کالم

سخت قوانین نہیں بلکہ شعور۔۔۔!

معاشروں کی تعمیر و ترقی کا سفر محض قوانین کے نفاذ سے مکمل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے افراد کے اندر شعور، احساسِ ذمہ داری اور اخلاقی تربیت کا ہونا ناگزیر ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جہاں سخت قوانین پر انحصار کیا گیا وہاں وقتی طور پر نظم و ضبط تو قائم ہوگیا لیکن پائیدار بہتری نہ آسکی۔ اس کے برعکس جن معاشروں نے تعلیم، تربیت اور شعور کی بیداری کو ترجیح دی، وہاں قوانین کی ضرورت خود بخود کم ہوتی چلی گئی اور لوگ اپنی ذمہ داریوں کو ازخود سمجھنے لگے۔ہمارے وسیب میں مسائل کا حل سخت قوانین میں تلاش کیا جاتا ہے۔ جب بھی کوئی سماجی برائی سامنے آتی ہے تو فوری ردعمل کے طور پر یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اس کے خلاف مزید سخت قوانین بنائے جائیں اور سزاں کو بڑھایا جائے۔ بظاہر یہ طریقہ کار مثر محسوس ہوتا ہے مگر حقیقت میں یہ مسئلے کی جڑ کو نہیں چھیڑتا۔ قانون کا خوف وقتی طور پر لوگوں کو روک سکتا ہے لیکن دلوں اور ذہنوں میں تبدیلی نہیں لا سکتا۔ جب تک انسان کے اندر یہ احساس پیدا نہ ہو کہ وہ جو عمل کر رہا ہے وہ اخلاقی اور سماجی طور پر غلط ہے، اس وقت تک محض قانون کے ذریعے اسے مکمل طور پر نہیں روکا جا سکتا۔سخت قوانین کے نفاذ کے ساتھ ایک اور اہم مسئلہ ان کے غلط استعمال کا بھی ہے۔ جب قوانین بہت زیادہ سخت ہوں تو ان کے اطلاق میں اختیارات رکھنے والے افراد کے پاس غیر معمولی طاقت آ جاتی ہے۔ یہ طاقت بعض اوقات انصاف کے بجائے ذاتی مفادات، انتقام یا دبا کے لیے استعمال ہونے لگتی ہے۔ اس طرح قانون جو انصاف کا ذریعہ ہونا چاہیے، خود ناانصافی کا سبب بن جاتا ہے۔ ایسے حالات میں عوام کا اعتماد نظام پر سے اٹھنے لگتا ہے اور لوگ قانون کو اپنا محافظ سمجھنے کے بجائے ایک خطرہ تصور کرنے لگتے ہیں۔اس کے برعکس شعور کی بیداری ایک ایسا عمل ہے جو اندر سے تبدیلی لاتا ہے۔ جب کسی فرد کو یہ احساس ہو جائے کہ اس کا ہر عمل نہ صرف اس کی ذات بلکہ پورے معاشرے پر اثر انداز ہوتا ہے تو وہ خود بخود اپنی اصلاح کی طرف مائل ہوتا ہے۔شعور کی بیداری میں اساتذہ کرام کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک استاد صرف نصاب پڑھانے والا نہیں ہوتا بلکہ وہ طلبہ کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر اساتذہ اپنی ذمہ داری کو محض تدریس تک محدود رکھنے کے بجائے اخلاقی تربیت پر بھی توجہ دیں تو وہ ایک ایسی نسل تیار کر سکتے ہیں جو خود احتسابی کی صلاحیت رکھتی ہو۔ سکول اور کالج وہ جگہیں ہیں جہاں بچوں کی سوچ کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ یہاں انہیں سچائی، دیانتداری، برداشت اور ذمہ داری جیسے اوصاف سکھائے جائیں تو وہ زندگی بھر ان اصولوں پر قائم رہتے ہیں۔اسی طرح علما کرام بھی معاشرے میں شعور اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مذہب انسان کو نہ صرف عبادات کا طریقہ سکھاتا ہے بلکہ اسے ایک بہتر انسان بننے کی تعلیم بھی دیتا ہے۔ علما اپنی تقاریر اور خطبات میں معاشرتی مسائل پر روشنی ڈالیں اور لوگوں کو اخلاقی اقدار کی طرف راغب کریں تو اس کے مثبت اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ مذہبی تعلیمات کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ انسان اپنے اعمال کا خود جائزہ لے اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے۔میڈیا جدید دور کا سب سے طاقتور ذریعہ ابلاغ ہے۔ اس کی رسائی معاشرے کے ہر طبقے تک ہے اور یہ لوگوں کی سوچ پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ میڈیا مثبت کردار ادا کرے اور سنسنی خیزی کے بجائے شعور اجاگر کرنے کو ترجیح دے تو یہ ایک بڑی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ بدقسمتی سے اکثر میڈیا ادارے ریٹنگ کے حصول کے لیے منفی خبروں اور غیر ضروری تنازعات کو ہوا دیتے ہیں، جس سے معاشرے میں بے چینی اور انتشار بڑھتا ہے۔میڈیا اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے عوامی شعور کو بڑھانے کے لیے کام کرے تو یہ ایک مضبوط اور مہذب معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔این جی اوز بھی سماجی ترقی کے میدان میں ایک اہم قوت ہیں۔ یہ ادارے مختلف طبقات کے ساتھ براہ راست کام کرتے ہیں اور ان کے مسائل کو قریب سے سمجھتے ہیں۔ این جی اوز اپنی سرگرمیوں کو شعور بیدار کرنے پر مرکوز کریں، لوگوں کو ان کے حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ کریں اور عملی طور پر ان کی رہنمائی کریں تو اس کے دیرپا اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں اور پسماندہ طبقات میں شعور کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے، جہاں این جی اوز مثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ شعور کی بیداری ایک طویل اور مسلسل عمل ہے۔ اس کے نتائج فوری طور پر نظر نہیں آتے لیکن وقت کے ساتھ یہ ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس کے برعکس سخت قوانین فوری اثر تو دکھاتے ہیں مگر دیرپا حل فراہم نہیں کرتے۔ ایک بہتر معاشرہ کے لیے وقتی اقدامات کے بجائے پائیدار حکمت عملی اپنانا ہوگی، جس کا مرکز انسان کی ذہنی اور اخلاقی تربیت ہو۔والدین کا کردار بھی اس سلسلے میں نہایت اہم ہے۔ گھر وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں بچے اچھے اور برے کی تمیز سیکھتے ہیں۔ والدین خود اپنے عمل سے بچوں کے لیے مثال قائم کریں، انہیں سچ بولنے، دوسروں کا احترام کرنے اور ذمہ داری کا احساس دلائیں تو یہ تعلیم ان کے اندر راسخ ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر بچے گھر میں تضاد دیکھیں، جہاں بات کچھ اور ہو اور عمل کچھ اور تو ان کی شخصیت میں بھی یہی تضاد پیدا ہو جاتا ہے۔معاشرتی رویوں میں تبدیلی کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ کام کسی ایک ادارے یا فرد کے بس کی بات نہیں بلکہ اس کے لیے پورے معاشرے کو مل کر کام کرنا ہوتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیم اور آگاہی کے پروگراموں کو فروغ دے، تعلیمی نصاب میں
اخلاقی تربیت کو شامل کرے اور ایسے ماحول کو فروغ دے جہاں مثبت رویوں کی حوصلہ افزائی ہو۔ اسی طرح نجی ادارے، سول سوسائٹی اور عام شہری بھی اس عمل میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔یہ بھی ضروری ہے کہ معاشرتی مسائل کی جڑ کو سمجھیں۔ اکثر اوقات ظاہری علامات کو دیکھ کر فوری ردعمل دیتے ہیں اور اصل وجوہات کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی شخص قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے سزا دینے پر زور دیتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ اسے اس راستے پر کس چیز نے ڈالا۔ اگر ان بنیادی عوامل کو دور کرنے کی کوشش کریں، جیسے تعلیم کی کمی، معاشی مسائل اور سماجی ناانصافی تو بہت سے مسائل خود بخود کم ہو سکتے ہیں۔ایک مثالی معاشرہ میں لوگ قانون کی پابندی اس لیے کریں کہ وہ اسے درست سمجھتے ہیں، نہ کہ اس لیے کہ انہیں سزا کا خوف ہو۔ یہ منزل صرف اسی صورت میں حاصل کی جا سکتی ہے جب تعلیم، تربیت اور شعور کی بیداری کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ حقیقی تبدیلی باہر سے مسلط نہیں کی جا سکتی بلکہ اسے اندر سے پیدا کرنا پڑتا ہے۔اگر اپنے معاشرے میں پائیدار بہتری چاہتے ہیں تو سخت قوانین کے بجائے شعور کی روشنی کو فروغ دینا ہوگا۔ اس کے لیے اساتذہ کرام، علما کرام، میڈیا، این جی اوز، والدین اور حکومت سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جب ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے گا اور اس پر عمل کرے گا تو ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے گا جہاں انصاف، احترام اور ہم آہنگی خود بخود قائم ہو جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے