یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کا پاکستان کو بڑی علاقائی طاقت اور اہم شراکت دار قرار دینا اسلام آباد کی عالمی سطح پر بہترین حکمت کے ثبوت کے طور پر دیکھا جارہا ہے ، کاجا کلاس نے برملا طور پر پاکستان کے اس کردار کی ستائش کی جو وہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کروانے کیلئے تسلسل کے ساتھ ادا کررہا ہے ، اسلام آباد میں پاک یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے 8 ویں دور کے موقعہ پر کاجا کلاس نے افغانستان میں مسلح طالبان گروہ کی پالیسوں پر پاکستان کے دفاع کا حق بھی تسلیم کیا ، کاجا کلاس کا یہ بھی کہنا تھا کہ جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان سے انسانی حقوق اور مزدروں کے تحفظ کے حوالے سے عملی پیش رفت چاہتے ہیں، ماہرین کا ماننا ہے کہ یورپی یونین اور پاکستان کا اسٹریٹجک ڈائیلاگ فریقین کے درمیان تعلقات کی نئی جہتیں ہموار کرتے ہوئے مستقبل کے امکانات متعین کرگیا ہے۔یورپی یونین کی اعلی نمائندہ برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی اور یورپی کمیشن کی نائب صدر کی پاکستان آمد مستقبل قریب میں فریقین کے باہمی تعلقات میں مذید وسعت اور استحکام لاسکتا ہے ، شوائد یہ بھی ہیں کہ بھارت دیگر بدخواہوں کی خواہش اور کوشش تھی کہ یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان آٹھویں اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا انعقاد نہ ہو مگر باجوہ ایسا نہ ہوسکا, یوں باخبر سفارتی حلقوں میں اس دورے کو غیر معمولی اہمیت دی گی ، درحقیقت آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ ایسے وقت میں منعقد ہوا جب دنیا تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی، اقتصادی اور سلامتی کے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ اس پس منظر میں ایک طرف اگر پاکستان اپنی معیشت کو مستحکم بنانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کیلئے کوشاں ہے تو دوسری جانب یورپی یونین بھی جنوبی ایشیا میں قابل اعتماد شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے میں دلچسپی لے رہی ۔ تاریخی طور پر پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا آغاز 2012 میں ہوا ۔ درحقیقت اس پیش رفت کا بنیادی مقصد دونوں فریقوں کے درمیان سیاسی ہی نہیں بلکہ اقتصادی، تجارتی، سیکیورٹی اور علاقائی تعاون کو فروغ دینا تھا ۔ اس پیش رفت کے بعد پاکستان کی زمہ دارنہ داخلہ اور خارجہ پالیسوں کی وجہ سے وقت گزرنے کے ساتھ یہ مکالمہ دونوں شراکت داروں کے درمیان تعلقات کا اہم ترین پلیٹ فارم بن گیا۔ یاد رہے کہ اس کے بعد جون 2019 میں پاکستان اور یورپی یونین نے اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان پر دستخط کیے جس کے بعد باہمی تعاون کو مزید وسعت اور ادارہ جاتی شکل مل گی۔ نہیں بھولنا چاہے کہ یورپی یونین پاکستان کے سب سے اہم تجارتی شراکت داروں میں شمار ہوتی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے پاکستانی مصنوعات کا ایک بڑا حصہ یورپی منڈیوں میں برآمد کیا جا رہا ہے، پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد پاکستانی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ٹیکسٹائل، کھیلوں کا سامان، سرجیکل آلات اور دیگر مصنوعات نے یورپی منڈیوں میں اپنی مضبوط جگہ بنائی جس سے پاکستانی معیشت کو بڑی حد تک استحکام میسر آیا ، یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ یورپی یونین پاکستان میں تعلیم، صحت، گورننس، انسانی ترقی اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے مختلف منصوبوں میں معاونت فراہم کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی جانب سیشروع کیے گے پروگرامز پاکستانی طلبہ کے لیے اعلی تعلیم اور بین الاقوامی تجربے کے مواقع نمایاں ہیں ۔ کہا جارہا ہے کہ مستقبل میں ان پروگراموں کے مزید وسعت اختیار کرنے کے روشن امکانات موجود ہیں، بادی النظر میں یورپی یونین کیلئے بھی پاکستان ایک اہم ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔ درحقیقت جنوبی ایشیا میں پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اسے خطے کی سیاست اور معیشت میں کلیدی کردار کا حامل بناتا ہے۔ افغان طالبان کی انتہاپسندانہ پالیساں اسلام آباد کو علاقائی سلامتی، انسداد دہشت گردی اور غیر قانونی ہجرت جیسے معاملات میں یورپی یونین کے لیے اہم فریق کی حیثیت دی چکیں۔ بتایا جارہا ہے کہ کاجا کالاس کے دورہ پاکستان کے دوران اہم عہدیداروں سے ملاقاتوں میں یورپی یونین کے مستتقبل کے منصوبوں میں پاکستان کے کردار بھی زیر غور آیا ۔ ان اعلی سطحی ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی امن، افغانستان کی صورتحال، موسمیاتی تبدیلی اور سیکیورٹی تعاون جیسے اہم موضوعات زیر بحث رہے، مبصرین کے مطابق کاجا کالاس کا دورہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ یورپی یونین پاکستان کو خطے میں ایک اہم اور ذمہ دار شراکت دار کے طور پر دیکھتی ہے,موجودہ عالمی حالات میں دونوں فریقوں کے مفادات کئی شعبوں میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، جس کے باعث باہمی تعاون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے،بتایا گیا ہے کہ حالیہ ڈائیلاگ کے نتیجے میں تجارتی تعاون میں مزید اضافہ، سرمایہ کاری کے نئے مواقع اور مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔اس پس منظر میں آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ صرف ایک سفارتی ملاقات ہی نہیں کہی جاسکتی بلکہ اسے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد اور تعاون کی علامت کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر دونوں فریق اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھتے رہے تو آنیوالے برسوں میں نہ صرف اقتصادی اور تجارتی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ علاقائی استحکام، تعلیم، ٹیکنالوجی اور ترقی کے شعبوں میں بھی نئی راہیں کھلیں گی جن سے بجا طور پر پاکستان اور یورپی یونین یکساں مستفید ہوسکتے ہیں۔

