کالم

کرکٹ کی پچ اور سیاست کے مہیب سائے

تاریخِ عالم اس حقیقت کی شاہد ہے کہ کھیل محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ منجمد سفارتی برف پگھلانے اور ریاستوں کے مابین کھچی ہوئی تناؤ کی دیواروں کو گرانے کا ایک موثر استعارہ بھی رہے ہیں۔ 1970 کی دہائی میں ٹیبل ٹینس کے ننھے سے گیند نے امریکہ اور چین کے درمیان عشروں سے جمی برف کو پگھلا کر پنگ پانگ ڈپلومیسی کی وہ بنیاد رکھی جس نے عالمی سیاست کا رخ بدل دیا۔ اسی طرح سیئول اولمپکس نے دیوارِ برلن کے گرنے اور سرد جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم سنگِ میل کا کردار ادا کیا۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ نہایت بھیانک ہے۔ جب بھی کھیل کے میدان کو سیاسی انتقام اور ریاستی دشمنیوں کے لیے تختہ مشق بنایا گیا، اس کے نتائج ہمیشہ تعمیر کے بجائے تخریب کی صورت میں نکلے۔ 1969کی فٹ بال جنگ اس کی ایک لرزہ خیز مثال ہے جہاں ہنڈوراس اور ایل سلواڈور کے درمیان فٹ بال میچوں نے سرحدوں پر وہ آگ بھڑکائی جس میں ہزاروں معصوم جانیں لقمہ اجل بن گئیں۔ 1956کے میلبورن اولمپکس میں ہنگری اور سوویت یونین کے درمیان واٹر پولو کا مقابلہ خون آلود پانی کے اس المیے میں تبدیل ہوا جس نے ثابت کر دیا کہ جب سیاسی نفرتیں کھیل کے تقدس میں سرایت کر جائیں تو کھلاڑیوں کے جذبے وحشت میں بدل جاتے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں کرکٹ کی مقبولیت کسی بھی دوسرے کھیل سے کہیں زیادہ، بلکہ دیوانگی کی حد تک ہے۔ پاکستان میں یہ محض ایک کھیل نہیں بلکہ قومی حمیت اور عوامی جذبات کا ترجمان ہے، تو بھارت میں اسے ایک مذہب کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ لیکن ستم ظریفی دیکھئے کہ اسی عوامی جنون کو حکمرانوں نے اکثر اپنے سیاسی مفادات اور قوم پرستی کے پرچار کیلئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سیاست دانوں کے بوٹوں کی دھمک کرکٹ کی پچ پر سنائی دی اور کھیل کو جغرافیائی تنازعات کی بھینٹ چڑھایا گیا، کھیل کی ساکھ اور تماشائیوں کا جوش و خروش دونوں ہی لہولہان ہوئے۔برصغیر میں کرکٹ اور سیاست کا یہ رشتہ ہمیشہ سے ہی تلاطم خیز رہا ہے، اور اس اتار چڑھا میں پاکستان نے جو قیمت ادا کی ہے وہ شاید ہی کسی اور قوم کے حصے میں آئی ہو۔ کبھی شیو سینا جیسے انتہا پسندوں نے ممبئی اور دہلی کی پچیں اکھاڑ کر کھیل کا راستہ روکا، تو کبھی ممبئی حملوں کے ملبے تلے دو طرفہ کرکٹ کی ایسی قبر کھودی گئی کہ 2026تک اس پر خاموشی کی چادر تنی ہوئی ہے۔ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر حملے نے ملک کے اسٹیڈیمز کو ایک دہائی تک” گھوسٹ ٹاؤن ”کی وحشت میں مبتلا رکھا۔ 2021میں نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی عین وقت پر دستبرداری نے یہ حقیقت آشکار کر دی کہ عالمی طاقتیں کھیل کو ایک سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتیں۔ حالیہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026کا بحران اس سلسلے کی تازہ ترین اور بھیانک کڑی ہے۔ بنگلہ دیش کی دستبرداری اور پاکستان کا بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا حکومتی فیصلہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اب انتظامی سطح پر سیاسی مہروں نے کھیل کو یرغمال بنا لیا ہے۔ جب ایک ورلڈ کپ میچ واک اوور کی نذر ہوتا ہے تو صرف پوائنٹس کا ضیاع نہیں ہوتا، بلکہ ان لاکھوں شائقین کے خواب کرچی کرچی ہو جاتے ہیں جو کھیل کو امن اور بھائی چارے کا پیامبر سمجھتے تھے۔کرکٹ کی تاریخ اس تلخ حقیقت کا نوحہ پیش کرتی ہے کہ جب بھی میدانِ عمل کو ریاستی احکامات یا ڈالرز کی چمک کے تابع کیا گیا، اس کا خمیازہ صرف کھیل اور شائقین کو ہی بھگتنا پڑا۔ ستر کی دہائی میں جنوبی افریقہ کے نسلی امتیاز کے خلاف بائیکاٹ کی تحریک کے دوران کھلاڑیوں کو بھاری رقوم کے عوض باغی دوروں پر اکسانا، اس رسوائی کا پیش خیمہ تھا جہاں آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں کھیل کی خوبصورتی کو نگل گئیں۔ اسی طرح 2009 کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں جب برطانوی حکومت نے رابرٹ موگابے کی مخالفت میں زمبابوے کے کھلاڑیوں کو ویزے جاری کرنے سے انکار کیا، تو کھیل کا معیار بری طرح متاثر ہوا۔زمبابوے کی رضاکارانہ دستبرداری دراصل بین الاقوامی کھیلوں کی تنظیموں کی خود مختاری پر ایک ایسا سوالیہ نشان تھا جس کا جواب آج تک نہیں مل سکا۔اب وقت آگیا ہے کہ کرکٹ کو سیاست کے ایندھن کے طور پر استعمال کرنا بند کیا جائے۔ ایک طرف بھارت کا”بی سی سی آئی”اپنی مالیاتی برتری کے ذریعے آئی سی سی کی پالیسیوں کو موم کی ناک بنا رہا ہے، تو دوسری طرف پاکستان کرکٹ بورڈ کا کھیل کو غیر ضروری سیاسی و سماجی تنازعات سے جوڑنا اس کھیل کی روح کو زخمی کر رہا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف کھیل کی معیشت کے لیے زہرِ قاتل ہے بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے کھیلوں کے میدانوں کو نفرتوں کی آماجگاہ بنا رہا ہے۔ اگر آج ہم نے کھیل کو ریاستوں کی سرد جنگ سے الگ نہ کیا تو مستقبل میں ہمارے اسٹیڈیمز میں صرف خالی کرسیاں اور سیاسی نعروں کی گونج باقی رہ جائے گی۔کھیل کو کھیل رہنے دیں، اسے انا کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ جب پاک بھارت کرکٹ کو سفارتی یا مالیاتی حربے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تو کروڑوں دل اس سحر انگیز مقابلے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ کرکٹ کو آج ایک بار پھر اپنی کھوئی ہوئی روح تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ شاید یہ امید کرنا کہ کھیل اچانک ان تلخیوں کو مٹا دے گا جو سیاسی ایوانوں کی پیداوار ہیں، ایک معصومانہ سوچ لگے، لیکن فیصلہ سازوں نے ہمیں اس معصومیت میں پناہ لینے کے سوا راستہ ہی کیا دیا ہے؟ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جب سیاسی گرد بیٹھ جائے گی اور تماشائی اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے، تو ہم اربوں انسانوں کو اسی خطے میں ایک ساتھ رہنا ہے۔وقت کی پکار ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ایک خود مختار ادارے کے طور پر اپنا وجود ثابت کرے۔ کھیل کی پچ پر سیاسی بوٹوں کی دھمک اب ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔ آئی سی سی کو اب”فیفا”اور اولمپک کمیٹی”کی طرز پر ایسا آہنی ڈھانچہ اور سخت گیر قانون سازی کرنی ہوگی جو حکومتی مداخلت پر کسی بھی ملک کی رکنیت معطل کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کرے۔ فیفا نے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ فٹ بال فیڈریشنز میں سیاسی اثر و رسوخ کو برداشت نہیں کرتا، چاہے وہ کتنا ہی بڑا ملک کیوں نہ ہو۔ کرکٹ کو بھی اسی طرح کے فولادی ارادوں کی ضرورت ہے تاکہ قومی مفاد کے پردے میں کھیل کے عالمی کیلنڈر کو یرغمال نہ بنایا جا سکے۔ اگر آئی سی سی نے طاقتور بورڈز کی اجارہ داری اور سیاسی مداخلت کے خلاف عملی ڈھال تیار نہ کی، تو کرکٹ محض چند امیر ملکوں کی سیاسی جاگیر بن کر رہ جائے گی اور اس کا جادو ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے