کالم

کوئی بھی فیک نیوز اور فیک کیسز کا شکار نہ بنے

پاکستان اس وقت ایک ایسے نازک دور سے گزر رہا ہے جہاں سچ اور جھوٹ کے درمیان لکیر دھندلا چکی ہے۔ سوشل میڈیا، یوٹیوب چینلز، ٹک ٹاک، ٹی وی ٹاک شوز اور سیاسی بیانیوں نے ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے کہ ہر شخص دوسرے پر الزام لگانے میں مصروف ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اب خبر سے زیادہ فیک نیوز طاقتور ہو چکی ہے، اور عدالت سے پہلے سوشل میڈیا فیصلے سنانے لگا ہے۔ کسی پر غداری کا الزام لگا دیا جاتا ہے، کسی کو کرپٹ کہا جاتا ہے، کسی کی کردار کشی کی جاتی ہے اور کسی کے خلاف ایسے مقدمات بنا دیے جاتے ہیں جن کا مقصد صرف سیاسی یا ذاتی انتقام ہوتا ہے۔اسلام نے تو چودہ سو سال پہلے ہی ہمیں اس فتنے سے خبردار کر دیا تھا۔ قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانستگی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔(سورة الحجرات:6 ) مولانا سید ابو الاعلی مودودی نے اس آیت کی تفسیر میں بہت خوبصورت بات لکھی کہ ایک اسلامی معاشرے کی بنیاد تحقیق، دیانت اور انصاف پر قائم ہوتی ہے۔ اگر بغیر تحقیق کے خبروں کو پھیلایا جائے تو معاشرے میں فساد، نفرت اور ظلم جنم لیتے ہیں۔ آج جب میں اپنے اردگرد کے حالات دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے قرآن کے اس واضح حکم کو بھلا دیا ہے۔ اب خبر کی سچائی نہیں دیکھی جاتی بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ خبر ہمارے حق میں ہے یا ہمارے مخالف کیخلاف۔میں یہ بات پوری دیانت داری سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر عمران خان کیخلاف جھوٹ بولا جائے تو بھی ظلم ہے، اور اگر خواجہ سعد رفیق، جاوید ہاشمی، حفیظ اللہ نیازی یا کسی اور سیاسی مخالف کے خلاف جھوٹ بولا جائے تو بھی ظلم ہے۔ انصاف صرف اپنے لوگوں کیلئے نہیں ہوتا بلکہ انصاف وہی ہوتا ہے جو مخالف کیلئے بھی یکساں ہو ۔ آج کل کچھ لوگ صبح سے شام تک یوٹیوب چینلز اور سوشل میڈیا پر بیٹھ کر مخالفین کیخلاف زہر اگلتے ہیں۔ بغیر کسی ثبوت کے لوگوں کی عزتیں اچھالی جاتی ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ جھوٹ بولنے والا چند گھنٹوں میں لاکھوں ویوز حاصل کر لیتا ہے جبکہ سچ خاموش کھڑا رہ جاتا ہے۔ کسی کی ماں، بہن، بیٹی یا خاندان کو نشانہ بنانا اب معمول بنتا جا رہا ہے۔ کیا یہی وہ معاشرہ ہے جس کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا؟ کیا یہی وہ اخلاقیات ہیں جن کی تعلیم اسلام دیتا ہے؟میں نے اپنی زندگی میں بہت سے سیاسی ادوار دیکھے ہیں۔ 1970 کے انتخابات بھی دیکھے، سیاسی جلسے بھی دیکھے اور نظریاتی سیاستدان بھی دیکھے۔ مجھے خواجہ رفیق مرحوم کے جلسوں میں جانے اور سٹیج پر ان کے ساتھ بیٹھنے کا شرف حاصل رہا۔ وہ اختلاف کرتے تھے مگر شائستگی کے ساتھ۔ وہ سیاست کو دشمنی نہیں سمجھتے تھے۔ آج اگر ان کے نام پر سیاست کرنیوالے صرف اپنے لیے انصاف مانگیں اور مخالفین کے دکھ پر خاموش رہیں تو یہ ان بزرگوں کی سیاست کے ساتھ ناانصافی ہو گی۔میں چند دن پہلے دبئی سے واپس آیا ہوں۔ واپس آتے ہی ایک ایسے جنازے میں شرکت کی جس نے دل ہلا کر رکھ دیا۔ ایک باپ دنیا سے چلا گیا کیونکہ وہ اپنے بیٹے کو آخری بار نہ دیکھ سکا۔ اس کا بیٹا، راجہ احسان، نو مئی کے مقدمات میں سزا یافتہ ہے۔ باپ کی آخری خواہش تھی کہ وہ اپنے بیٹے کا چہرہ دیکھ لے، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ ایک باپ اپنے بیٹے کی جدائی میں دنیا سے رخصت ہو گیا۔ یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کیلئے سوالیہ نشان ہے ۔میں یہ نہیں کہتا کہ قانون ختم کر دیا جائے یا مجرموں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ جرم اگر ثابت ہو تو سزا ہونی چاہیے لیکن سزا قانون دے، نفرت نہ دے۔ عدالت دے، انتقام نہ دے۔ اگر کسی پر جھوٹا مقدمہ بنایا جائے تو یہ بھی ظلم ہے، کیونکہ فیک کیس صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے خاندان کو اذیت دیتا ہے ۔مسلم لیگ نون کے رہنما حفیظ اللہ نیازی جیسے لوگ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ ان کے خاندان کے افراد برسوں سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ دوسری طرف خواجہ سعد رفیق اور دیگر سیاستدان بھی مقدمات اور الزامات کی سختیوں سے گزر چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی اجتماعی طور پر یہ مطالبہ کیا کہ ہر پاکستانی کو یکساں انصاف ملے؟ یا ہم صرف تب بولتے ہیں جب ظلم ہمارے اپنے دروازے تک پہنچتا ہے؟جاوید ہاشمی جیسے لوگ اس ملک کی سیاسی تاریخ کا اثاثہ ہیں۔ انہوں نے جیلیں کاٹیں، کوڑے کھائے، آمریتوں کا سامنا کیا مگر اپنے نظریے سے پیچھے نہ ہٹے۔ آج اگر ایسے لوگوں کو فراموش کر دیا جائے تو نئی نسل سیاست سے کیا سیکھے گی؟ مجھے اس بات پر بھی شدید دکھ ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں ادارے بھی بعض اوقات یکطرفہ نظر آتے ہیں۔ اگر کسی طاقتور شخصیت کیخلاف کوئی خبر چل جائے تو فوری کارروائی ہوتی ہے، مگر اگر کسی عام کارکن یا مخالف سیاستدان کی عزت پامال ہو جائے تو خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ یہی دوہرا معیار معاشرے میں نفرت پیدا کرتا ہے۔ اگر فیک نیوز کیخلاف کارروائی ہونی ہے تو وہ سب کیلئے ہونی چاہیے، چاہے متاثرہ شخص حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں ۔ اسلام توہمیں عدل، تحقیق اور برداشت کا درس دیتا ہے۔ نبی کریم ۖ نے فرمایا کہ ایک مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔ مگر آج ہماری زبانیں ہی سب سے بڑا ہتھیار بن چکی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر لوگوں کو گالیاں دینا، کردار کشی کرنا اور جھوٹ پھیلانا عام ہو گیا ہے ۔ ہم بھول گئے ہیں کہ ہر لفظ کا حساب اللہ کے سامنے دینا ہو گا۔میں تمام سیاسی جماعتوں، صحافیوں، یوٹیوبرز، اینکرز اور ریاستی اداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ خدارا اس ملک کو نفرت کی آگ میں مزید نہ جھونکیں ۔ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے کی ہمت پیدا کریں ۔ اگر کوئی شخص جھوٹ پھیلاتا ہے تو اس کیخلاف کارروائی ضرور کریں لیکن انصاف کا پیمانہ سب کیلئے ایک ہونا چاہیے۔یہ ملک صرف ایک جماعت یا ایک خاندان کا نہیں بلکہ بائیس کروڑ پاکستانیوں کا ہے ۔یہاں عمران خان بھی پاکستانی ہے، خواجہ سعد رفیق بھی پاکستانی ہے، جاوید ہاشمی بھی پاکستانی ہے اور وہ عام کارکن بھی پاکستانی ہے جو جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنے بوڑھے والدین کی دعاؤں کا منتظر ہے ۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم نفرت کی سیاست چاہتے ہیں یا انصاف کی ریاست۔ اگر ہم نے فیک نیوز، جھوٹے مقدمات اور کردار کشی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بند نہ کیا تو آنیوالی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی کیونکہ جھوٹ وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے مگر قوموں کی بنیادیں کھوکھلی کر دیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس ملک کو سچائی، انصاف، برداشت اور تحقیق کی روش عطا فرمائے ۔ کوئی بھی انسان، چاہے وہ کوئی لیڈر ہو یا کوئی عام شہری، فیک نیوز اور فیک کیسز کا شکار نہ بنے۔ یہی ایک اسلامی، مہذب اور جمہوری معاشرے کی اصل پہچان ہے ۔ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا سچ یہی ہے کہ سچ بولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے