اداریہ کالم

کابل دہشتگردی، امریکی کانگریشنل ریسرچ سروس کی رپورٹ

idaria

دو روز قبل کابل میں پاکستانی سفارت خانے پر دہشت گرد کا حملہ ہوا ۔کابل میں پاکستانی سفارتخانے پرہونے والا حملہ جمعہ کے روز ہوا جس میں سفارتی مشن کے ناظم الامور عبید الرحمن نظامانی کو نشانہ بنایا گیا، تاہم وہ محفوظ رہے لیکن ان کا محافظ شدید زخمی ہو گیا۔اس ضمن میں پاکستان نے سخت نوٹس لیا،تاہم دعش کے دعوے کے بعد پاکستان کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔اب دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ دہشت گرد گروپ داعش کی جانب سے کابل میں پاکستانی سفارت خانے پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کی رپورٹس کے حقائق کی تصدیق کی جا رہی ہے جب کہ دوسری جانب امریکی کانگریس کو دی گئی ایک سرکاری رپورٹ میں طالبان کی داعش کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے متعلق شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق کانگریشنل ریسرچ سروس کی جانب سے رواں ہفتے کانگریس کو بھیجی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی امور کے ماہرین اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے کہ طالبان بغیر کسی بیرونی امداد کے اپنی نام نہاد صلاحیت کے بل بوتے پر داعش سے نمٹنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان کے لیے ایک اور بڑا اور زیادہ طاقتور مسلح ممکنہ خطرہ داعش سے منسلک گروپ اسلامک اسٹیٹ خراسان ہے جو کہ طالبان کا دیرینہ مخالف ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتاتا گیا ہے کہ داعش خراسان 2015 میں اپنے قیام کے بعد سے طالبان کی مخالف رہی ہے، داعش خراسان طالبان کو افغانستان کی حد تک قوم پرست سیاست کرنے والا گروہ قرار دیتی ہے اور عالمی خلافت کے داعش کے عالمی تصور کا مخالف سمجھتی ہے۔ اگست 2021میں طالبان کے کابل میں اقتدار میں آنے کے بعد طالبان کی مشترکہ کارروائیوں کے باوجود 4ہزار سے زیادہ جنگجو اس گروپ میںشامل ہو چکے ہیں اور گروپ نے 2022کے دوران افغانستان کے اندر کئی بڑے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔کانگریشنل ریسرچ سروس بنیادی طور پر واشنگٹن میں موجود کانگریسی تھنک ٹینک ہے جو کانگریس کی کمیٹیوں، ایوان اور سینیٹ دونوں کے اراکین کے ماتحت اور اس کی ہدایت پر کام کرتا ہے۔ ریسرچ رپورٹ میں اس بات کا بھی جائزہ گیا ہے کہ پڑوس میں واقع ریاستوں کے علاقائی عوامل و عناصر کس طرح افغانستان میں ہونے والی پیشرفت کو براہ راست متاثر کرتے ہیں اور کس طرح افغانستان میں ہونے والے واقعات کے پڑوسی ممالک کے لیے نتائج مرتب ہوتے ہیں۔اس جائزہ رپورٹ میں پاکستان کو افغانستان کا سب سے اہم پڑوسی ملک قرار دیا گیا جس نے کئی دہائیوں کے دوران افغان معاملات میں فعال کردار ادا کیا جبکہ بہت سے حوالوں سے وطن عزیز کو غیر مستحکم کرنے میں بھی کردار ادا کیا، اس کردار میں 1990 کی دہائی کے طالبان دور حکومت اور اس کے بعد ہونے والی شورش کے دوران طالبان کی حمایت کرنا بھی شامل ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں نے طالبان کے اقتدار میں آنے کو کم از کم ابتدائی طور پر پاکستان کی علاقائی پالیسی کی فتح قرار دیا، لیکن اس کے ساتھ ہی رپورٹ میں حالیہ اشاروں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ طالبان کی اقتدار میں واپسی پاکستان کے لیے چیلنجز کا باعث بن سکتی ہے۔رپورٹ میں خبر دار کیا گیا ہے کہ طالبان کی فتح پاکستان میں دہشت گرد گروپوں بشمول ٹی ٹی پی جو کہ امریکا کی جانب سے غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دی گئی ہے کے حوصلے کو بلندہوں گے اور ممکنہ طور پر ان کےلئے مادی فوائد میں اضافے کا بھی باعث بنے گا۔ اگست 2021کے بعد پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے خلاف کالعدم ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافہ ہوا جسکے بعد مبینہ طور پر پاکستانی حکومت نے افغان طالبان کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی جس کے بعد ہونے والا جنگ بندی کا معاہدہ بھی ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات پاکستان میں موجود 10 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی موجودگی کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کی مشترکہ طویل سرحد پر، طالبان اور پاک افواج کے درمیان2022 میں مختلف مواقع پر جھڑپیں بھی ہوچکی ہیں۔یہ واقعات دونوں ملکوں کے بہتر ہوتے روابط کو متاثر کرنے کی کوشش نظر آتے ہیں۔اگرچہ افغان حکومت نے واضح کیا ہے کہ سفارتی مشن کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے لیکن افغان حکومت کا یہ ردعمل کمزورہے اور اپنی ناکامی کا اعتراف بھی ہے۔امید ہے کہ متعلقہ موجودہ افغان حکام ان یقین دہانیوں کی جلد تکمیل کےلئے قول و فعل کے تضاد کے چنگل سے باہر نکل کر عملی اقدامات کی سبیل کریں گے۔اس دہشت گرد کارروائی کا سب سے زیادہ قابل توجہ پہلو ٹائمنگ ہے جس کا مقصد دونوں برادر ملکوں کے بہتر ہوتے باہمی راوبط کو متاثر کرنے کی کوشش نظر آتا ہے۔
2023 کے آخر تک پولیوفری پاکستان کا مژدہ جاں فزائ
پاکستان ان ممالک کی فہرست میں چلا آرہا ہے جہاں پولیو نے بہت تیزی سے پنجے گاڑے مگر خو آئند امر یہ ہے کہ پاکستان نے اس کے خلاف بروقت جنگ شروع کر دی،اگرچہ یہ جنگ کافی طویل ثابت ہوئی ہے تاہم اب ایک حوصلہ اطلاع سامنے آئی ہے۔اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف)نے کہا ہے کہ پاکستان میں پولیو پروگرام دوبارہ پٹری پر آ گیا ہے اور امید ہے کہ اس کے پھیلاو¿ پر قابو پانے کے لیے کیے گئے موثر اقدامات کے بعد 2023کے آخر تک پاکستان سے مستقل معذوری کا سبب بننے والی اس بیماری کا خاتمہ ہو جائے گا۔ یونیسیف کے ریجنل ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا نے سرکاری خبر رساں ادرے کے ساتھ خصوصی
انٹرویو میں کہا کہ حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک میں خطرناک وائرس اب قابو میں ہے۔انہوں نے 3 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ ہیلتھ ورکرز کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ 2023 میں وائلڈ پولیو وائرس کے پھیلاو¿ کو روکنے کے لیے جاری پروگرام دوبارہ ٹریک پر آ گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان آج پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے ایک سال قبل کی نسبت بہت بہتر پوزیشن میں ہے، تاہم کچھ ایسے چیلنجز ہیں جو وائرس کے مکمل خاتمے کی کوششوں میں رکاوٹ ہیں،پاکستان کے بعض علاقوں میں پولیو اور ہیلتھ ورکرز پر حملوں پر تشویش کا اظہار کیا اور ساتھ ہی پولیو ٹیموں کی ہمت اور بہادری کو سراہا۔خطرناک وائرس پر قابو پانے کی راہ میں درپیش چیلنجوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پے درپے خشک سالی، ہیٹ ویو، سیلاب، پرتشدد اور دہشت گردی کی کارروائیوں نے پاکستان میں لاکھوں بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے، انہوں نے کہا کہ حالیہ تباہ کن سیلاب نے بالخصوص ان اضلاع میں اہم مراکز صحت کو تباہ کر دیا ہے جہاں تاریخی طور پر پولیو وائرس سب سے زیادہ پایا جاتا ہے اور اس نے صحت سے متعلق خطرات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 110موبائل ہیلتھ ٹیمیں بچوں، نوجوانوں اور خواتین کو صحت کی اہم خدمات فراہم کر رہی ہیں اور یونیسیف سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 5 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے قومی سطح پر چلنے والی خسرہ اور روبیلا ویکسینیشن مہم میں بھی مدد کر رہا ہے۔ موسم سرما کے آغاز میں شمالی علاقوں میں یونیسیف کی سرگرمیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 12 سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے 16 ہزار گرم ملبوسات خریدے گئے ہیں جنہیں بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت۔ بلتستان کے برفباری والے علاقوں میں تقسیم کے لیے روانہ کیا جا رہا ہے جبکہ خیبر پختونخوااور بلوچستان میں تقریبا 15 ہزار کمبل تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے