کالم

ڈوول ڈاکٹرائن سے فتنہ ہندوستان تک

اعتدال پسند مبصرین کے مطابق یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ بھارتی سازشیں حالیہ دنوں میں کینیڈا تک پھیل چکی ہیں ۔اسی تناظر میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دہائی کے دوران، بھارت نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور یہ عزائم 2014 میں اس وقت نمایاں ہوئے جب نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد ان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول نے سسٹرہ یونیورسٹی میں ایک تقریر کے دوران پاکستان کے خلاف جارحانہ حکمت عملی کی کھلم کھلاوکالت کی۔دوول نے واضح طور پر کہاتھا: ”اگر آپ ممبئی پر (حملہ) کریں گے، تو آپ بلوچستان کھو دیں گے۔” یہ بیان دراصل بھارت کی نئی پالیسی کی بنیاد بن گیا، جسے آج ‘ڈوول ڈاکٹرائن’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ واضھ رہے کہ اس پالیسی کے تحت پاکستان کو صرف ایک دشمن ملک نہیں بلکہ دہشتگردی کے مرکز کے طور پر پیش کیا گیا، اور جنگ کا میدان روایتی کے بجائے خفیہ، سائبر اور پراکسی نیٹ ورکس کی شکل اختیار کر گیا۔ایسے میںپاکستان نے بجا طور دوول کی تقریر کو بھارت کی خفیہ جنگ کا اعتراف قرار دیا۔ اس کے بعد پاکستان نے متعدد بار ایسے شواہد پیش کیے جن سے بھارت کی خفیہ ایجنسی ‘را’ کے بلوچستان، خیبرپختونخوا، اور گلگت بلتستان میں دہشتگرد تنظیموں کی مالی معاونت، اسلحہ فراہمی اور تربیت کا پتہ چلتا ہے۔واضح ہو کہ 2016 میں بھارتی نیوی کے افسر اور جاسوس کلبھوشن یادیو کی بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے گرفتاری نے بھارت کے ان عزائم کو بے نقاب کر دیا۔ یادیو نے تسلیم کیا کہ وہ ‘را’ کا ایجنٹ ہے اور پاکستان میں تخریب کاری کے کئی واقعات میں ملوث رہا۔ وہ ‘حسین مبارک پٹیل’ کے جعلی نام سے کام کر رہا تھا اور بلوچستان میں سکیورٹی تنصیبات، گیس پائپ لائنز اور اعلیٰ افسران کو نشانہ بنانے کے منصوبے بناتا تھا۔سنجیدہ حلقوں کے مطابق یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارت کی خفیہ جنگ کا ایک اہم پہلو پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) ہے، جو بھارتی پالیسی سازوں کی آنکھ میں کھٹکتا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق، 2015 میں ‘را’ نے سی پیک کو سبوتاژ کرنے کے لیے 500 ملین ڈالر کا ایک خصوصی آپریشن سیل قائم کیا، جو بھارتی وزیر اعظم کے دفتر کی نگرانی میں کام کرتا ہے۔ اس سیل نے بلوچستان میں دہشتگردوں کو تربیت، فنڈنگ اور اسلحہ فراہم کیا۔علاوہ ازیں’را’ نے افغانستان کے شہروں جلال آباد، قندھار، اور مزار شریف میں موجود بھارتی قونصل خانوں کے ذریعے یہ سرگرمیاں انجام دیں۔ یہ امر توجہ کا حامل ہے کہ ‘را’ کی مدد سے بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کو آپس میں جوڑا گیا، اور 2019 میں بلوچ ریجی آزادی سنگر (BRAS) نامی اتحاد وجود میں آیا۔ یہ اتحاد پاکستان کے اندر دہشتگرد کارروائیوں کے لیے سرگرم رہا اور جعفر ایکسپریس ٹرین حادثہ بھی اسی دہشتگردی کا حصہ تھا۔سفارتی مبصرین مطابق، 2020 میں ‘براس’ نے”آپریشن آس ریچ”کے تحت سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا اور 2018 میں کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملہ، 2019 میں گوادر کے ہوٹل پر حملہ، اور 2022 میں کراچی یونیورسٹی میں چینی شہریوں کو نشانہ بنانے والا خودکش دھماکہ انہی گروہوں کی کاروائیاں تھیں، جن کے تانے بانے ‘را’ سے جا ملتے ہیں۔’را’ نے نہ صرف بلوچ علیحدگی پسندوں کو سہولت فراہم کی، بلکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) سے بھی روابط قائم کیے۔ مستعندشواہد کے مطابق، بھارت نے افغانستان کی سابق انٹیلی جنس ایجنسی این ڈی ایس کے ساتھ مل کر مشترکہ سیل قائم کیے جو ٹی ٹی پی کو اسلحہ، مالی معاونت اور تربیت فراہم کرتے رہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ فروری 2022 میں پنجگور اور نوشکی میں ایف سی کیمپوں پر حملے، 2023 میں شمالی وزیرستان میں آئی ایس آئی افسر کی شہادت، اور 2025 میں جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ جیسے واقعات اسی دہشتگرد نیٹ ورک کا حصہ تھے۔یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ بھارتی میڈیا نے نہ صرف ان حملوں کو اجاگر کیا بلکہ حملہ آوروں کو ہیرو کے طور پر پیش کیا۔مبصرین نے مئی 2025 میں خضدار میں اسکول بس پر ہونے والے خودکش حملے کو بھی ‘را’ اور BLA کے اتحاد کا نتیجہ قرار دیا ہے۔اسی ضمن میںیہ امر قابل توجہ ہے کہ’را’ کی مالی معاونت میں کرپٹو کرنسی، اسمگلنگ، اور شیل کمپنیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے جیسے متعدد افغان شہری، جیسے حضرت علی عرف رمضان، کو کوئٹہ میں آئی ای ڈی حملوں کے لیے استعمال کیا گیا۔یاد رہے کہ بھارت کی پراکسی حکمت عملی نئی نہیںبلکہ 1971 میں مکتی باہنی کی مدد سے مشرقی پاکستان کو علیحدہ کروانا، اور سری لنکا میں تامل باغیوں کی حمایت اسی پالیسی کا حصہ رہے ہیں۔سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت بلوچستان کو ایک نیا مشرقی پاکستان بنانے کے خواب دیکھ رہا ہے، لیکن زمینی حقائق مختلف ہیں کیوں کہ بلوچستان کی آبادی، جغرافیہ، اور تاریخی سیاق و سباق مشرقی پاکستان سے مختلف ہیں، اور وہاں بھارت کا براہ راست زمینی رابطہ بھی نہیں۔پاکستان کے سابق مشیر قومی سلامتی معید یوسف کے مطابق، دوول ڈاکٹرائن کا مقصد بھارت کو خطے کا اجارہ دار بنانا ہے، جو نہ صرف خطرناک ہے بلکہ ناقابل عمل بھی۔لہذا، پاکستان کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر ‘را’ کی دہشتگرد سرگرمیوں کو بے نقاب کرے، سکیورٹی اداروں کی استعداد بڑھائے، اور بلوچستان میں عوامی حمایت کو مستحکم کرے تاکہ بھارتی خفیہ مداخلت کا مکمل طور پر قلع قمع کیا جا سکے۔مبصرین کے بقول یہ پراکسی جنگ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے ،لہذاعالمی برادری کو بھی بھارت کی ان حرکتوں کا نوٹس لینا چاہیے تاکہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن قائم ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے