معاشی ساخت میں توانائی کا شعبہ ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے مگر بدقسمتی سے یہی شعبہ عوامی اضطراب، بے چینی اور معاشی بے انصافی کی ایک بڑی علامت بن چکا ہے۔ بجلی کے بلوں میں شامل پیچیدہ اور غیر متناسب چارجز نہ صرف عام شہری کی سمجھ سے بالاتر ہیں بلکہ اس کی برداشت سے بھی باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ صورتِ حال اس وقت مزید تکلیف دہ بن جاتی ہے جب ایک صارف بجلی استعمال نہ کرے یعنی صفر یونٹ پر ہو مگر اس کے باوجود اسے بھاری بل ادا کرنے کا پابند بنایا جائے۔ یہ محض ایک مالی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی و اخلاقی بحران بھی ہے جس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہو رہے ہیں۔بجلی کے بل میں شامل مختلف مدات جیسے فیول ایڈجسٹمنٹ، فکسڈ چارجز، جنرل سیلز ٹیکس اور دیگر محصولات ایک عام آدمی کے لیے ایک پیچیدہ معمہ بن چکے ہیں۔ جب کوئی صارف بجلی استعمال ہی نہیں کرتا تو اس سے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں رقم وصول کرنا کسی بھی منطقی یا معاشی اصول کے مطابق درست نہیں ٹھہرتا۔ اسی طرح اس فیول ایڈجسٹمنٹ پر مزید ٹیکسز کا نفاذ ایک دوہری نہیں بلکہ سہ گنا بوجھ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ پاکستان میں بجلی کے شعبے کا ایک بڑا مسئلہ اس کی ساختی کمزوریاں ہیں۔ بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے مراحل میں موجود نقائص نے اس نظام کو غیر موثر اور مہنگا بنا دیا ہے۔ لائن لاسز، بجلی چوری، ناقص انفراسٹرکچر اور بدانتظامی ایسے عوامل ہیں جن کی قیمت بالآخر صارفین کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ ان مسائل کے حل کے بجائے ان کا بوجھ براہِ راست عوام پر ڈال دیا جاتا ہے جو پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور کم آمدنی جیسے مسائل کا شکار ہیں۔
اشرافیہ کو دی جانے والی مراعات اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہیں۔ ایک طرف عام شہری بجلی کے بل ادا کرنے سے قاصر ہے تو دوسری طرف مراعات یافتہ طبقہ نہ صرف مفت بجلی سے مستفید ہو رہا ہے بلکہ دیگر سہولیات بھی اس کے لیے آسانی سے دستیاب ہیں۔ یہ عدم توازن معاشرتی ناانصافی کو جنم دیتا ہے اور ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد متزلزل کرتا ہے۔ جب ایک مزدور یا کم آمدنی والا فرد اپنے بنیادی اخراجات پورے کرنے میں ناکام ہو اور اسے غیر استعمال شدہ بجلی پر بھی بل ادا کرنا پڑے تو اس کے اندر محرومی اور بے بسی کے جذبات شدت اختیار کر لیتے ہیں۔معاشی پالیسیوں میں عدم توازن بھی اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ توانائی کے شعبے میں کیے گئے فیصلے اکثر قلیل مدتی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں، جن کا مقصد وقتی طور پر مالی خسارے کو کم کرنا ہوتا ہے مگر یہ پالیسیاں طویل مدتی استحکام فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں بار بار اضافہ، ٹیکسز کا غیر منصفانہ نفاذ اور سبسڈی کے غیر متوازن نظام نے معیشت کو ایک ایسے دائرے میں قید کر دیا ہے جہاں سے نکلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس مسئلے کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اس کا حل محض قیمتوں اور ٹیکسز میں اضافہ میں نہیں بلکہ ایک جامع اصلاحاتی عمل میں پوشیدہ ہے۔ سب سے پہلے بجلی کے بلوں میں شامل تمام مدات کو سادہ اور شفاف بنایا جائے ۔ فکسڈ چارجز کے تصور کو بھی ختم کرنا ضروری ہے ۔کسی صارف نے بجلی استعمال نہیں کی تو اس سے فکسڈ چارجز اور دیگر ٹیکسز وصول کرنا ایک غیر منصفانہ عمل ہے۔ اس کے بجائے ایک ایسا نظام متعارف کروایا جائے جو انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے اور توانائی کے ذمہ دارانہ استعمال کو بھی فروغ دے۔ٹیکسز کے نظام میں اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔ بجلی کے بلوں پر عائد مختلف ٹیکسز کو یکجا کر کے ایک سادہ اور قابل فہم ڈھانچہ تشکیل دیا جائے۔ دوہری اور سہہ گنا ٹیکسز کا خاتمہ کیا جائے اور صرف ایک مناسب شرح پر ٹیکس نافذ کیا جائے۔ توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف توجہ دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ شمسی توانائی، ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی اور دیگر قابل تجدید ذرائع نہ صرف سستے ہیں بلکہ ماحول دوست بھی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان ذرائع کے فروغ کیلئے مراعات فراہم کرے ،اس سے نہ صرف بجلی کی لاگت میں کمی آئے گی بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار بھی کم ہو گا۔صنعتوں اور زراعت کو سستی بجلی فراہم کرنا معاشی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔
جب پیداواری لاگت کم ہو گی تو مصنوعات سستی ہوں گی، برآمدات میں اضافہ ہو گا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے برعکس اگر بجلی مہنگی ہو گی تو صنعتیں بند ہوں گی، بے روزگاری بڑھے گی اور معیشت مزید کمزور ہو جائے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ توانائی کی پالیسی کو صنعتی اور زرعی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔بجلی کے شعبے میں شفافیت، احتساب اور کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے آزاد اور مضبوط اداروں کی ضرورت ہے۔ بدعنوانی، نااہلی اور بدانتظامی کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اس سے نہ صرف نظام میں بہتری آئے گی بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہو گا۔قرضوں پر انحصار بھی ایک سنگین مسئلہ ہے جو معیشت کو کمزور کر رہا ہے۔ جب حکومتی اخراجات آمدنی سے زیادہ ہوں تو قرض لینا ایک وقتی حل بن جاتا ہے مگر یہ طویل مدتی مسائل کو جنم دیتا ہے۔ ان قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرض لینا ایک ایسا چکر ہے جس سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومتی اخراجات میں کمی کی جائے خصوصا غیر ضروری اور عیش و عشرت پر مبنی اخراجات کو ختم کیا جائے۔اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ جب تک ایک مخصوص طبقہ ریاستی وسائل سے غیر متناسب فائدہ اٹھاتا رہے گا، معاشی انصاف کا قیام ممکن نہیں ہو سکے گا۔ ایک ایسا نظام تشکیل دینا ہو گا جس میں تمام شہریوں کے لیے یکساں اصول ہوں اور کوئی بھی قانون سے بالاتر نہ ہو۔ یہ نہ صرف معاشی بہتری کا باعث بنے گا بلکہ سماجی ہم آہنگی کو بھی فروغ دے گا۔بجلی کے بلوں کا مسئلہ محض ایک مالی بوجھ نہیں بلکہ ایک وسیع تر نظامی خرابی کی علامت ہے۔ اس کے حل کے لیے جزوی اقدامات نہیں بلکہ ایک جامع اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات، ٹیکس نظام کی بہتری، اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ، متبادل توانائی کے ذرائع کا فروغ اور شفافیت و احتساب کا قیام ایسے اقدامات ہیں جو اس مسئلے کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
کالم
بجلی، ٹیکسز اور انصاف۔۔۔!
- by web desk
- اپریل 2, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 64 Views
- 2 مہینے ago

