اس سے پہلے اپنے متعدد کالمز میں جڑواں شہروں میں زیر زمین پانی کی مسلسل گرتی ہوئی سطح، بعض علاقوں میں زندگی کی انتہائی اہم بنیادی ضرورت کی شدید قلت اور بے لگام ٹینکر مافیا کی من مانیوں پر اظہار خیال کر چکا ہوں لیکن کسی طرف سے آج تک کوئی توجہ سنی نہ دیکھنے میں آئی۔ راقم کا گھر بحریہ ٹان اور ڈی ایچ اے کے بالکل پڑوس میں واقع ہے۔ آج سے تیس سال قبل یہ دونوں عظیم الشان ہاسنگ پراجیکٹس جب صرف کاغذوں پر ڈیزائن کئے جا رہے تھے تو اسوقت اردگرد کی آبادیاں میں محض تیس بتیس فٹ گہرے کنویں سے پورا محلہ اپنی ضروریات پوری کرتا تھا۔ جوں جوں ان "پوش آبادیوں” نے یہاں باقاعدہ زندگی کا آغاز کیا تو سب سے پہلے انہوں نے پانی کی اپنی ضروریات اپنے حجم کے مطابق ضرورت سے زیادہ ہی گہرے بور درجنوں کی تعداد میں کروانے تو پاس پڑوس کے کنویں خشک ہونا شروع ہو گئے۔ مزید گہرائیوں صفائیوں کے باوجود عام آدمی ان بڑی ماڈرن سوسائٹیوں کے معیار تک نہ جا سکا،،،،، نتیجہ پانی چونکہ ڈیپ ٹیوب ویلنگ کی وجہ سے بہت ہی گہری سطح تک گر چکا تھا لہذا چھوٹی آبادیاں ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر ہی مجبور ہو کر رہ گئیں۔ چاہئے تو یہ تھا کہ جن لوگوں نے استحصال کیا وہ اس پاس کی آبادیوں کو بھی اپنے بے بہا زرائع سے اکاموڈیٹ کرتے لیکن شاید اس پیمانے پر ہمارا اخلاق ابھی بہت ہی پیچھے ہے۔ یہی وجہ تھی کہ میرے زیادہ کالم ..پانی.. جیسی بنیادی سہولت کے اردگرد ہی گھومتے رہتے، جیسے "جہاں پانی وہیں ڈیم” "آب گم” یا ملکی سطح پر "کالا باغ ڈیم” کی اہمیت اور تعمیر پر بھی اہل اقتدار کی توجہ ہم گاہے بگاہے دلاتے رہے ۔ گزشتہ دنوں میرے محترم دوست سلمان خان چیرمین سندھ واٹر طاس کونسل لاہور سے میرے ہاں راولپنڈی تشریف لائے۔ مقصد وہی ملکی سطح پر پانی کی کمیابی اور اسکے حل پر فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس کے تعاون سے منسٹری آف واٹر ریسورسز اسلام آباد میں منعقدہ ایک میٹنگ میں شمولیت تھی جسمیں فیڈریشن آف چیمبرز کے صدر اور نائب صدر بھی شریک ہوئے۔ بہت سے متعلقہ محکموں، جیسے ارسا، واپڈا وغیرہ کے نمائندے بھی موجود تھے۔ میٹنگ کی صدارت جناب مہر علی شاہ صاحب ایڈیشنل سیکرٹری نے کی اور خوب سیر حاصل گفتگو ہوئ۔ سلمان خان کی بریفننگ خاصی جامع اور انتہائی توجہ اور انہماک سے سنی گئی۔ اب دیکھتے ہیں آئیندہ اس پر کیا کاروائی ہوتی ہے، ہوتی بھی ہے یا پھر معمول کے مطابق نشستند، گفتند، برخاستند کی بھینٹ چڑھتی ہے۔ سردست جس جانب میں آج حکام بالا اور خاص طور پر مذکورہ ٹانز کی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ کیسے زیر زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح کو فوری طور پر بلند کیا جا سکتا ہے، یہ بالکل ممکن ہے اور یہ کوء اتنا بڑا کام نہیں جس پر اربوں روپے کی لاگت کا اندیشہ ہو۔ قدرت نے جڑواں شہروں کو پانی جیسا بیش بہا خزانہ پہلے سے ہی وافر مقدار میں عطا کر رکھا ہے جو ہم نے بدقسمتی اور اپنی نامناسب پلاننگ کی وجہ سے نالہ لئی کو ایک گندہ نالہ، کورنگ کو بارشی پانی کی محض ایک گزرگاہ اور سواں دریا کو بھی انڈسٹریل ویسٹ کی بھینٹ چڑھا کر انتظامیہ نے اپنی آنکھیں بند کرلی ہیں۔ تینوں پانی کے سورسز بیش بہا قیمتی اور زیر زمین سطح کے دوبارہ سے بلند کرنے میں انتہائی ممد و معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ سب سے پہلے نالہ لئی کو لے لیتے ہیں جو اسلام آباد کی پہاڑیوں اور عام بارشی پانی کے نقاص کا ذریعہ ہے جو پورے راولپنڈی کے وسط سے گزر کر ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے قریب دریائے سواں میں آ ملتا ہے۔ اگر ایسے پانی کی گزرگاہ کسی یورپی ملک میں موجود ہوتی تو وہ پورے شہر کی خوبصورتی کا ایک شاہکار نمونہ ہوتی لیکن ہم نے اپنی مجرمانہ غفلت سے اسے آج مسلسل گٹروں کے پانیوں، شہر بھر کے کوڑا کرکٹ اور کچرے کا ڈمپنگ پوائنٹ بنا رکھا ہے۔ نتیجہ آدھا شہر ہر وقت ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے چکر ہی لگاتا نظر آتا ہے، اوپر سے رات دن بدبو اور تعفن؟ یہی "لئی” ستر کی دہائی تک صاف شفاف نیلے پانی کی گزرگاہ تھی جو آج مکمل ایک گندہ نالہ بن چکا ہے۔ لیکن یہ آج بھی صاف ہو سکتا جسکے لئے ایک مثر پلاننگ کی ضرورت ہے جسمیں کشتیاں بھی چل سکتی ہیں اور موٹر بوٹس تک متبادل راستوں کی صورت استعمال کی جا سکتی ہیں۔ تاہم موجودہ مسئلہ کے پیش نظر تجویز پیش کی جاتی ہے کہ جہاں سے یہ نالہ خیابان راولپنڈی میں داخل ہوتا ہے اور اختتامی پوائنٹ ہائی کورٹ تک ہر دو تین میل کے فاصلے پر اسمیں مضبوط بنیادوں پر بند تعمیر کیے جائیں جو زیادہ سے زیادہ پانچ سے دس فٹ ہر ایک مقام کی مناسبت سے اونچے ہوں جس سے یہ نالہ تھوڑے ہی عرصے میں پانی کی چھوٹی چھوٹی جھیلوں میں تبدیل ہو جائیگا، جس سے نہ صرف شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا بلکہ اصل مقصد زیر زمین پانی کی سطح تھوڑے ہی عرصے میں کافی حد تک بلند ہو جائے گی۔ رہا سوال صفائی کا تو اس کے لئے بلدیہ کا عملہ بڑی تعداد میں پہلے سے موجود ہے جو نئے حالات کے مطابق موقع پر مناسب فیصلے کر لے گا۔ اسی طرح نالہ کورنگ کو بھی جو شروع سے آخر تک تقریبا پہاڑی سلسلے کے اندر ہی سے بہتا ہے، اسے بھی اسی طرز پر جگہ جگہ جھیلوں میں تبدیل کردیا جائے تو نا صرف ماحول میں بڑی تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے بلکہ وہی اصل مقصد زیر زمین پانی کی سطح تھوڑے ہی عرصے میں بلند ہو جائے گی۔یہی کام مختلف مقامات پر دریائے سواں پر بھی آزمانا چاہیے اور جب یہ تینوں نالے یا دریا اپنے "مقام ملاپ” یعنی سواں پل پر ملیں تو یہ جگہ پہلے سے ہی انتہائی گہری اور ایک بنا بنایا ڈیم کی شکل میں موجود ہے جسمیں اگر مناسب سطح تک سارا سال پانی کی اس جھیل کو برقرار رکھا جا سکے تو اردگرد کی سب آبادیوں میں پانی کی سطح فوری بلند ہو سکتی ہے۔ سواں پل کے مقام سے آگے دونوں طرف یا تو بحریہ ٹان ہے یا ڈی ایچ اے جو دونوں اس پانی کو آگے اڈیالہ گورکھ پور تک جگہ جگہ چیک ڈیم بنا کر پانی کو چھوٹی چھوٹی جھیلوں میں تبدیل کر سکتے ہیں جو منصوبے انتہائی قابل عمل اور سستے ہیں۔ جگہ جگہ چھوٹے بڑے بند بڑے بڑے پتھروں سے بنائے جا سکتے ہیں جو علاقائی طور پر وافر مقدار میں دستیاب ہیں۔ رہ گئی بات نشیبی آبادیوں کی تو انکے گرد پشتے تعمیر کروا کر انکو محفوظ بنایا جا سکتا ہے جیسے ڈی ایچ اے نے سواں کے مقام پر اپنے نئے پل کے ساتھ ساتھ میلوں مضبوط پشتے تعمیر کروائے ہیں، اگر ڈی ایچ اے جو ایک مالی طور مضبوط ترین ادارہ ہے وہ اپنے سامنے والے کنارے پر بھی اسی طرح پتھروں کی پچنگ کروادے تو وہ عام لوگ بھی بارشی سیلابوں سے بچ سکیں گے۔ اس تجویز سے یقینا پانی کی پورے شہر میں سطح کافی حد تک بلند ہو جائے گی ساتھ ساتھ پورا شہر ایک نئی خوبصورت شکل اختیار کر جائے گا جو ماحولیاتی آلودگی میں کمی کا سبب ہمارے ایکو سسٹم اور آبی حیات کیلئے بھی فائدہ مند ثابت ہو گا۔ آخر میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب سیلاب آتے ہیں اور یہی نالے بپھر کر سب کچھ تحس نحس کر دیتے ہیں تو اسوقت کیا ہو گا۔ یہ سوال اہم بھی ہے اور قابل غور بھی لیکن راقم ایک کالم نگار ہے جو کسی بھی عوامی یا علاقائی مسئلے پر توجہ مبذول کروا سکتا ہے یا اس پر اپنی رائے یا تجاویز دے سکتا ہے لہٰذا اسکے ممکنہ مضمرات، فوائد و نقصانات ہم اس شعبے کے ماہرین پر چھوڑتے ہیں،اس مقولے کے ساتھ

