کا ایک اور ڈرامہ رچانے کی بھارتی سازش
- by Daily Pakistan
- فروری 13, 2023
- 0 Comments
- Less than a minute
- 896 Views
- 2 سال ago