آزادجموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی آئینی مدت اپنے اختتام کے قریب ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک بار پھر انتخابی عمل، جمہوری تسلسل اور عوامی نمائندگی کے حوالے سے اہم سوالات سر اٹھا رہے ہیں۔ بظاہر تو جمہوری روایات کے مطابق انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہونے چاہیے تاہم موجودہ علاقائی اور بین الاقوامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک غیر یقینی کیفیت پیدا ہو چکی ہے میرا محتاط اندازہ یہی ہے کہ پاکستان میں مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم سے قبل شاید آزاد کشمیر کے انتخابات کا انعقاد ممکن نہ ہو سکے۔خطے کی صورتحال اس وقت خاصی پیچیدہ ہے افغانستان کے ساتھ کشیدگی، ایران پر صہیونی اور امریکی دباؤ، اور مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست ایسے عوامل ہیں جو پاکستان کی داخلی ترجیحات کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ ان حالات میں یہ بعید نہیں کہ آئینی ترامیم میں تاخیر ہو اور اس کے نتیجے میں آزاد کشمیر کے انتخابات بھی مؤخر کرنے کا جواز پیدا کیا جائے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا ہر بار بیرونی حالات کو بنیاد بنا کر جمہوری عمل کو مخر کرنا درست حکمتِ عملی ہے؟
اگر تمام تر خدشات کے باوجود آزاد کشمیر کا موجودہ آئینی ڈھانچہ برقرار رہتا ہے اور روایتی طریقہ کار کے مطابق انتخابات کا اعلان کر دیا جاتا ہے تو ایک اہم مسئلہ جموں و کشمیر
کے مہاجرین کی 12 نشستوں کا بھی ہے۔ اگر وفاقی حکومت ان نشستوں کے خاتمے یا اصلاح کے حوالے سے اپنے وعدوں پر عملدرآمد نہیں کرتی تو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاج کی کال آنا ایک متوقع امر ہوگا۔ اس صورتحال کو بنیاد بنا کر انتخابات کو ملتوی کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے جو مزید سیاسی کشیدگی کو جنم دے گی۔یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کو آزاد کشمیر کی بہت بڑی اکثریت جائز سمجھتی ہے۔ اگر ان مطالبات کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا یا قیادت ان سے پیچھے ہٹ گئی تو ایک بے سمت عوامی ردعمل جنم لے سکتا ہے جسے کنٹرول کرنا مشکل ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب عوامی جذبات کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو احتجاج اپنی قیادت سے بھی آگے نکل جاتا ہے۔اس تمام تر صورتحال میں سب سے بنیادی اور اہم مطالبہ یہی ہے کہ انتخابات بروقت آزادانہ اور منصفانہ انداز میں
منعقد کئے جائیں۔ 2021 کے انتخابات اور اس سے قبل کے انتخابی تجربات نے عوام کے اندر بے چینی اور عدم اعتماد کو بہت بڑھایا ہے منتخب وزرائے اعظم کی بار بار تبدیلی، سیاسی وفاداریوں کا بدلنا اور اسلام آباد کے اثر و رسوخ کا تاثر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوامی مینڈیٹ کو مکمل احترام حاصل نہیں رہا۔ اگر اس روایت کو نہ بدلا گیا تو اب کی بار انتخابی عمل محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جائے گی۔ ریاستی جماعتوں کی موثر نمائندگی ایک اہم پہلو ہے جسے اب نظرانداز نہیں کیاجا سکتا۔اگر پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں آزاد کشمیر کے سیاسی عمل میں اسی طرح مکمل غلبہ رکھیں گی تو اس سے ریاستی شناخت متاثر ہوگی اور عوام میں احساسِ محرومی بڑھے گا۔ اس کے برعکس اگر ریاستی جماعتوں کو مضبوط کیا جائے اور انہیں حکومت سازی کے عمل میں حقیقی کردار دیا جائے تو اس سے نہ صرف آزاد کشمیر کا سیاسی تشخص بحال ہوگا بلکہ مقبوضہ کشمیر میں بھی ایک مثبت پیغام جائے گا۔
بھارت کی جانب سے 2019 میں آئینی تبدیلیوں کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ ایک بڑا سیاسی دھچکا تھا۔ اس کے بعد وہاں کے حالات نے یہ واضح کر دیا
ہے کہ طاقت کے ذریعے سیاسی مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔ ایسے میں آزاد کشمیر ایک متبادل ماڈل کے طور پر سامنے آ سکتا ہے ایک ایسا ماڈل جہاں عوامی نمائندگی، آئینی بالادستی اور سیاسی خودمختاری کو یقینی بنایا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے نہ صرف عالمی برادری کو ایک مثبت پیغام دیا جا سکتا ہے بلکہ کشمیری عوام کے اعتماد کو بھی بحال رکھا جا سکتا ہے۔ایک اور اہم تجویز یہ ہو سکتی ہے کہ آزاد کشمیر میں اقتدار کی تقسیم کو زیادہ متوازن بنایا جائے۔ مثال کے طور پر وزیرِ اعظم کا تعلق آزاد کشمیر کے اندر سے ہو جبکہ صدر کے عہدے کے لیے مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی کسی نمایاں شخصیت کو منتخب کیا جائے۔ اس سے نہ صرف ریاست کے دونوں حصوں کے درمیان ایک علامتی اور سیاسی ربط پیدا ہوگا بلکہ کشمیر کی وحدت کا تصور بھی مضبوط ہوگا۔یہ امر بھی انتہائی اہم ہے کہ پاکستان کی مرکزی سیاسی جماعتیں آزاد کشمیر کے معاملات میں حد سے زیادہ مداخلت سے گریز کریں۔ آزاد کشمیر کی اسمبلی کو ایک بااختیار ادارہ بنایا جائے جہاں فیصلے عوام کے منتخب نمائندے کریں نہ کہ لاڑکانہ لاہور اسلام آباد کے دباؤ یا سیاسی مفادات کے تحت۔ اگر یہی طرزِ عمل جاری رہا تو نہ صرف سیاسی عدم استحکام بڑھے گا بلکہ عوام کا اعتماد بھی مزید متزلزل ہوگا۔آخر میں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام ریاستِ پاکستان کے خلاف نہیں ہیں۔ وہ پاکستان کیساتھ اپنے رشتے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں مگر ساتھ ہی وہ اپنے سیاسی حقوق، شناخت اور باوقار جمہوری نظام کے بھی خواہاں ہیں ان کے اس حق کو تسلیم کرنا اور اس کا احترام کرنا ہی اصل دانشمندی ہے چونکہ ریاست جموں وکشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا اور نہ انڈیا کی طرح پاکستان نے آزاد کشمیر پر اپنی پوزیشن تبدیل کی یا اس کو کوئی اپنا صوبہ ڈکلیئر کیا ۔اسی لئے میرے نزدیک آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات محض ایک سیاسی عمل نہیں بلکہ ایک امتحان ہیں ریاستی اداروں، سیاسی قیادت اور جمہوری اقدار کیلئے۔ اگر یہ امتحان شفافیت، دیانت اور عوامی اعتماد کے ساتھ پاس کیا گیا تو یہ نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پورے خطے کیلئے ایک مثبت مثال قائم کرے گا۔ بصورتِ دیگر، غیر یقینی اور بے اعتمادی کا یہ سلسلہ مزید گہرا ہو سکتا ہے قابل افسوس بات یہ ہے آزاد کشمیر کی بڑی قد آور سیاسی شخصیات اب اس دنیا میں نہیں رہیں اور موجودہ اقتداری جماعتوں کے آزادکشمیر چیپٹر کے نمائندوں کے پاس کوئی ایسا لیڈر نہیں جو اپنے پاں پر کھڑا ہوکر آزاد کشمیر کے لوگوں کے کھل کر عوام یا کشمیریوں کی بات کرسکے چونکہ ہر کوئی اقتدار کی کرسی پر بیٹھنا چاہتا ہے اور انہیں معلوم ہے اقتدار تعریفیں کرنے سے ملتا ہے اس لیے لیپا پوشی اور خیرمقدمی نعروں سے کام چلایا جاتا ہے۔
کالم
آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات اور چیلنجز
- by web desk
- اپریل 2, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 224 Views
- 2 مہینے ago

