خاص خبریں

پیٹرولیم مصنوعات حکومت کیلئے کمائی کا بڑا ذریعہ ، بھاری ٹیکس وصولی کا انکشاف

پیٹرولیم مصنوعات حکومت کیلئے کمائی کا بڑا ذریعہ ، بھاری ٹیکس وصولی کا انکشاف

اسلام آباد:ملک میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کی وجوہات سامنے آ گئیں۔ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کو اپنی کمائی کا بڑا ذریعہ بنالیا ہے۔عوام سے پیٹرول پر198روپے،ڈیزل پر 113روپے71پیسے فی لیٹر ٹیکس وصولی کا انکشاف ہوا ہے۔ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 216 روپے68پیسے بنتی ہے جب کہ پیٹرول پر فی لیٹر 198 روپے ایک پیسے ٹیکسز عائد ہیں ۔
پیٹرول پر 29 روپے فی لیٹر پریمیم عائد ہے ۔ فی بیرل پریمیم 17 ڈالر 41 سینٹ ہے جو 29 روپے فی لیٹر بنتاہے ۔ اسی طرح پیٹرول پر 117 روپے 41 پیسے فی لیٹر لیوی عائد ہے اور اس کے علاوہ فی لیٹر 22 روپے 74 پیسے کسٹم ڈیوٹی شامل ہے ۔
علاوہ ازیں پیٹرول پر 8 روپے 64 پیسے تیل کمپنیوں کا منافع، 7 روپے 87 پیسے ڈسٹری بیوشن مارجن بھی عائد ہے ۔ پیٹرول پر 7 روپے 25 پیسے فی لیٹر فریٹ مارجن، 2 روپے 50 پیسے کلائمٹ سپورٹ لیوی شامل ہے ۔ اسی طرح پیٹرول پہ فی لیٹر 2 روپے 69پیسے ایکسچینج ایڈجسٹمنٹ بھی شامل کی گئی ہے۔اسی طرح ڈیزل پر فی لیٹر 113 روپے 71 پیسے ٹیکسز شامل ہیں ۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر تقریباً 301 روپے بنتی ہے ۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 42 روپے 60 پیسے لیوی، 2 روپے 50 پیسے کلائمٹ سپورٹ لیوی شامل ہے ۔ اس کے علاوہ 32 روپے 48 پیسے کسٹم ڈیوٹی، 8 روپے 91 پیسے سمندری نقصان کی ڈیوٹی شامل ہے۔ علاوہ ازیں 2روپے 95 پیسے ایکسچینج ایڈجسٹمنٹ، 7 روپے 76 روپے سے فریٹ مارجن عائد ہے ۔ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 7روپے 87پیسے ڈسٹری بیوشن مارجن اور 8روپے 64 پیسے تیل کمپنیوں کا منافع عائد ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 20 ڈالر فی بیرل پریمیم الگ سے شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق پیٹرول پر حکومت 143روپے 63پیسے فی لیٹر ،آئل ڈسٹری بیوشن کمپنیاں 54روپے 38پیسے صارفین سے ٹیکس وصول کر رہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے