کالم

کچھ علاج اس کابھی اے چارہ گراں ہے کہ نہےں ؟

سپرنٹنڈنٹ اڈےالہ جےل نے بھکارےوں کو جےل مےں رکھنے سے انکار کر دےا ۔خبر کے مطابق جےلر نے کہا ہے کہ جےل مےں قےدےوں کی گنجائش 2174ہے جبکہ سات ہزار سمائے ہوئے ہےں ۔لہذا اسلام آباد انتظامےہ مزےد بھکاری نہ بھجوائے ۔خبر کی تفصےل کچھ اس طرح ہے کہ اسلام آباد مےں ہزاروں بھکاری موجود ہےں ۔محسن نقوی صاحب نے اس پر نوٹس لےا اور پولےس نے بھکارےوں کی گرفتاری کا ےونٹ بنا دےا اور گرفتارےاں شروع کر دےں ۔بھکارےوں کی پہلی کھےپ پر ہی بحران پےدا ہو گےا ۔جےل مےں جگہ کی کمی کے کارن اڈےالہ جےل کے سپرنٹنڈنٹ نے پولےس کو لکھ کر بھجوا دےا کہ ہمارے پاس گنجائش نہےں ،ہماری طرف سے معذرت ہے ۔اس خط کے ساتھ ہی بھکارےوں کی گرفتاری کا سلسلہ بند ہو گےا ۔مےرے واجب عزت قارئےن ےوں تو وطن عزےز کے افراد کےا اس کی ہر حکومت کاسئہ گدائی پکڑنے پر مجبور رہی ۔اس کا ہر باشندہ اسی کاسئہ گدائی کا محتاج اور مسلسل اس کے بوجھ تلے دبا آ رہا ہے جس سے ہنوز چھٹکارے کی کوئی صورت دکھائی نہےں دےتی ۔تمام افراد قوم اور کاسئہ گدائی ہم رکاب ،نہ چھوٹنے اور نہ ہی ٹوٹنے والے رشتے مےں بندھے ہےں ۔بےرونی ممالک اور غےر ملکی ادارے جب تک خےرات اور قرض نہ دےں ملک کا معاشی لحاظ سے چلنا دشوار ہی نہےں ناممکن ہو جائے لےکن ےاد رکھنا چاہےے کہ صرف وہی افراد ،اقوام اور ممالک دنےا مےں باعزت زندگی گزار سکتے ہےں جو کاسئہ گدائی کو ہمےشہ ہمےشہ کےلئے خےر باد ہی نہےں کہتے بلکہ توڑ دےتے ہےں ۔تقرےباً دو دہائی قبل اخبارات مےں اےک خبر شائع ہوئی تھی کہ اٹلی مےں بھکارےوں کی تعلےم و تربےت کےلئے اےک انٹر نےشنل ےونےورسٹی کا قےام عمل مےں لاےا گےا ہے جس مےں خواہش مند افراد کےلئے بھےک مانگنے سے متعلق تعلےم و تربےت کا بندوبست کےا گےا ہے اور ےہ کہ اس مےں طلباءکو بھےک مانگنے کے جدےد اور سائنٹےفک نت نئے طرےقے سکھائے جائےں گے ۔اس خبر پر اےک معروف کالم نگار نے اس ےونےورسٹی کی فےکلٹی کو پےشکش کی تھی کہ اٹلی کی حکومت کو اس سلسلے مےں ماہرانہ خدمات کےلئے ہم سے رجوع کرنا چاہےے کےونکہ ہمارے ہاں ملک کے حکمران سے لےکر اےک ادنیٰ درجے کے شہری تک اس فن (کاسہ لےسی) مےں خاصی مہارت رکھتے ہےں ۔بہرحال اس خبر کو دو عشرہ سے زائد بےت چکا ہے ۔اگر واقعی ےہ ےونےورسٹی وجود مےں آ چکی ہے تو اب تک نہ جانے کتنے تربےت ےافتہ بھکارےوں کی کھےپ کی پاسنگ آﺅٹ کر چکی ہو گی اور ےہاں کے فارغ التحصےل نہ جانے کےسے کےسے مراتب پر براجمان ہو چکے ہوں گے اور اس پےشے کی کتنی خدمات انجام دے چکے ہوں گے ۔اس سلسلے مےں ہم بہت خوش قسمت ہےں کہ ہمارے ملک مےں بہت سے ادارے گداگری کے فروغ مےں انتہائی گداز دل رکھتے ہےں اور اس کےلئے انتہائی سازگار ماحول فراہم کرتے ہےں ۔ہمارے ہاں تو رمضان کا چاند نظر آتے ہی شہروں مےں گداگروں کی ےلغار ہو جاتی ہے اور وطن عزےز کے تمام چھوٹے بڑے شہروں مےں ہر طرف بھکارےوں کی فوج ظفر موج جلوہ فگاں دکھائی دےتی ہے ۔کسی کے ہاتھ مےں کاسئہ گدائی ہے تو کسی نے گلے مےں مالا پہنی ہوئی ہے ۔کوئی جسم پر پٹےاں لپےٹے زخمی دکھائی دےنے کی اداکاری کر رہا ہے تو کسی کے بازو پر پاسٹر چڑھا ہوا ہے ،کوئی ڈاکٹر کے تجوےز کردہ نسخے کی پرچےاں پکڑے ہوئے اپنے کو کےنسر جےسے خطرناک مرض کا شکار ثابت کرنے کی تگ ودو مےں ہے اور کوئی کسی دوسری خطرناک بےماری کے ہاتھوں انتہائی لاغری اور قرےب المرگ دکھائی دےنے کی کوشش مےں ہے ۔کوئی اچھے لباس مےں ملبوس بظاہر معزز آدمی جےب کٹنے کا بہانہ تراش رہا ہے اور کراےہ کےلئے ہاتھ پھےلا رہا ہے تو کوئی نشئی بھوک مٹانے کی آڑ مےں نشہ کےلئے بھےک کا طالب ہے ،کوئی اچھی بھلی خاتون ہو گی اور بچےوں کے بوجھ کی داستان الم سنا کر فرےاد کناں ہے تو کوئی جوانی مےں سہاگ لٹنے کےلئے نوحہ کناں ہے ،مقصد تمام کا صرف خےرات اور بھےک کی طلب ہے ۔ لرزہ خےز ،دل فگن اور درد ناک صداﺅں کےساتھ ہر دروازے پر کھڑے بھےس بدلائے ہوئے ےہ چہرے خےرات ےا بھےک دےنے پر مجبور کر دےں گے ۔وہی ان سے جان چھڑا سکتا ہے جو ان کے طور طرےقوں سے آگاہی رکھتا ہو اور اسی طرےقہ کو استعمال مےں لائے جس طرےقے سے وہ مانگنے کے عادی ہوتے ہےں ۔ےہ اپنی التجاﺅں کا اصرار جاری رکھتے ہےں اور آسانی سے نہےں ٹلتے ۔وہ افراد معاشرہ کی کمزوری کو سمجھتے ہےں اور بچوں کی جان کا واسطہ دےکر بھےک کے طلبگار ہوتے ہےں جس سے لوگوں کو شک و شبہ مےں الجھا دےتے ہےں ۔اس طرح کچھ دےکر ہی لوگ اپنی جان چھڑاتے ہےں ۔بھکاری نفسےاتی اور جذباتی طرےقے سے بلےک مےل کرنا جانتے ہےں اور ےہ کسی حد تک قےافہ شناس بھی ہوتے ہےں ۔اپنے اس کاروبار مےں اےک فن کار کی طرح پرفارمنس کرتے ہےں ۔ان کی بے بسی اور لاچارگی دےکھ کر معاشرے کا عام فرد امتحانی سوچ مےں پڑ جاتا ہے کہ ان مےں سے کوئی مستحق بھی ہے ےا سب اداکار اور فراڈےے ہےں ۔ہسپتالوں مےں ےہ مرےضوں کے لواحقےن کو مرےض کی صحت ےابی کےلئے دعائےں دےتے نظر آتے ہےں ۔شہروں مےں اشاروں کے نزدےک ٹرےفک رکنے پر گاڑےوں کے ارد گرد ان کا ہجوم دکھائی دےتا ہے ۔عورتےں ،جوان،بچے نابالغ اور بوڑھے سب بھےک مانگتے نظر آئےں گے ۔ان مےں سے کچھ اےسے بھی ہےں جو زبردستی اور للکار کر طلب کرتے ہےں اور دس بےس کو کچھ نہےں سمجھتے اور اےسے عجےب و غرےب رےمارکس پاس کرتے ہےں کہ انسانی عقل حےرت زدہ رہ جاتی ہے ۔دس بےس لے بھی لےں گے لےکن ان الفاظ کے ساتھ شرم ہے ان دےنے والوں اور ہم لےنے والوں کےلئے ۔اس اذےت ناک مسئلہ کا اےک پہلو ےہ بھی ہے کہ جب معصوم بچہ جس کے ہاتھ مےں کتاب ہونی چاہےے کسی کے آگے بھےک مانگنے کےلئے ہاتھ پھےلاتا ہے ۔بلا شک و شبہ تمام بچے اےک جےسے ہوتے ہےں ۔ان کی معصومےت ،بے چارگی اور پھول سے چہروں کو دےکھ کر ہر درد مند انسان ان کی پوری مدد کرتا ہے اور زےادہ سے زےادہ ان کی مدد کرنے کو دل چاہتا ہے لےکن اس خےال سے ضمےر کو جرم کا احساس بھی ہوتا ہے کہ ان بچوں کی حوصلہ افزائی کرنا جو کھےلنے سے پہلے ہی مسل دئےے گئے ہےں بہت شرمناک ہے اس سے ےہ معصوم تو تمام زندگی اس لعنت سے چھٹکارا حاصل نہےں کر سکےں گے ۔کچھ بھکاری خواتےن اپنے چار سے آٹھ ماہ کے بچوں کو گودوں مےں اٹھائے پھرتی ہےں اور مجبوراً ان کلےوں کو شدےد موسموں کی سختی برداشت کرنا پڑتی ہے ۔ان کا گناہ ےا جر م صرف ےہ ہے کہ وہ اےک بھکاری کے گھر مےں پےدا ہوئے۔ان بچوں کے متعلق خوش فہمی ےقےنا مبالغہ آمےزی ہے اور حقےقت سے اس کا دور کا تعلق بھی نہےں ۔اےک رپورٹ مےں انکشاف کےا گےا ہے کہ پاکستان مےں 3کروڑ سے زائد بھکاری ہےں ۔اےک اےسی بھکارن کی خبر ہے جو اندھی بن کر بھےک مانگتی تھی اور اب اس کا ملائےشےا مےں اپنا ہوٹل اور جائےداد ہے ۔بےشتر اہم پوائنٹ پر بھےک مانگنے والے پوش اےرےاز مےں رہتے ہےں اور عالےشان گاڑےوں مےں گھومتے ہےں ۔ےہ بھی اےک حقےقت ہے کہ ان مےں سے اکثر کی بھےک بھےک تک محدود رہے تو پھر بھی شاےد کوئی مضائقہ نہےں مگر مانگنے والے ےہ ہاتھ تو چوری اور ہےرا پھےری کے تمام گر بھی جانتے ہےں ۔گھروں مےں اکےلی عورتوں کو لوٹ لےنا ان کے بائےں ہاتھ کا کھےل ہے ۔کچھ عورتےں بھےک کے بہانے گھروں مےں داخل ہوتی ہےں ۔مرد اس وقت کام پر اور بچے سکولوں مےں گئے ہوتے ہےں ۔وہ گھرےلو خواتےن کو چرب زبانی سے بہلا پھسلا کر بھےک لےنے کے ساتھ اندر کے ماحول اور حالات کا مکمل جائزہ بھی لےتے ہےں اور ان کے گروہ کے ارکان رات کو وہاں ڈکےتی کر جاتے ہےں ۔قدےم ےونانی ےہ کہتے تھے کہ بھکارےوں کو ان کے دروازوں کے قرےب سے بھی نہےں گزرنا چاہےے ۔اس مےں شاےد ےہی مصلحت پنہاں ہو گی ۔ےہ بات طے ہے کہ پاکستان مےں بھےک مانگنے کی وجہ صرف غربت ہی نہےں بلکہ بطور پےشہ بھی ےہ رسم چل رہی ہے ۔ےہ اےک اہم کاروبار ہے ۔ہمارے سماج مےں عام فہم افراد تو اےک طرف ہمارے بعض حکمران اپنے اقتدار کے دوام کی خاطر پےروں فقےروں کی تلاش مےں رہے ۔ہمارے اےک سابقہ حکمران کے متعلق تو ےہاں تک ہے کہ وہ امور سلطنت کا ہر فےصلہ اپنی زوجہ سے حساب لگواکر کرتے تھے ۔تو ناظرےن دنےا مےں بھےک اس وقت شروع ہوئی جب ہاتھ پھےلانے پر عطےات دئےے جانے لگے اور تارےخ سے ےہ بات ثابت ہے کہ عطےات اور خےرات کا آغاز مذاہب اور عقےدوں کی وجہ سے ہوا ۔گداگری کی ےہ لعنت تےسری دنےا کے ممالک کا سنگےن مسئلہ ہے اگر اس سلسلے مےں درجہ بندی کی جائے تو ہماری پوزےشن ان ممالک مےں سر فہرست ہو گی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے