کالم

شاید کہ اس جنم میں ملاقات ہو نہ ہو

دبئی پہنچ کر انسان سب سے پہلے جس چیز سے متاثر ہوتا ہے وہ بلند و بالا عمارتیں یا شیشے نہیں، بلکہ خاموشی ہوتی ہے جس میں انسان خود سے بات کرنے لگتا ہے۔ یہاں روشنی، فولاد اور شیشہ بہت ہے، مگر اصل امتحان دل کا ہوتا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں یادیں اچانک زندہ ہو جاتی ہیں، اور وہ باتیں جو وطن میں شور میں دب جاتی تھیں، صاف سنائی دینے لگتی ہیں۔میں نے ہلی میں تقریر کرتے ہوئے غلطی سے کچھ لوگوں کو دوست کی کہا تھا مگر اج جب وہ یہودیوں کے ساتھ یقین ڈالتے ہوئے نظر ائے تو لگتا ہے کہ میں نے سچ کہا تھا البتہ اس کا حدیث کے ساتھ جو تشبیہ بنتی تھی وہ میری غلطی اس وقت بھی تھی اور اج بھی میں مانتا ہوں۔ یہیں آ کر مجھے معلوم ہوا کہ عرفان ایفی بھی دبئی میں مقیم ہیں۔ ایک ایسا نام جس کے ساتھ چند مہینوں سے دل میں ایک خلش جڑی ہوئی تھی۔ چند ماہ پہلے عرفان ایفی کے والد محترم کا انتقال ہوا تھا۔ انہی دنوں میں سوات کی طرف گیا ہوا تھا۔ سردی اپنے عروج پر تھی، راستے طویل تھے، اور خبر پوری طرح بروقت دل تک نہ پہنچ سکی۔ نہ تعزیت کا حق ادا ہو سکا، نہ حاضری ممکن ہوئی۔ یہ وہ خلش تھی جو دل کے کسی کونے میں بوجھ بن کر رہ گئی۔آج معلوم ہوا کہ سفیر درد بھی دبئی میں موجود ہیں۔ یہ دونوں وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیشہ بے لوث محبت دی، بغیر کسی غرض کے۔ سوچا، اگر اب نہ گیا تو شاید یہ بوجھ زندگی بھر ساتھ رہے گا۔کل شام کا وقت تھا۔ دبئی کا موسم غیر معمولی طور پر خوشگوار تھا۔ ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں، ریت کا ہلکا سا طوفان بھی تھا، اور فضا میں ایک عجیب سی اداسی گھلی ہوئی تھی۔ دلدار میرے ساتھ تھا۔ وہ مجھے شہر کے بس اڈے کے قریب لے گیا۔ علاقے کا نام اس وقت یاد نہیں رہا، مگر راستے نے بہت کچھ دکھا دیا۔راستے میں ایک جگہ وہ بحری جہاز نظر آیا جو کبھی ملکہ برطانیہ کا تھا۔ یہاں کے حکمرانوں نے وہ جہاز واپس کیا، اور اب اسی جہاز کو ایک ہوٹل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ دبئی واقعی دبئی ہے۔ اسے دنیا کے محفوظ ترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے، اور یہ تحفظ محض دعوی نہیں، اس کے پیچھے برسوں کی منصوبہ بندی اور بے پناہ سرمایہ کاری ہے۔ لوگ بھی ماشااللہ نہایت مہذب اور خوش اخلاق ہیں۔ ہمیں تقریبا سب ہی اچھے ملے، سوائے چند نوجوانوں کے جو ایئرپورٹ پر ملے تھیشاید جلدی میں تھے، شاید زندگی نے انہیں ابھی ٹھہرا سکھانا تھا۔جب ہم عرفان ایفی اور سفیر درد سے ملنے پہنچے تو سب سے بڑا مسئلہ پارکنگ کا تھا۔ دبئی میں پارکنگ ایک مستقل مسئلہ ہے۔ پیڈ پارکنگ، تنگ جگہیں، اور بردبئی کا علاقہجو مجھے جدہ کے بلد اور ابا مکہ کی یاد دلا گیا۔ وہی گہماگہمی، وہی تیز رفتار زندگی۔ لیکن جیسے ہی ملاقات ہوئی، ساری تھکن اتر گئی۔ جس محبت اور اپنائیت سے انہوں نے استقبال کیا، وہ کسی رسمی ملاقات کا انداز نہیں تھا۔ میں نے عرفان ایفی کے والدِ محترم کے لیے دعا کی، اور دل ہی دل میں اس تاخیر پر معذرت بھی کی جو چند مہینوں سے میرے اندر ہی اندر بوجھ بنی ہوئی تھی۔کھانے کا اہتمام ایک فیصل آبادی ہوٹل میں تھا۔ نام یاد نہیں رہا، مگر ذائقے اب بھی یاد ہیں۔ تنور کی تازہ روٹیاں، توے پر تیار کیا گیا گوشت، دال ماش، خوشبودار چاولیہ محض کھانا نہیں تھا، یہ وطن کی خوشبو تھی۔ دل تو نہیں چاہ رہا تھا، مگر سامنے آیا تو انصاف کرنا پڑا۔ اور پھر اسی ہوٹل کی کھیرایسی کہ اگلے دن شوگر چیک کی تو قریب تین سو نکل آئی، مگر بعض ذائقے ایسے ہوتے ہیں جن پر حساب نہیں رکھا جاتا۔ہم دیر تک بیٹھے رہے۔ باتیں ہوئیں، یادیں تازہ ہوئیں، دل ہلکا ہوا۔ رات گئے جب ہم واپس لوٹے تو ذہن میں ایک اور خیال گہرا ہو چکا تھا: بیرونِ ملک پاکستانی صرف ترسیلات زر نہیں بھیجتے، یہ اپنی زندگی کے قسطوں میں وطن کے نام کرتے ہیں۔میں اکثر لکھتا ہوں کہ یہ لوگ صرف ایک ریال کے ستر نہیں ہوتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے ماں باپ سے دور، اپنی مٹی سے الگ، زندگی کے اہم ترین لمحے قربان کر کے یہاں آتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی خوشیوں کو مخر کرتے ہیں، اپنے دکھ خاموشی سے جھیلتے ہیں، اور وطن سے جڑے رہنے کیلئے صرف پیسے نہیں، اپنے جذبات بھی بھیجتے ہیں۔ ان کی قربانی کا حساب کسی ایک عدد، کسی ایک ترسیل، یا کسی ایک بینک اسٹیٹمنٹ میں نہیں آ سکتا۔میرا بیٹا جاب سے فارغ ہو کر یہاں کی ایم جی کمپنی میں انجینئر ہے، سیدھا کیسر صاحب کے گھر پہنچا، اور اس کے ساتھ میں نے بھی یہ سفر طے کیا۔ سب لوگ ایک دوسرے کے ٹک ٹاک فرینڈز ہیں، نوجوان اپنی باتیں کرتے ہیں، اور میں ان دنوں کو یاد کرتا رہا جب میں 21 سال کی عمر میں چلتا گیا تھا۔ آج کے دور میں یہ لوگ کسی بڑی مشکل میں نہیں، وہ مشکلات تو ہماری نسل نے دیکھی تھیں، یہ ان کا نصیب ہے۔ اللہ پردیسی بچیوں اور بچوں کو خوش رکھے، آمین۔آخر میں ہزارہ کی بات۔ ہزارہخوبصورتی اپنی جگہ، مگر اس کے لوگ ان جیسا خلوص کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اگر کبھی ہزارہ صوبہ بنا تو دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ خوبصورتی صرف پہاڑوں میں نہیں، دلوں میں بھی ہوتی ہے۔دبئی کی اس شام نے مجھے یہ سبق دیا کہ اصل عمارتیں کنکریٹ کی نہیں ہوتیں، اصل شہر دلوں میں آباد ہوتے ہیں، اور اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان جب کسی کے سامنے بیٹھے تو شرمندہ نہ ہوکہ اس نے رشتے نبھانے میں دیر تو کی، مگر بھولا نہیں۔میں گنگنایا اور کھا ۔اپنے بیٹے اور پیارے بیٹے دیندار کے ساتھ اور اپنے بیٹوں جیسے عرفان اور سفیر درد کے ساتھ
لگ جا گلے کہ پھر یہ حسیں رات وہ نہ ہو
شاید کہ اس جنم میں ملاقات ہو نہ ہو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے