کالم

وزیراعظم کا اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دنیا بھر میں پاکستان کا ایک نیا اور مثبت تاثر پیش کیا ہے۔ ان کی یہ تقریر محض ایک روایتی خطاب نہیں تھی بلکہ ایک جامع پالیسی بیان تھا جس نے عالمی برادری کو پاکستان کی سنجیدگی، بصیرت اور ذمہ دارانہ مقف سے روشناس کرایا۔ وزیراعظم کا لب و لہجہ پراعتماد اور مدلل تھا۔ انہوں نے پیچیدہ عالمی مسائل کو سادہ اور قابلِ فہم انداز میں پیش کیا، جس سے دنیا بھر کے مبصرین نے اسے بصیرت افروز اور مثر قرار دیا۔ بڑے عالمی میڈیا اداروں جیسے سی این این، بی بی سی اور الجزیرہ نے اس تقریر کو براہِ راست نشر کیا اور "اہم خبر” کے طور پر نمایاں کیا۔ پاکستان کی عوام نے بھی اس خطاب کو بہت سراہا۔ وزیراعظم کے خطاب کا سب سے پہلا اور اہم پہلو مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ذکر تھا۔ انہوں نے نہایت وضاحت اور جرات کے ساتھ غزہ، فلسطین اور کشمیر کے مظلوم عوام کا کیس عالمی برادری کے سامنے رکھا۔ شہباز شریف نے کہا کہ یہ محض علاقائی تنازعات نہیں بلکہ انسانیت کے ضمیر کا امتحان ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان خطوں میں معصوم شہری، خاص طور پر خواتین اور بچے، ظلم و بربریت کا نشانہ بن رہے ہیں، اور عالمی طاقتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کریں۔ اس جرآت مندانہ مقف کو عالمی سطح پر مثبت ردعمل ملا۔ کشمیر اور فلسطین کو ایک ساتھ اجاگر کرنا پاکستان کی سفارتکاری میں ایک اہم حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس سے دنیا کو یہ پیغام ملا کہ پاکستان صرف اپنے خطے تک محدود نہیں بلکہ مجموعی طور پر مظلوم اقوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ وزیراعظم نے کسی اشتعال انگیزی یا الزام تراشی کے بجائے خالصتا انصاف اور پرامن حل کی بات کی، جس نے ان کے پیغام کو مزید مثر بنا دیا۔ اس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے دنیا کو ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی آفات کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔ 2022 اور 2025 کے تباہ کن سیلابوں نے دنیا کو یہ دکھا دیا کہ ماحولیاتی تبدیلی ایک حقیقی اور فوری خطرہ ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ ماحولیاتی آلودگی میں سب سے کم حصہ رکھنے والے ممالک ہی اس کا سب سے بڑا بوجھ اٹھا رہے ہیں، جو سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ ایک منصفانہ مالیاتی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے تاکہ ترقی پذیر اور کمزور ممالک اپنے عوام کو بچانے کے لیے موثر اقدامات کر سکیں۔ ان کا یہ موقف نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے درجنوں ترقی
پذیر ممالک کی آواز تھا، جس نے انہیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا اور پاکستان کی عالمی ساکھ کو بہتر بنایا۔ وزیراعظم کے خطاب کے دوران یو این جی اے کا ہال بھرپور انداز میں موجود عالمی رہنماں اور نمائندوں سے بھرا ہوا تھا، جس نے دنیا کے سامنے پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس کے برعکس جب اسرائیلی وزیراعظم نے اپنا خطاب شروع کیا تو بڑی تعداد میں نمائندے احتجاجا ہال چھوڑ کر باہر چلے گئے۔ یہ منظر نہ صرف عالمی برادری کے ردعمل کا عکاس تھا بلکہ پاکستان کے مقف کو مزید تقویت دینے والا بھی ثابت ہوا۔ یہ خطاب اس لحاظ سے تاریخی تھا کہ اس نے دنیا میں پاکستان کی تصویر بدل دی۔ ایک طویل عرصے سے عالمی میڈیا میں پاکستان کا ذکر زیادہ تر داخلی سیاسی بحرانوں یا سلامتی کے خدشات کے حوالے سے ہوتا رہا ہے۔ تاہم اس خطاب نے پاکستان کو ایک مثبت، تعمیری اور ذمہ دار ملک کے طور پر پیش کیا۔ اب دنیا پاکستان کو محض مشکلات کے شکار ملک کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھنے لگی ہے جو عالمی برادری کے ساتھ مل کر امن، انصاف اور پائیدار ترقی کے لیے کام کرنا چاہتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی یو این جی اے تقریر ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ پاکستان کی سفارتکاری میں ایک فیصلہ کن موڑ تھی۔ یہ پاکستان کی عالمی سطح پر ایک نئی اور باوقار واپسی تھی۔ پاکستانی عوام کے لیے یہ لمحہ فخر تھا کہ ان کا رہنما دنیا کے سب سے بڑے فورم پر پورے اعتماد اور وقار کے ساتھ اپنے ملک اور مظلوم اقوام کی نمائندگی کر رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے