کالم

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی آواز سنو !

اردو شاعری کے طالب علموں کو آسمان تنک مزاج، ستم گر، بیک وقت آس امید کا مرکز اور ایک مسلسل امتحان لینے والے ممتحن کے طور پر دکھایا اور پڑھایا جاتا ہے۔ آسمان پر حکومت کرنے والا سورج اس کے دنوں کو چمکاتا ہے ،تو چاند اسکی راتوں کو دھیمے نور کی لہروں سے بھر دیتا ہے ۔ یوں زندگی کے دن رات چلتے رہتے ہیں۔ بلوچستان سے ایک بڑے اور غیر روایتی احتجاجی جلوس کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد تشریف لانے والی ایک بیٹی اور بہن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے اس بے تاثر اور نیم تاریک شہر میں ماہ تمام کے سارے رنگ بکھیر دیئے ہیں ۔ اس متحمل مزاج بیٹی کو اس شہر میں شدید مزاحمت اور مقاومت کا سامنا کرنا پڑا ، حالانکہ گھر آنے والی بیٹیوں کا مقابلہ نہیں کیا جاتا ،ان کی بات سنی جاتی ہے ، ان کو عزت دی جاتی ہے ، ان کی تواضع کی جاتی ہے ،لیکن ان بیٹیوں کو مارا گیا، شدید سردی کے موسم میں ٹھنڈا پانی پھینکا گیا ، ساتھی مرد و زن کو حوالہ زندان کیا گیا ، لیکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے جس طرح شہر اقتدار کی تاریکی کو چاند کی مہذب اور مدب روشنی سے منور کیا ہے ،اس نے مزاحمت اور احتجاج کی نئی جمالیات کو متعارف کرایا ہے۔ایسے میں چاہیئے تو یہ تھا کہ پاکستان کے نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ صوبہ بلوچستان سے اپنی نسبت ہی کی لاج رکھ لیتے اور بلوچستان سے اپنے گم شدہ عزیز و اقارب کی تلاش میں اسلام آباد آنے والی بیٹیوں ، بہنوں اور ننھی بچیوں کو وزیراعظم ہاو¿س میں بلا کر سب سے پہلے انہیں گرم چادریں پیش کرتے، رہائش کا بندوبست کرتے اور پھر ان بچیوں بیٹیوں کےساتھ فرش پر بیٹھ کر ان کی بات سنتے ۔وزیر اعظم چیئرمین سینٹ کو بھی بلا کر سامنے بٹھا سکتے تھے۔ صوبہ بلوچستان سے اپنی نسبت کے فوائد سمیٹنے والے سارے صحت مندوںکو اپنی بیٹیوں ، بہنوں اوربزرگ خواتین کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے تھا۔لیکن افسوس کہ نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے دو بیکار اور زاید از ضرورت وفاقی وزرا کی کمیٹی بنا کر مظاہرین سے مذاکرات کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔اس کمیٹی میں شامل مرتضی سولنگی،ن لیگ کے محبوب بیوروکریٹ فواد حسن فواد شامل تھے ۔ فواد حسن فواد کا تو کابینہ کا حصہ بننا الیکشن کمیشن آف پاکستان کی پیشانی پر ایک سوال کی طرح لٹکا ہوا ہے ۔ایسے میں صاف طور پر حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ ہو رہا ہے ۔یعنی یہ کہ حکومت مظاہرین بلوچستان کے مسئلے کو سلجھانے کی بجائے الجھانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔حکومت کی اس نالائقی سے بلوچستان اور وفاق کے تعلقات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔ملک کی سیکیورٹی کے ذمہ دار اداروں کو اس طرف سنجیدگی سے توجہ دینی چاہئے کیونکہ کسی بھی ناکامی یا بدمزگی کا الزام پھر سیکیورٹی اداروں پر ہی آ سکتا ہے لیکن یہ ادارے بھی اپنی رائے اور سمجھ بوجھ کے کنویں میں کسی قسم کی روشنی کی کرن کو گوارا نہیں کرتے۔ اس وفاق کو گھر آئی ان بلوچ بیٹیوں اور بہنوں سے عزت و احترام کے ساتھ پیش آنا چاہئے۔ اگر چند بلوچ بیٹیاں اور بہنیں اپنے گلے شکوے کے کر آئی ہیں تو ان کو پریس کلب اسلام آباد میں احتجاج کرنے کا موقع دیا جاتا۔ بلوچ وزیراعظم ،بلوچ چیئرمین سینٹ اور بلوچ چیف جسٹس ہوتے ہوئے ایسا کیوں ہوا۔ ان کے گلے دور کیے جائیں۔جن پر کوئی الزام ہو ان کو باقاعدہ وارنٹ گرفتاری کے ساتھ رجوع کیا جائے۔جن پر الزامات ثابت نہ ہو سکیں ،ان کو رہا کر کے ان بیٹیوں اور بہنوں کے حوالے کیا جائے۔ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ بلوچستان کے مسائل پراس طرح کے رویے سے پردہ نہیں ڈالا جا سکتا ۔ان مسائل کو بلوچوں کے اطمینان کے مطابق حل کیا جانا چاہیئے۔ ستم ظریف کا خیال ہے کہ اسلام آباد میں بلوچستان کے کوٹے پر جلیل القدر منصب، اعلی عہدے اور بے انت مراعات سے لطف اندواز ہونے والے نام نہاد بلوچ عمائدین ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی تحریک کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھ رہے ہیں۔یہ رویہ اور طرز عمل ناقابل قبول اور ناقابل برداشت ہے۔ فیصلہ سازوں کو بچپن سے نکل کر بلوغت میں اور حماقت سے نکل فراست کی اقلیم میں داخل ہونا پڑے گا۔ان بلوچ بیٹیوں سے کی گئی بدسلوکی ہم سب کے چہرے پر کالک تھوپ سکتی ہے۔ ان کی بات سنو، بات مانو اور دلجوئی کرو۔اگر ان کے گمشدہ بھائی ، بیٹے اور باپ مل جاتے ہیں تو ریاست کی توقیر میں اضافہ ہوگا ۔ یاد رکھنا چاہیے کہ اچھی ریاستیں اپنے شہریوں سے ہار کر اپنی جیت کا سامان پیدا کرتی ہیں۔یہ کون ذہنی معذور ہیں جو چند بچیوں سے ڈر کر اعصاب کھو بیٹھے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے