کالم

پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کیوں ممکن نہیں !

آج کل فیس بک یوٹیوب اور دیگر میڈ میڈیا ذرائع میں عطا مری بلوچ اور انڈین اینکرز کا ٹاکرا دنیا بھر میں موجود اردو سمجھنے والوں کیلئے بہت دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے ۔انڈیا کے اینکرز اپنی ازلی چالاکی چاپلوسی بے ایمانی جھوٹی تعریف اور بددیانتی پر مبنی لہجے میں جب 29 سالہ عطا مری بلوچ سے اپنی پسند اور اپنے مطلب کے مطابق مفاد کے پیمانوں میں لپٹے الجھے لفظوں کیکے مطابق جواب نہیں حاصل کر سکتے تو سر پیٹتے ہوئے ہر دیکھنے والے کو نظر اتے ہیں اورہر ایک کی ہنسی چھوٹ جاتی ہیں ۔ کیونکہ اس کم پڑھے لکھے لیکن خالص پاکستانی محب وطن بلوچ کے لہجے میں کوئی لگی لپٹی نہیں ہوتی انڈین اینکر رقیب لیاقت نے جب عطا مری بلوچ سے سوال کیا کہ پاکستان کے اندر مہنگائی غربت اور بے روزگاری اسمان کو چھو رہی ہے مگر تمہارے حکمران ایران سے سستا تیل لے کر ان مسائل پر قابو پانے کی کوشش کیوں نہیں کرتے تو اس نے کہا تھا کہ ہم ۔اپنے ملک کو چلانے سمجھنے اور اگے لے کر جانے کیلئے تم جیسے دلالوں کی نہ ہی مشوروں کی ضرورت ہے اور نہ ہی حمایت کی تو رقم کو بھی سوچنے سمجھنے اور کچھ ملکی اور بین الاقوامی مجبوریوں اور حالات پر لکھنے کیلئے قلم اٹھانا پڑا کیونکہ عالمی سیاست کا مروجہ اور ابدی اصول یہ ہے کہ بین الاقوامی تعلقات کی بساط پر نہ کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی مستقل دشمن، یہاں صرف اور صرف ریاستوں کے اپنے جغرافیائی اور معاشی مفادات ہی مستقل ہوتے ہیں آج جب دنیا ایران پر عائد سخت ترین امریکی اور یورپی پابندیوں کے باوجود چین اور روس جیسے ممالک کو ایرانی بندرگاہوں اور آئل ٹرمینلز سے بلا جھجک خام تیل خریدتے ہوئے دیکھتی ہے، تو ہر عام اور خاص پاکستانی کے ذہن میں یہ سوال ایک چبھن بن کر ابھرتا ہے کہ آخر پاکستان، جو ایران کا براہِ راست ہمسایہ ہے، تاریخی و ثقافتی رشتوں میں بندھا ہوا ہے اور خود تاریخ کے شدید ترین توانائی کے بحران سے گزر رہا ہے، اس سستے اور سستے داموں دستیاب ایرانی تیل سے فائدہ کیوں نہیں اٹھا پا رہا کیا یہ محض امریکی انتظامیہ کے دبا کا عارضی خوف ہے، یا اس سٹریٹجک گتھی کے پیچھے عالمی مالیاتی نظام کی ایسی گہری اور اندھی جڑیں موجود ہیں جن کا ادراک کیے بغیر کوئی بھی ریاستی فیصلہ خودکشی کے مترادف ہو سکتا ہے اس تزویراتی مخمصے کو سمجھنے کیلئے جذباتیت کے حصار سے نکل کر عالمی طاقتوں کے مالیاتی ہتھیاروں، جیو پولیٹیکل وزن اور پاکستان کی اپنی بقا کی جنگ کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لینا ہو گا اگر تہران پر عائد واشنگٹن کی پابندیوں کی موجودہ لہر کا تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ چین اور روس کے پاس وہ مخصوص اقتصادی وزن اور متبادل فنانشل انفراسٹرکچر موجود ہے جو پاکستان کے پاس ابھی مفقود ہے چین اس وقت عالمی معاشی سٹیج پر ایک ایسی متبادل سپر پاور کے طور پر ابھر چکا ہے جو امریکی ڈالر کے تسلط کو چیلنج کرنے کی سکت رکھتی ہے چین ایرانی تیل کی خریداری کے لیے روایتی مغربی بینکنگ نیٹ ورک یعنی سوئفٹ سسٹم کا سرے سے استعمال ہی نہیں کرتا، بلکہ اس نے مقامی کرنسیوں کے تبادلے کا ایک متوازی نظام وضع کر رکھا ہے جس کے تحت ادائیگی چینی کرنسی یوآن میں کی جاتی ہے اور بعد میں ایران اسی یوآن کے عوض چینی مارکیٹ سے اپنی ضرورت کی صنعتی اور دفاعی مصنوعات بارٹر ٹریڈ یا براہِ راست تجارت کے ذریعے حاصل کر لیتا ہے مزید برآں، چین کی بڑی سرکاری کمپنیاں جو مغربی دنیا میں کاروبار کرتی ہیں، وہ ان پابندیوں کی زد سے بچنے کیلئے ایران کے ساتھ براہِ راست لین دین نہیں کرتیں، بلکہ یہ ٹاسک چین کی چھوٹی اور نجی ریفائنریز کو سونپا گیا ہے جن کا امریکہ یا یورپ میں کوئی مالیاتی مفاد یا اثاثہ نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے امریکی سیکنڈری پابندیاں ان پر اثر انداز نہیں ہو پاتیں روس کا معاملہ یہ ہے کہ وہ خود مغرب کی سخت ترین پابندیوں کا ہدف ہے، اس لیے ماسکو اور تہران کا گٹھ جوڑ دو ایسے ممالک کا اتحاد بن چکا ہے جن کے پاس کھونے کیلئے کچھ نہیں ہے اور وہ دفاعی ٹیکنالوجی، ہائی ٹیک ہتھیاروں اور سٹریٹجک مصنوعات کے تبادلے کے ذریعے ڈالر کو مکمل بائی پاس کر چکے ہیں دوسری طرف، جب ہم بھارت کے ایرانی تیل خریدنے اور امریکی لچک کا معاملہ دیکھتے ہیں، تو اس کے پیچھے کوئی بھارتی برتری یا صلاحیت کارفرما نہیں ہے، بلکہ یہ مغرب اور اس کے حواریوں کا ایک کھلا اور منظم سٹریٹجک ایجنڈا ہے حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل، امریکہ، یورپی ممالک، اور یو اے ای ابوظہبی اور دبئی سمیت چند خلیجی قوتیں مل کر ایک طے شدہ منصوبے کے تحت بھارت کو خطے میں مضبوط کرنا چاہتی ہیں ان تمام طاقتوں کی مشترکہ جیو پولیٹیکل خواہش ہے کہ بھارت کا تزویراتی وزن بڑھایا جائے، اور اسی لیے اسے ایران کے قریب لا کر چابہار بندرگاہ پر بٹھایا جا رہا ہے چابہار پر بھارت کی موجودگی کوئی معاشی شراکت داری نہیں، بلکہ ایک گہرا سٹریٹجک منصوبہ ہے جس کا اصل مقصد پاکستان کے بالکل سامنے سرحد پر ایک ایسا اڈا قائم کرنا ہے جہاں سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا نیٹ ورک آپریٹ کیا جا سکے امریکہ اور اسرائیل کی شہ پر خلیجی سرمایہ اور یورپی تائید مل کر بھارت کو اس قابل بنا رہے ہیں کہ وہ ایران کی سرزمین اور چاہ بہار کو پاکستان کی معیشت اور سی پیک کیخلاف ریشہ دوانیوں کیلئے استعمال کرے اس عالمی لاڈ پیار اور سٹریٹجک تھپکی کی وجہ سے ہی بھارت ایران پر عائد امریکی پابندیوں سے فائدہ بھی اٹھاتا ہے اور گوادر کے مقابلے میں چاہ بہار پر بیٹھ کر پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی ناپاک کوششوں میں بھی مصروف ہے پاکستان کا جیو سٹریٹجک اور معاشی پس منظر اس گٹھ جوڑ کی وجہ سے یکسر مختلف اور کٹھن ہو جاتا ہے، جہاں امریکی دبائو اور پابندیوں کا خطرہ محض ایک فرضی یا نفسیاتی خوف نہیں بلکہ ایک حتمی اور تلخ معاشی حقیقت ہے پاکستان کا پورا فنانشل اور بینکنگ سسٹم سو فیصد امریکی ڈالر اور مغربی مالیاتی اداروں کے رحم و کرم پر چل رہا ہے اگر پاکستان کی کوئی بھی بینک، سرکاری ادارہ یا نجی ریفائنری ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے بڑے اور آفیشل مالیاتی لین دین کا آغاز کرتی ہے تو امریکہ فوری طور پر اس مخصوص ادارے کو بلیک لسٹ کر کے عالمی مالیاتی نظام سے کاٹ دے گا، جس کا براہِ راست اثر یہ ہوگا کہ پاکستان کی پوری دنیا کے ساتھ ہونیوالی قانونی تجارت، درآمدات اور برآمدات یکدم مفلوج ہو کر رہ جائیں گی اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ پاکستان اس وقت اپنی معاشی بقا، ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے اور دیوالیہ پن سے بچنے کیلئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے پروگراموں، ورلڈ بینک کے قرضوں اور پیرس کلب جیسے اداروں کی امداد پر منحصر ہے۔ جہاں امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کو ویٹو پاور اور فیصلہ کن اثرو رسوخ حاصل ہے۔
(……جاری ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے