حلقہ احباب سردار خان نیازی کالم

چیئرمین نیب کی توسیع ہو سکتی ہے یا نہیں ، ہونا چاہئے یا نہیں !

 

اس وقت ملک میں ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے ،جو کہ نئے چیئرمین نیب کی تعیناتی کے حوالے سے ہے ، بات یہ ہے کہ چیئرمین نیب کی توسیع ہو سکتی ہے یا نہیں ،ہونا چاہئے یا نہیں، اس پر اپوزیشن یہ کہتی ہے کہ حکومت اس سلسلے میں اپنی منشاء یا ذاتی پسند نہ پسند پر عمل نہیں کر سکتی ، قانونی طور پر وہ اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کرنے کیلئے مجبور ہے ، اب یہ ایک چومکھی سیاسی جنگ کا نیا باب کھل گیا ہے،مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ یہ 13دسمبر 2005 کی بات ہے جب میں نے سب سے پہلے مسنگ پرسن کے حوالے سے اپنے اخبار ڈیلی دی پیٹریاٹ اور روزنامہ پاکستان میں خبر شائع کی تھی اس پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے از خود نوٹس لیا اور آج بھی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر کیس نمبر H.R.C. NO.965/05موجود ہے ، میری اس خبر کے بعد سینکڑوں گمشدہ لوگ برآمد کیے گئے ، اس سلسلے میں میں نے بہت ساری صعوبتیں بھی برداشت کیں لیکن گمشدہ افراد کے لواحقین کی دعائوں نے ہمیشہ میرے اوپر سایہ رکھا ، جب مسنگ پرسن کا کیس چل رہا تھا تو اسے بینچ نمبر 2سنتا تھا اور اس وقت کے چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال اس بینچ کے سربراہ تھے ، میں اس لحاظ سے انہیں کافی زیادہ جانتا ہوں کیونکہ مسنگ پرسن کے کیس میں خود میں ان پرسن پیش ہوتا تھا اب بھی جسٹس (ر)جاوید اقبال مسنگ پرسنز کے معاملات دیکھ رہے ہیں اور اب بھی ان سے میری ملاقاتیں رہتی ہیں، وہ نہایت ایماندار ، دیانتدار اور محنتی افسر ہیں، انہوں نے جتنا بھی کام کیا وہ اپنی مثال آپ ہے ، میں ایک مختصر سا خاکہ یہاں پیش کرنا چاہوں گا جو کہ اکتوبر 2017سے 31اگست 2021تک نیب کی پرفارمنس کا ہے،2017میں ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ نیب نے 8.887بلین 2018میں 28.885بلین 2019میں 141.542بلین 2020میں 323.299بلین 31اگست 2021تک 36.322بلین ریکور کیے اس طرح 2017سے لیکر 31اگست 2021تک 538.935بلین کی ریکوری کی گئی جو کہ ایک تاریخی ریکارڈ ہے ،ان ریکوریوں کے حوالے سے جو بتایا گیا اگر ایسی ہیں تو یقینی طور پر قابل ستائش ہیں، اس وقت نیب کے زیر تحت 1274ریفرنس احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، ان ریفرنسز میں تقریباً 1335.019بلین کی ریکوریاں ہونی ہیں، جبکہ احتساب عدالتوں سے سزاء کا تناسب 66.8 %ہے، پھر نیب اقوام متحدہ کے تحت کرپشن کیخلاف فوکل آرگنائزیشن ہے، نیب سارک انٹی کرپشن فورم کا بھی چیئرمین ہے ، اہم بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں نیب سب سے پہلی آرگنائزیشن ہے جس کے ساتھ چین نے پاکستان میں سی پیک منصوبے کی نگرانی کیلئے ایم او یو پر دستخط کیے ہیں، گیلپ سروے کے مطابق 59فیصد لوگوں کا نیب پر اعتماد ہے کہ اس نے کرپشن کے خاتمے کیلئے کلیدی کردار ادا کیا ہے، نیز بین الاقوامی سطح پر بھی نیب کی کارکردگی کو سراہا گیا جن آرگنائزیشنز نے سراہا ان میں ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل، ورلڈ اکنامک فورم، گلوبل پیس، پلڈاٹ وغیرہ شامل ہیں،اب حکومت نیا چیئرمین بھی لے آتی ہے تو یہ بات روز رشن کی طرح عیاں ہے کہ نئے آنیوالے کو پھر سے محنت کرنا پڑے گی جبکہ موجودہ چیئرمین کرپشن کے حوالے سے جو کیسز دیکھ رہے ہیں انہیں منطقی انجام تک جلد پہنچا لیں گے، اب اپوزیشن کی جانب سے یہ بھی الزامات سامنے آرہے ہیں کہ حکومت سیاسی بلیک میلنگ کیلئے نیب کو استعمال کررہی ہے تو اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پیپلز پارٹی ہو یا ن لیگ اس کے حوالے سے جو بھی معلومات ہیں وہ نیب کو ایف آئی اے ، آئی بی یا دیگر متعلقہ ایجنسیاں فراہم کرتی ہیں، حکومت کے ہوتے ہوئے تو حکومت کیخلاف معاملات سامنے آنے میں مشکلات ہوتی ہیں، اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہمارے ادارے آزاد ہیں اس میں جو بھی کرپشن کرتا ہے وہ لازمی قانون و انصاف کے کٹہرے میں آتا ہے ، لامحالہ جب حکومت چلی جاتی ہے تو اس کا ریکارڈ آسانی سے میسر ہوتاہے ، پھر حکومت خود بھی اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کیخلاف متحرک ہے ، اب یہاں پھر سوال یہ ہی پیدا ہوتا ہے کہ توسیع ہونا چاہئے کہ نہیں، ہو سکتی ہے یانہیں، میری اس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ جو بھی فیصلہ ہو وہ باہمی اتفاق اور ملک و قوم کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے ہونا چاہئے ، کیونکہ کوئی بھی غلط فیصلہ ملک کو نقصان پہنچا سکتا ہے ، وقت کے ساتھ ساتھ معاملات کو آگے لیکر چلنا ہوتا ہے ، دیکھنا ہوتا ہے کہ اس وقت حالات کیا تقاضہ کر رہے ہیں، پھر چونکہ میڈیا کا ہاتھ حالات کی نبض پر ہوتا ہے ، وہ اچھی طرح دیکھ اور سمجھ سکتا ہے کہ اس وقت کس طرح مسائل حل ہو سکتے ہیں، یہاں حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلے ، بلاوجہ ملاکھڑا کرنے سے کچھ حاصل وصول نہیں ہوتا اپوزیشن کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے تئیں ملکی مفاد کو دیکھ کر قدم بڑھائے ، حکومت ہو یا اپوزیشن دونوں کو بولتے ہوئے لفظوں کا چنائو انتہائی دیکھ بھال کے کرنا چاہئے کیونکہ تلوار کا لگا ہوا گھائو تو بھر جاتا ہے لیکن زبان کاگھائو کبھی بھی نہیں بھرتا ، سیاسی تیر اندازی ضرور کرنا چاہئے لیکن ذاتیات سے ہٹ کر ، لامحالہ چیئرمین نیب کے حوالے سے حکومت نے کوئی نہ کوئی فیصلہ لازمی کرنا ہے ، جب تک سب ایک پلیٹ فارم پر جمع نہیں ہونگے اس وقت تک اسی طرح سیاسی چپلقش کھڑی رہے گی ، پھر اداروں کے ساتھ سینگ اَڑانا بھی کوئی مناسب طریقہ کار نہیں ، پہلے ہی الیکشن کمیشن کے حوالے سے مسائل درپیش ہیںِ اور یہ صرف زبان کے استعمال کا کمال ہے اس کو اگر آپ سوچ سمجھ کر استعمال کریں تو بہت سے معاملات حل ہو سکتے ہیں، پھر سیاست میں کوئی چیز بھی حرف آخر نہیں ہوتی ، بات پھر وہیں آکر ٹھہرتی ہے کہ چیئرمین نیب کے حوالے سے کون کون سے معاملات ہو سکتے ہیںیا نہیں ہو سکے ، ہونے چاہئیں یا نہیں ، اس مسئلے کو کیسے اور کیونکر ح ل ہونا چاہئے ، قانون و آئین کیا کہتا ہے ، حکومت کی کیا منشاء ہے ، اپوزیشن کی کیا خواہش ہے ، ان تمام چیزوںکو بالائے طاق رکھتے ہوئے اور آپسی چپقلش کو ختم کرتے ہوئے مسئلے کو حل کرنا چاہئے ، اس بات کو بھی سوفیصد یقینی بنانا ہو گا کہ فیصلے کرنے کے بعد ایک دوسرے پر الزام تراشی اور دروغ گوئی نہیں ہونا چاہئے ، ایسے اقدامات سے صرف اور صرف سیاسی انارکی پھیلتی ہے ، دشمن فائدہ اٹھاتا ہے ، جو بھی کوئی شخص اچھا کام کررہا ہے اس کو مزید موقع دینا چاہئے ، کیونکہ ممکن ہے کہ نیا آنے والا سیر کے بجائے سوا سیر ہو ،اور پھر اس کو تمام کام نئے سرے سے شروع کرنا پڑتے ہیں، اس پر بھی سیاست دانوں کے تحفظات آنا شروع ہوجاتے ہیں، ایک بات اور اہم ہے کہ کرپشن کا خاتمہ ہر صورت ہونا چاہئے ، ٹیکس ہر شخص کو دینا چاہئے ، کاروباری لوگوں میں خوف و ہراس نہیں ہونا چاہئے ، جو صاحب اختیار لوگ ہیں ان کے خلاف بھی ایکشن لازمی ہونا چاہئے کیونکہ اسی اقدام سے کرپشن کا خاتمہ ہو سکتا ہے ،نیک نیتی سے ہر شخص کو کام کرنا چاہئے ، ملکی مفاد مقدم اور ملکی ساکھ سب سے اول ترین ہونا چاہئے ، یہ وطن ہے تو ہم ہیں، ہم سب کو ملکر ملک کی ترقی اور استحکام کیلئے اقدامات اٹھانے ہونگے ،اگر کوئی دیانتدار آدمی ہے اور وہ محنت کررہا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کرنا چاہئے ۔

]]

>

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے