ہر مسلمان کی آرزو اور تمنا ہوتی ہے کہ اسے زندگی میں کم از کم ایک بار اللہ تعالیٰ کے عظیم گھر کعبہ اور روضہ رسولﷺ کی حاضری نصیب ہو جائے مگر جاتا وہی ہے جسے وہ بلاتے ہیں۔
یقینا خوش قسمت ہے وہ جو اللہ کے بلاوے پر مال ، اولاد ، گھر ، وطن ، کاروبار اور اپنا راحت و سکون سب کچھ اللہ کی خوشنودی پر نچھاور کرتے ہوئے صرف دو سفید چادروں کا لباس احرام اور بھاری بھر گناہوں کی گٹھڑی لیے اس صدا کیساتھ اپنے آپ کو بارگاہ خداوندی میں بطور مجرم پیش کر دیتا ہے :لبیک اللھم لبیک۔حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں!تیرا کوئی شریک نہیں ،تیرے ہی لئے تعریفیں ہیں ،نعمتیں اور بادشاہت تیری ہے،تیرا کوئی شریک نہیں حاضر ہوں میرے اللہ ! میں حاضر ہوں۔
حرم پاک میں داخل ہوتے وقت بارگاہ خداوندی کے جاہ و جلال کے تصور سے انسان لرز جاتا ہے ، کانپتے ہاتھوں ، لڑکھڑاتے قدموں ، آنسووں کی لڑی میں نظریں جھکائے جب اللہ تعالی کے عظیم گھر کعبہ کے قریب پہنچتا ہے تو کیفیت کچھ یوں ہوتی ہے :
کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر کیا چیز ہے دنیا بھول گیا
یوں ہوش و خرد مفلوج ہوئے، دل ذوقِ تماشہ بھول گیا
بیت اللہ پر پہلی نظر پڑتے ہی کسی کو کسی کی ہوش نہیں رہتی سیاہ مخملی چادر میں لپٹے اللہ کے گھر پر اللہ کی تجلیات کا نور ہی نور اور ہر سوں رحمت خداوندی کی فوار کے خوبصورت مناظر اور اس وقت کی کیفیت حرف و بیان میں سمیٹی نہیں جا سکتی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اللہ اور بندے کے درمیان حائل تمام رکاوٹیں ختم ہو چکی ہیں بندہ رب کریم کے سامنے اپنے گناہوں کی گٹھڑی کھولتا اور پھرولتا ہے اور گناہوں کی طویل لسٹ کا اقرار کرتے ہوئے رو رو کر اللہ سے عرض کرتا ہے مانا میں نے بیشمار گناہ کیے ہیں پر مولا میرے گناہ تیری رحمت سے تو زیادہ نہیں تو رحیم بھی ہے رحمن بھی ہے میرے تمام گناہ معاف فرما یوں طواف زیارت کیساتھ ارکان حج کا آغاز ہوتا ہے۔
حج اسلام کا انتہائی اہم رکن ہے جو صاحب حیثیت پر فرض ہے جب حضرت ابراہیمؑ اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام بیت اللہ کی تعمیر کر چکے ،(اس سے قبل اور بعد میں بھی تعمیر کعبہ ہوتی رہی)تو آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ بیت اللہ کا حج کرنے پیدل اور دبلے اونٹوں پر دوردراز کی مسافت طے کر کے آئیں بحکم باری تعالی حضرت ابراہیم ؑنے ایک پتھر پر کھڑے ہو کر اعلان کیا”اے لوگو ، تحقیق تمھارے پروردگار نے تمھارے لیے گھر بنایا اور تم پر حج فرض کیا پس خدا کے حکم کی تعمیل کرو“یہ پتھر آج بھی مقام ابراہیم ؑپر موجود ہے جہاں حجاج کرام دو نوافل ادا کرتے ہیں۔
جس قدر حج ترک کرنے کی مذمت کی گئی ہے اسی قدر حج کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور گناہوں اور فسق و فجور سے پرہیز کیا تو وہ گناہوں سے پاک ہو کر اس طرح لوٹا جیسے اسے ماں نے گناہوں سے پاک جنم دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیاروں کی اداوں کی ادائیگی کو تاقیامت ارکان حج کا حصہ بنا دیا انکی ادائیگی کے بغیر حج مکمل نہیں ہوتا بیٹے حضرت اسماعیل ؑکی پیاس بجھانے کےلئے پانی کی تلاش میں صفا اور مروہ کے درمیان نوکیلے اور کھردرے پتھروں پر دیوانہ وار دوڑنے کی مائی حاجرہ کی ادا اللہ تعالیؑ کو اس قدر بھائی کہ حجاج کو تاقیامت صفا و مروہ کے ان حصوں پر دوڑنے کا حکم دے دیا آب زم زم کے ایک ایک قطرے کو جو فضیلت حاصل ہے وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسبت سے ہے اس پانی کی بھی کیا عجیب تاثیر ہے اسے پی کر برسوں کی تشنگی کو قرار آتا ہے ۔ عرفات میں مغرب کی نماز کا وقت ہو جانے کے باوجود مغرب کی نماز پڑھنے کی اجازت اس لیے نہیں کہ رسول خداﷺ نے عرفات نہیں مزدلفہ پہنچ کر نماز مغرب ادا کی محبوب کی اسی ادا کو اللہ تعالیٰ نے قانون بنا دیا جمرات جہاں شیطان نے حضرت ابراہیم کو ورغلانا چاہا وہاں حجاج اس عزم کیساتھ ابلیس لعین کو کنکریاں مارتے ہیں کہ وہ کبھی اسکے بہکاوے میں نہیں آئیں گے ، اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں حضرت ابراہیم ؑکی اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کو قربان کرنے کی ادا اللہ کو اس قدر پسند آئی کہ رہتی دنیا تک صاحب حیثیت مسلمانوں کو سنت ابراہیمی ؑکا حکم دے دیا جانوروں کی قربانی ہم اسی ارادے سے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کےلئے ہر وقت اور ہر طرح کی قربانی دینے کےلئے تیارہیں گویا فلسفہ حج بیت اللہ کی حاضری ، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا برملا اقرار اور اسکی بڑائی بیان کرنا اور اللہ تعالیٰ کے پیاروں کی اطاعت و فرمانبرداری اور حکم الہٰی کی بلاتاخیر بجا آوری جیسی اداوں کو تازہ کرنا ہے۔بیت اللہ کی حاضری اور ارکان حج کی ادائیگی سے حج تو مکمل ہوجاتا مگر مدینہ منورہ کی حاضری کے بغیر سفر حج ادھورا رہتا ہے کیونکہ مکہ مکرمہ کی حاضری سے حج کی تکمیل ہوتی ہے جبکہ مدینہ منورہ کی حاضری سے محبت رسول کی تکمیل ہوتی ہے ۔
مدینہ منورہ کی حدود شروع ہوتے ہی عاشقان رسول پر وجدانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے گنبد خضرا کو دیکھنے کے لیے بے تاب نگاہوں کی جب مسجد نبوی کے منارہ نور اور گنبد خضرہ پر پہلی نگاہ پڑتی ہے تو چہرہ خوشی کے آنسووں سے تر ہو جاتا ہے روضہ رسول کے دیدار کے لیے بے تاب نگاہیں ادب سے جھک جاتی ہیں مدینہ منورہ کے ذرے ذرے سے محبت کے پھول کھل اٹھتے ہیں وہ گنبد خضرہ جسے خوابوں میں دیکھنے کی تمنا تھی آج اسے آنکھوں کے سامنے پا کر عاشقان رسول کے دل خوشی سے مچل جاتے ہیں روضہ رسول پر حاضری کے روح پرور مناظر بھی قابل دید ہوتے ہیں روضہ مبارک کی جالیوں کے سامنے بارہ گاہ رسالت میں حاضری اور درودوسلام پیش کرتے وقت انسان پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے جس کا تعلق جسم سے نہیں روح سے ہے اس لیے اس روحانی کیفیت کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ تعالی ہم سب کو روضہ رسول کی بار بار حاضری نصیب فرمائے۔ فرمان رسولﷺ ہے ، جو شخص حج کو گیا اور میری زیارت نہ کی اس نے مجھ پر ظلم کیا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا ترجمہ : جس نے میری قبر کی زیارت کی اسکے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی ۔سنن دار قطنی ج2 ص278 )۔
کالم
کعبہ اور روضہ رسول کی حاضری کا بلاوا
- by web desk
- جون 8, 2024
- 0 Comments
- Less than a minute
- 1376 Views
- 2 سال ago

