اگر آپ کو دن بدن وہ باتیں کہنا پڑیں جو آپ محسوس نہیں کرتے، ان لوگوں کے سامنے جھکنا پڑے جن سے آپ نفرت کرتے ہیں، اور ان چیزوں پر خوشی ظاہر کرنی پڑے جو آپ کیلئے نحوست کے سوا کچھ نہ لائیں تو یہ محض ایک نوکری نہیں رہتی، یہ ایک مسلسل اندرونی تشدد بن جاتی ہے۔ بوریس پاسترناک نے ٹھیک کہا تھا کہ ہمارا اعصابی نظام کوئی فرضی کہانی نہیں۔ یہ جسم کا حقیقی حصہ ہے۔ اور روح بھی ہمارے اندر ویسے ہی موجود ہے جیسے منہ میں دانت، جسے سزا بھگتے بغیر مسلسل پامال نہیں کیا جا سکتا۔لیکن ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے روح کو بھی تنخواہ پر رکھ دیا ہے۔ صبح دفتر جاتے ہوئے ہم خود کو سمجھاتے ہیں کہ "بس گزارا ہے”، "سب ایسے ہی کرتے ہیں”، "کچھ سال اور صبر کر لو” اور یوں سال نہیں، زندگیاں گزر جاتی ہیں۔ ہم وہ فائلیں سائن کرتے ہیں جن سے دل متلی محسوس کرتا ہے، ہم وہ فیصلے لکھتے ہیں جن پر ہمارا ایمان شرمندہ ہوتا ہے، ہم وہ باتیں بولتے ہیں جن کے بعد آئینے میں خود کو دیکھنے کی ہمت نہیں رہتی اور پھر کہتے ہیں: "کیا کریں، نوکری ہے، تنخواہ ہے۔” لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر وہ کام جو تنخواہ دے، کرنے کے قابل بھی ہوتا ہے؟ کیا ہر وہ پیشہ جس میں ہم صرف مجبوری سے جکڑے ہوں، ہمیں انسانی ہونے کا حق بھی دیتا ہے؟ایک زمانہ تھا، ہمارے بچپن کا، جب ایک بچہ سکول نہیں جانا چاہتا تھا۔ دادی اماں اس کی کلائی پکڑ کر، کبھی پیار سے اور کبھی مار پیٹ کے ساتھ، اسے سکول لے جاتی تھیں۔ بچہ روتا تھا، ضد کرتا تھا، بھاگنے کی کوشش کرتا تھا۔ آج سمجھ آتا ہے کہ وہ بچہ دراصل طلب نہیں رکھتا تھا اور علم زبردستی نہیں دیا جا سکتا۔ بالکل اسی طرح، وہ نوکری، وہ پیشہ، وہ کام جسے آپ صرف مجبوری میں کر رہے ہوں، جس میں دل شامل نہ ہو، جس میں روح انکار کر رہی ہو، وہ آپ کو پڑھا نہیں رہا، وہ آپ کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم جسم کو تھکا رہے ہیں، حالانکہ ہم روز اپنی روح کو تھپڑ مار رہے ہوتے ہیں۔ اور پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ بلڈ پریشر کیوں ہے؟ اینزائٹی کیوں ہے؟ نیند کیوں نہیں آتی؟ چڑچڑاپن کیوں ہے؟ بے مقصد غصہ کیوں ہے؟ کیونکہ اعصابی نظام جھوٹ برداشت نہیں کرتا۔ روح منافقت پر خاموش نہیں رہتی۔یہاں سے بات فرد سے نکل کر ریاست تک جاتی ہے۔ جس شہر میں، جس دیس میں، جس ملک میں قانون نہ ہو، آئین صرف کتاب میں ہو، اور یقین جرم بن جائے، یقین کیجیے، اس ملک کو چھوڑ دینا چاہیے۔ یہ فرار نہیں ہوتا، یہ خود کو بچانا ہوتا ہے۔ مریم نواز نے ایک جملہ کہا تھا جو شاید غیر ارادی طور پر بہت سچ نکل گیا: ہمارے پاس سب سے بڑی ایکسپورٹ مین پاور ہے۔جب حکمران آپ کو شہری نہیں، انسان نہیں، بلکہ ایکسپورٹ کی چیز سمجھنے لگیں تو پھر آپ کو ایکسپورٹ ہو جانا چاہیے۔یہ ملک سے غداری نہیں،یہ غداری سے انکار ہے۔ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ زندگی پہلے آتی ہے، باد بعد میں۔ہمارے معاشرے میں غربت ایک ایسی حقیقت ہے،جو انسان کو اپنی زندگی کے فیصلے آزادانہ طور پر کرنے سے روک دیتی ہے۔ وہ اپنی بقا کیلئے ووٹ کو گروی رکھتا ہے، اپنے ووٹ کا سودا کرتا ہے، اور اسکے بدلے میں درجہ چہارم کی نوکری پاتا ہے، جو اسے زندگی بھر محتاج بنائے رکھتی ہے۔ یہ وہ نوکری ہے جس سے وہ صرف اپنا روزگار نہیں کماتا، بلکہ اپنی روح، ضمیر اور عزت نفس بھی گروی رکھ دیتا ہے۔ یہ وہ زنجیر ہے جو غربت پیدا کرتی ہے اور انسان کو اپنی ذات سے جدا کر دیتی ہے۔یہیں پر نبی اکرم ۖ کا تجارت اور ایمانداری پر تاکید آتی ہے۔آپ ۖ نے فرمایا کہ تجارت میں ایمانداری اور شرافت سب سے بڑی دولت ہے، اور سود یا جھوٹ کی بنیاد پر کمائی انسان کی روح کو تباہ کرتی ہے یعنی ایک انسان اگر صرف مجبوری یا دوسروں کے دباؤ میں آ کر کام کرے اور اپنی روح کو گروی رکھ دے تو وہ اصل میں خود سے بیچا ہوا ہے۔ نبی ۖ کی تعلیم ہمیں یہی بتاتی ہے کہ کمائی صرف تنخواہ یا دولت کیلئے نہیں، بلکہ ضمیر، ایمان اور انسانیت کے ساتھ ہونی چاہیے۔آخر میں، ہر فرد کو یہ سوال خود سے کرنا ہوگا: کیا میں صرف جی رہا ہوں، یا زندہ ہوں؟ کیا میری صبح اسی لئے شروع ہوتی ہے کہ میں کسی ادارے کی مشین بن جاں؟ کیا میرا دن اسی لئے گزرتا ہے کہ میں اپنے ضمیر کو خاموش کر دوں؟ جو بھی انسان یہ سوال سنجیدگی سے پوچھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ جواب آسان نہیں۔ لیکن وہ جانتا ہے کہ اگر ہم نے روح کی قدر نہ کی تو زندگی کی اصل قیمت بھی ضائع ہو جائے گی۔ پاکستان زندہ باد، مگر زندہ انسان کے ساتھ۔ وہ انسان جو جھوٹ کے سائے میں نہیں، عزت، ایمان، اور خودی کے ساتھ جیتا ہو۔ وہ انسان جو ہر دن اپنی روح کو آزاد رکھے، اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرے، نہ کہ محض تنخواہ کی قیمت پر۔

