یہ امر خصو صی توجہ کا حامل ہے کہ نیپال میں حالیہ بدامنی اور وزیرِاعظم” کے پی کے شرما اولی” کے خلاف اٹھنے والی عوامی تحریک نے پورے خطے میں نئی سیاسی بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ عوامی بغاوت نیپالی عوام کی اپنی جدوجہد کا نتیجہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی بیرونی ہاتھ کارفرما ہے۔ خاص طور پر بھارتی میڈیا کے بیانیے اور اندازِ رپورٹنگ نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی ذرائع ابلاغ نے اولی کے زوال کو اپنی اسٹریٹجک کامیابی کے طور پر پیش کیا اور اسے ایک ایسے موقع کے طور پر دکھایا کہ جس سے بھارت کو خطے میں اپنی گرفت مزید مضبوط کرنے کا موقع ملا اور چین کے انتہائی قریب سمجھے جانے والے ایک لیڈر کو منظر سے ہٹایا گیا۔مبصرین کے مطابق یہ صورتحال خطے میں پہلے سے موجود کئی مثالوں کی یاد دلاتی ہے۔ جس طرح پانچ اگست کو بنگلہ دیش میں عوامی غصے نے حسینہ واجد کی حکومت کو لرزا دیا، ویسے ہی نو ستمبر کو نیپال میں پیدا ہونے والی صورتحال نے یہ دکھایا کہ کس طرح عوامی جذبات اور غم و غصہ ایک طاقتور حکومت کو بھی کمزور کر سکتا ہے۔ مگر نیپال کی تحریک میں ایک پہلو خاص طور پر نمایاں ہے اور وہ ہے نوجوان نسل کی بے خوف مزاحمت۔ سوشل میڈیا پر پابندی نے نوجوانوں کو مزید مشتعل کیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف حکومت کی بدعنوانی اور اقربا پروری کے خلاف آواز بلند ہوئی بلکہ نظام کے پورے ڈھانچے کو جواب دہ بنانے کے مطالبات بھی سامنے آئے ۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ اگرچہ عوامی طاقت کے اظہار کو کسی بھی جمہوری معاشرے میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، لیکن نیپال کی حالیہ سیاسی تبدیلی کی تیزی اور اس کے فوری نتائج نے مبصرین کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ بعض سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف عوامی قوت اتنی جلدی کسی حکومت کو غیر مستحکم نہیں کر سکتی، بلکہ اس کے پیچھے پوشیدہ طور پر بیرونی عوامل بھی کارفرما ہو سکتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ انگلی بھارت کی طرف اٹھائی جا رہی ہے کیوں کہ کسے معلوم نہیں کہ بھارت کی تاریخ پڑوسی ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے بھری پڑی ہے، اور اس کا کردار اکثر اپنے اسٹریٹجک مفادات کو تحفظ دینے کے لیے متنازع رہا ہے۔بھارتی میڈیا نے جس حد تک نیپال کی بے چینی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا، اس سے یہ تاثر مزید گہرا ہو گیا کہ یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ ماضی میں بھارت کی مداخلت کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔چاہے وہ بنگلہ دیش ہو، سری لنکا یا مالدیپ، بھارت نے ہمیشہ جمہوریت اور استحکام کے نام پر اپنے اثرورسوخ کو بڑھانے اور مخالف قیادت کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ سنجیدہ حلقوں کے مطابق نیپال کے معاملے میں بھی بھارت کے ہاتھ دکھائی دیتے ہیں، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعات ایک عرصے سے چل رہے ہیں۔ کالا پانی اور لپولیکھ کے علاقے نیپال اور بھارت کے درمیان مسلسل کشیدگی کی وجہ بنے ہوئے ہیں اور نیپالی عوام بھارت کی ان توسیع پسندانہ پالیسیوں کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔اسی حوالے یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ1988تا1989بھارت نے نیپال کی اقتصادی ناکابندی کیے رکھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حوالے سے بھارت کسی بھی اخلاقی ضابطے اور عالمی قوانین کی پابندی سے خود کو بالاتر سمجھتا ہے۔تبھی تو بھارت نے کبھی سری لنکا میں فوج کشی ۔علاوہ ازیں مالدیپ میں فوجی بغاوت کے ذریعے حکومت کا تختہ پلٹا ۔علاوہ ازیں پاکستان کے ساتھ ساتھ سارک کے سبھی ممالک کیخلاف ہر طرح کی سازشوں کو اپنا معمول بنائے رکھا۔ یہ بحران دراصل خطے کی بڑی سیاست کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے کیونکہ ہندوتوا کی سوچ پر مبنی بھارتی حکمتِ عملی اپنے ہمسایہ ممالک کو کمزور اور غیر مستحکم کرنے کے لیے سرگرم دکھائی دیتی ہے تاکہ وہ اپنی خود مختاری کے بجائے نئی دہلی کی مرضی کے تابع رہیں۔ نیپال میں موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار کی ہے کہ بھارت اپنے اثرورسوخ کو بڑھانے کیلئے نہ صرف میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے بلکہ داخلی تحریکوں کو ہوا دے کر انہیں بیرونی مفادات سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔نیپالی عوام کے جذبات حقیقی ہو سکتے ہیں، مگر ان جذبات کو کس سمت میں موڑنا ہے، یہ فیصلہ اکثر بڑے طاقتور عناصر کرتے ہیں ۔ نیپال کا شاہی قتلِ عام، جسے دربار ہتیاکانڈا بھی کہا جاتا ہے، یکم جون 2001 کو نرائن ہٹی محل میں پیش آیا۔ اس سانحے میں نو شاہی افراد ہلاک ہوئے جن میں بادشاہ بیرندرا اور ملکہ ایشوریا بھی شامل تھے۔ سرکاری تحقیقاتی کمیٹی نے ولی عہد دیپندرا کو اس المیے کا ذمہ دار ٹھہرایا، جو بعد ازاں خود کو گولی مار کر کوما میں چلے گئے۔ حیرت انگیز طور پر انہیں کومے کی حالت میں بادشاہ قرار دیا گیا، مگر تین دن بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد بیرندرا کے بھائی گیانندرا نیپال کے نئے بادشاہ بن گئے۔ ۔ نیپال میں نوجوانوں کی بیداری نے یقینا سیاسی نظام پر دباؤ ڈالا ہے لیکن اس بیداری کے فوری نتائج اور سیاسی منظرنامے میں آنے والی تیز تبدیلیوں نے اس تاثر کو مزید مضبوط کر دیا ہے کہ یہ سب کچھ محض اتفاق یا عوامی طاقت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک بڑی علاقائی اسٹریٹجی کا حصہ ہے۔ نیپال کا موجودہ بحران نہ صرف اس ملک کی داخلی سیاست کو متاثر کر رہا ہے بلکہ پورے خطے میں طاقت کے توازن اور سفارتی تعلقات پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ نیپال کی حالیہ ہلچل ایک ایسا واقعہ ہے جس کے اثرات طویل عرصے تک پورے جنوبی ایشیا میں محسوس کیے جاتے رہیں گے۔

