کالم

”یہودونصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہوسکتے”

رواں سال اکتوبرمیں گوگل انتظامیہ نے برسوں سے چلنے والا میرا” مشرقی اُفق” یو ٹیوب ٹی وی چینل بند کر دیا۔ برسوں سے میرامعمول تھا میں جو بھی کالم لکھتا، اخبارات کو بھیجنے کے ساتھ اس کی ویڈیو بنا کر اپنے یو ٹیوب ٹی وی چینل”مشرقی اُفق” اپ لوٹ کرتاتھا۔ کہا گیا کہ تم نے کیمونٹی کے خلاف مواد اب لوڈ کیا ہے۔ اس لیے تمہارا ٹی وی چینل بند کیا گیاہے۔ مواد کیا تھا فلسطینیوں کی نسل کشی پر اسرائیل سے احتجاج تھا ۔ اسرائیل نے ایک مہربانی کی ،اپنا حکومتی انگلش اخبار” دی ٹائمزآف اسرائیل” مجھے ای میل کرنا شروع کیا۔ شاید ان کے ذہن میں ہو کہ اس سے خبریں پڑھ کر میرا ذہن اسرائیل کی غزہ اور ویسٹ بنک میںسفاکیت، وحشت، درندگی کے حق اور مظلوم فلسطینیوں کے مخالف ہو جائے۔” الحمد اللہ میں ١٩٦٨ء سے جماعت اسلامی کا کارکن ہوں ۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی کی جماعت اسلامی کے کارکنوںکے بارے کہیں ان کی تحریر پڑھی تھی کہ” دشمن ان کے ذہن کو کھرچ کر بھی اسلام سے محبت نہیں نکال سکتا” اللہ کا شکر ہے۔ دی ٹائم آف اسرائیل اخبار کی شوگر کوٹیڈ خبروں کو اچھی طر ح سمجھ کر کالم نگاری کر رہاہوں۔اس سلسلے میں دو کتابیں ”اسرائیل پاکستان کا ازلی دشمن” اور”بھارت پاکستان کا ازلی دشمن” کے مسودے تیار ہیں جلد شائع کروںگا۔ اسکے علاوہ ٧اکتوبر ٢٠٢٣ء کے طوفان اقصیٰ فلسطین پر باقاعدگی سے ہر روز اسرائیل کے مظالم کو نظماتا رہتا ہوں۔ اس طرح فلسطین پرشاعری کی چار کتابیں تیار ہو گئیں ۔نمبر١۔ طوفان اقصیٰ فلسطین۔١۔اسماعیل ہنیہ کی شہادت تک۔ نمبر٢۔، طوفان اقصیٰ فلسطین۔٢ ۔ یحییٰ السنوار کی شہاد ت تک۔ نمبر٣۔ طوفان اقصیٰ فلسطین جنگ بندی تک۔شائع ہوئی ہیں، نمبر ٤ ۔ طوفان اقصیٰ فلسطین۔٤۔دوبارہ جنگ پرنٹنگ کے پروسس میں ہے۔ شائع شدہ شاعری کی کتابوں کو مارکیٹنگ کیلئے پورے پاکستان میں کچھ مکتبوں پر پہنچا چکا ہوں۔ ان کتب کی تقریب رونمائی بھی علمی دادبی تنظیم قلم کاروان اسلام آباد میں ہو چکی ہے۔ درجنوں اہل علم دوستوں کو تحفتاً بھی پیش کر چکا ہوں۔ یہ سلسلہ جاری ہے۔ان شاء اللہ، فلسطین کی آزادی تک، اسرائیل کی بربادی تک اور جب تک یہ جنگ جاری ہے اسرائیل کے مظالم کو نظما کر دنیا کے سامنے پیش کرتا رہوں گا۔ان کلمات کے بعد اصل مضمون کی طرف۔ دی ٹائز آف اسرائیل میں نیتن یاہو کا بیان پڑھا کہ ”اسرائیل دنیا میں تنہا ہوگیا” ہے ۔ اچھا ہوا کہ نیتن کو محسوس ہو گیا۔ اس کے کچھ ثبوت قارئین کی نذر کرتا ہوں۔یو ناٹیڈ نیشن جب نیتن تقریر کرنے آیا تومسلمان ملکوں سمیت حاضرین کی زیادہ تعداد نے نتین کی تقریر کا بائیکاٹ کیا۔ امریکا اور اس کے چند حمایتی موجود تھے ان میں کچھ مخالف بھی موجود تھے جنہوں نے ہوٹنگ بھی کی۔یو این کے اجلاس میں دنیا کے ١٩٠ میں سے ١٥٠ ملکوں نے فلسطین کے دوریاستی حل میں ووٹ دیا۔ اسس میں امریکہ بھی شامل ہے۔١٠ نے مخافت کی۔کچھ غیر حاضر تھے۔ دس ملکوں نے اسی ہی سیشن میں فلسطین کی آزاد ریاست کو تسلیم بھی کر لیا۔حسن اتفاق جس برطانیہ نے ١٩١٧ء میں بلفور معاہدے کے تحت یہودیوں کو فلسطین میں جگہ دی۔ اس نے فلسطین کو تسلیم کر کے لندن میں سفارت خانے کی بلڈنگ پر آزاد فلسطین ریاست کا جھنڈا لہرا دیا۔ اٹلی کی وزیر اعظم نے اسرائیل کی حمایت کی تو اس کے ملک میں اس کیخلاف زبردست مظاہرے ہوئے۔چوالیس ملکوںکے اکیاون صمود فلوٹیا بحری جہاز وں والوں نے جانوں کی پروا کیے بغیر اسرائیل کے خلاف نکل پڑے۔ انہیں معلوم ہے پہلے فلوٹیا پر بین الاقوامی سمندر میں اسرائیل نے حملہ کر انہیں شہید کیا تھا ۔ ایک اور فلوٹیلا کے لوگوں کو دہشت گردکہہ کر گرفتار کیا۔ ان کے جہازوں پر قبضہ کیا۔ اس چوالیس ملکوں اکیاون جہازوں کے فلوٹیلا کو بھی دہشت گرد کہہ کر دو دفعہ ڈرون حملے کر چکا ہے۔ پہلوں کی طرح یہ فلو ٹیلا بھی امن ہے۔ غزہ کا محاصرہ توڑنے، بھوکے اہل غزہ تک خوارک،پانی، زخمیوں کیلئے ادویات پہنچانے کیلئے سمندر کی بے رحم ڈبا دینے والی لہروں کامقابلہ کرتے ہوئے رواں دواں ہیں۔اس میں سارے معاشرے کی نمایدگی موجود ہے۔ قربان جائوں جنوبی افریقہ کی انسانیت پسند حکومت پر جس نے بین الاقوامی عدالت انصاف میں نیتن اور اس کے وزیر دفاع پر جنگی مجرموں کا مقدمہ دائر کر کے انصاف حاصل کیا۔ عدالت نے نیتن اور وزیر دفاع کو جنگی مجرم قرار دے ان کی گرفتاری کاحکم جاری کیا۔ دنیا کے کئی ملکوں نے جنگی مجرم نیتن کے ان کے ملکوں میں آنے پر گرفتار کرنا اعلان کیا۔ واشنگٹن کے میئر نے بھی نیتن کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔ دنیا کے کئی ملکوں نیتن کی فوج کے مجرم سپاہیوں کو اپنے اپنے ملکوں میں گرفتار کر مقدمہ چلایا جاتا ہے۔ حتی ٰکہ یو این کے اجلاس میں شرکت کیلئے آنے پر، گرفتاری کے ڈر سے، جنگی مجرم نیتن نے یورپ کی فضائی حدود سے گزر بھی نہیں سکا۔دنیا کا کون سا ملک ہے جس کی عوام نے فلسطین کی نسل کشی کے خلاف احتجاج نہ کیا ہو ۔لاکھوں مردوں نے احتجاجی جلوس اور ریلیاں نکالیں۔ خواتین نے احتجاجی جلوسوں اور ریلیوں میں ڈول پیٹ پیٹ کر عوام کو متوجہ کیا۔ معصوم بچے فلسطینی بچوں کے علامتی جنازے اُٹھائے احتجاج ریکارڈ کر ائے۔ جہاں تک کہ من موجی گانے بجانے والے اور آرٹسٹ بھی اپنے پروگروں میں عوام کو فلسطین پر اسرائیل کی طرف سے نسل کشی کیخلاف تیار کئے۔معاشرے کے ہر طبقے کے لوگ احتجاج میں شامل ہوئے۔ انسانیت پسند دنیا کے ہر طبقہ کی اسرائیل مخالفت فلسطینیوں کے خون اور قربانیوں کی وجہ سے ہے۔کولمبیاکے صدر نے تو امریکی فوج کو قاتل ٹرمپ کا غزہ والوں کوقتل کرنے کا حکم ماننے سے روکا، امریکہ نے اس کا ویزہ کنسل کر دیا۔اسرائیل کے عوام نیتن کیخلاف ہیں ۔ کہتے ہیں اسے اپنی حکومت بچانا ہے۔ یرغمالیوں کی کوئی فکر نہیں۔یرغمالیوں کے رشتہ دارشروع اور اسرا ئیل کے عام شہری بڑے بڑے جلوس نکال رہے ہیں۔دنیا اور خود اسرائیل کے اندر رہنے والے عام یہودی نیتن کے خلاف ہیں۔ کہتے ہیں ہم پر امن طور پر فلسطینیوں کیساتھ رہتے رہے ہیں۔ صہیونیوں نے اسرائیل میں افراتفری پھیلائی ہوئی ہے۔ فلسطینیوں پر نیتن کے مظالم کے ہم خلاف ہیں۔ ساری دنیا کے انصاب پسند عوام اس کے خلاف ہو گئے ہیں۔ صرف ایک امریکہ اسرائیل کا حامی ہے۔ نیتن کے دنیا میں تنہا ہونے کے یہ چند واقعات بیان کئے ہیں۔ قرآن شریف کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے یہودی قوم کوبار بار وعدہ خلافی، رشتہ داروں کو قتل کرنے، انبیا کو قتل کرنے، دنیا میںسودی کاروبار کرنے، فحاشی پھیلانے ، غارتگری کرنے پر انہیں دھتکارا ہے ۔ یہود نے باہر سے آکر فلسطین پرناجائز قبضہ کیا ہوا ہے۔ فلسطین فلسطینیوں کا وطن ہے اسرائیل کا نہیں۔اس وقت فلسطینی عوام پر تازہ مظالم ناقابل بیان ہیں۔ نوے فیصد غزہ کی عمارتوں کو کھنڈر بنانے، مساجد،تعلیمی اداروں، ہسپتالوں ، صحافیوں، اقوام متحدہ اور لوکل امدادی اداروں کو ملیا میٹ کرکے کھنڈر بنانے ، ستر ہزار نہتے شہریوں، جن میں بچوں عورتوںکی تعداد زیادہ ہے شہید اور دو لاکھ کو زخمی کرنے پر دنیا کے عوام نے بھی اسرائیل کو دھتکار ا ہے۔ دہشت گرد، جنگی مجرم نیتن یاہو، وزیر اعظم، ناجائز اسرائیل ریاست، صحیح کہتا ہے دھتکارا ہوا اسرائیل تنہا ہو گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے