چھبیس میں تو دنیا ختم ہے یہ ایک ایسا جملہ تھا جو ایک بھارتی مسلمان شہری کے منہ سے نکلا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے انٹرنیٹ پر وائرل ہو گیا۔ ایک یوٹیوبر کے سوال پر دو شہری آپس میں بحث کرتے نظر آئے۔ ان میں سے ایک شہری بی جے پی اور نریندر مودی کا حامی تھا اور ہندو دھرم سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ مسلمان شہری سے یہ کہتے دکھائی دیا کہ مودی کے بعد یوگی آدتیہ ناتھ بھارت کے وزیرِاعظم ہوں گے، پھر امیت شاہ آئیں گے، اس کے بعد ان کی آنے والی نسلیں حکومت سنبھالیں گی اور یوں 2050 تک بھارت میں بی جے پی کی حکمرانی برقرار رہے گی۔اس کے جواب میں مسلمان شہری نے مختصر مگر چونکا دینے والا جملہ کہا:چھبیس میں تو دنیا ختم ہے۔ ناظرین! یہ بات اگرچہ سوشل میڈیا پر ایک مذاق بن کر پھیل گئی، لیکن اس جملے نے مجھے خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کی خودنوشت میری زندگی اور جدوجہد میں درج ارضِ فلسطین اور بیت المقدس کے سفر کی روداد کی طرف متوجہ کر دیا۔باچا خان 1926میں حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جاتے ہیں اور وہاں سے انبیا کی سرزمین فلسطین کا سفر کرتے ہیں۔ وہ اس دورے کی روداد کچھ یوں بیان کرتے ہیں:طائف اور مدینہ منورہ میں قیام کے بعد ہم بیت المقدس پہنچے۔ یہاں مسجدِ اقصی کی سیڑھیوں سے گرنے کے باعث میری اہلیہ شدید زخمی ہو گئیں اور چند روز بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ ہم نے انہیں بیت المقدس ہی میں سپردِ خاک کر دیا۔ میں جب وہاں آباد زمینیں، باغات، محلات اور کاروباری مراکز دیکھتا تو معلوم ہوتا کہ یہ سب یہودیوں کی ملکیت ہیں، جبکہ جو کھیت اور علاقے غیر آباد تھے وہ مسلمانوں کے تھے۔ جب میں نے اس بارے میں فلسطینی مسلمانوں سے بات کی تو ہر ایک کا یہی جواب ہوتا کہ چودھویں صدی میں حضرت امام مہدی تشریف لائیں گے اور پھر سب کچھ ہمارے ہاتھ آ جائے گا۔باچا خان لکھتے ہیں کہ ایک منظم سازش کے تحت فلسطینی مسلمانوں کو یہ باور کرایا گیا تھا کہ یہودی چاہے جتنی ترقی کر لیں، تم نے محنت اور جدوجہد نہیں کرنی، بس امام مہدی کا انتظار کرنا ہے۔ نتیجتاً فلسطینی اپنی جائیدادیں یہودیوں کے ہاتھ فروخت کرتے رہے، کام کاج سے کنارہ کش ہو گئے اور صبح سے شام تک قہوہ خانوں اور ہوٹلوں میں بیٹھ کر حقے پیتے رہے، جبکہ یہودی دن بھر محنت کرتے اور شام کے وقت اپنے ہوٹلوں اور تفریح گاہوں کا رخ کرتے۔بیت المقدس تیرہ سو سال تک مسلمانوں کے زیرِ قبضہ رہا۔ عیسائیوں نے اسے واپس لینے کیلئے بارہ صلیبی جنگیں لڑیں، مگر ہر بار شکست ان کا مقدر بنی۔ بالآخر کرنل تھامس ایڈورڈ لارنس، المعروف لارنس آف عربیہ، نے اس خواب کو عملی جامہ پہنایا۔ عربی زبان پر عبور رکھنے والا یہ شخص مسلمان عالمِ دین کا لبادہ اوڑھ کر فتوے فروشی میں مہارت حاصل کر گیا۔ ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت مسلمانوں میں یہ ذہنیت پیدا کی گئی کہ دنیاوی زندگی ختم ہونے والی ہے، حضرت مہدی کا ظہور قریب ہے۔ مسلمان اسی سوچ میں مبتلا رہے اور آج تک فلسطین کے مسلمانوں پر زمین تنگ ہے۔ آئے روز بچے، بزرگ اور جوان شہید ہو رہے ہیں۔1926 کو اب سو سال ہو چکے ہیں، مگر عرب مسلمانوں کو جو مہدی کے ظہور کا سبق پڑھایا گیا تھا، وہ سو سال بعد بھی پورا نہ ہوا۔ یوں اس فریب کے نتیجے میں مسلمان قبل اول سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے، لاکھوں جانیں ضائع ہو گئیں اور نہ جانے کتنے معصوم آج بھی اس سازش کی نذر ہو رہے ہیں۔اب بات واپس آتی ہے اس ہندوستانی بزرگ کی جس نے کہا تھا: چھبیس میں تو دنیا ختم ہے۔کیا ایسا ہی ذہنی سانچہ 1947 کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بھی تیار کیا گیا، تاکہ وہ دوبارہ کبھی تقسیمِ ہند یا اپنے اجتماعی حقوق کے لیے آواز نہ اٹھا سکیں؟کیا برہمن اشرافیہ اور اس کی چانکیائی سیاست نے بھارتی مسلمانوں کو قیامت کے قریب ہونے کا خوف دلا کر دنیاوی جدوجہد سے منقطع کر دیا؟شاید یہی وجہ ہے کہ کشمیر کے مسلمانوں پر سات دہائیوں سے زائد عرصے تک ظلم ہوتا رہا، مگر بھارت کا مسلمان خاموش رہا۔ آسام کے مسلمان برہمن سیاست کے ہاتھوں پستے رہے، مگر مجموعی ردِعمل نہ آ سکا۔ آج کشمیر سے لے کر آسام تک مسلمانوں کیخلاف ریاستی جبر جاری ہے۔ جو کچھ کل کشمیر میں ہو رہا تھا، وہ آج پورے ہندوستان میں پھیل چکا ہے، مگر بھارت کا مسلمان چاہے وہ اویسی ہو یا جمعیت علمائے ہند کے مولانا سید محمود مدنی سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔کیا کسی منظم سازش کے تحت ہندوستانی مسلمانوں کو اسلام کی بنیادی اقدار اور مسلم بھائی چارے کے جذبے سے دور کیا جا رہا ہے؟
یقینا اس بزرگ کے ایک جملے سے یہی تاثر ملتا ہے کہ آج کا بھارتی مسلمان برہمن اشرافیہ کے پیدا کردہ ایک فریب میں مبتلا ہے۔ بھارت کے بیس کروڑ مسلمان مل کر بھی تین کروڑ سکھوں جتنی مزاحمت پیدا نہیں کر پا رہے۔سکھ کم تعداد کے باوجود آج عالمی سطح پر بھارت کیلئے ایک بڑا دردِ سر بن چکے ہیں۔ بھارتی مقبوضہ پنجاب سے لے کر آسٹریلیا، یورپ، امریکہ اور کینیڈا تک خالصتان تحریک نے برہمن اشرافیہ، آر ایس ایس کے نظریات اور بی جے پی کے عزائم کو سخت دھچکا پہنچایا ہے۔ مودی سرکار کے سکھوں پر ہونے والے مظالم عالمی سطح پر بے نقاب ہوئے، جس سے بھارتی حکومت کو شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔مگر اس کے برعکس بھارت کے بیس کروڑ مسلمان اپنے ہی مسلمان بھائیوں پر ہونے والے ریاستی ظلم کے خلاف متحد آواز بلند کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔شاید اسی لیے علامہ اقبال نے کہا تھا:
نہ سمجھو گے تو مٹ جا گے اے ہندوستان والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
کالم
2026 میں دنیا ختم ہے
- by web desk
- جنوری 13, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 84 Views
- 5 مہینے ago

