تاریخ کبھی اچانک نہیں پھٹتی۔ کسی خطے میں جب سڑکیں بند ہوتی ہیں، بازار ویران ہوتے ہیں، نوجوان لاٹھیوں اور آنسو گیس کے درمیان کھڑے نظر آتے ہیں اور ریاست اپنے تمام اختیارات کے ساتھ میدان میں اتر آتی ہے تو اس کے پیچھے برسوں کی بے چینی، محرومیاں، غلط فیصلے اور ادھورے مکالمے کارفرما ہوتے ہیں۔ آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور ریاستی اداروں کے درمیان پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی بھی کسی ایک دن یا ایک فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل سیاسی، معاشی اور آئینی عمل کا منطقی اظہار ہے۔ آزاد کشمیر کی سیاست کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ یہاں عوامی ناراضی کا سلسلہ آج سے نہیں بلکہ کئی برسوں سے مختلف شکلوں میں موجود رہا ہے۔ کبھی مہنگائی کے خلاف آواز اٹھی، کبھی بجلی کے نرخوں کے خلاف احتجاج ہوا، کبھی وسائل پر مقامی حقِ ملکیت کا مطالبہ سامنے آیا اور کبھی یہ سوال اٹھا کہ آخر آزاد کشمیر کے عوام کو اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ سازی میں کتنا اختیار حاصل ہے۔ انہی سوالات نے وقت کے ساتھ مل کر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو جنم دیا۔ اس پوری صورتحال کو سمجھنے کے لیے صرف موجودہ واقعات کافی نہیں۔ اس کی جڑیں آزاد کشمیر کے سیاسی ڈھانچے میں پیوست ہیں۔ 1947 کے بعد وجود میں آنے والا آزاد کشمیر ایک منفرد سیاسی بندوبست کے تحت چلتا رہا۔ ایک طرف اسے داخلی خود حکمرانی دی گئی اور دوسری طرف دفاع، خارجہ امور اور بعض اہم شعبے پاکستان کے ساتھ وابستہ رہے۔ 1974کے عبوری آئین نے اس بندوبست کو مزید واضح شکل دی۔ اسی آئینی فریم ورک نے ایک طرف حکومت، اسمبلی اور عدلیہ کو اختیارات دیے اور دوسری طرف بعض بنیادی معاملات کو پاکستان کے وسیع تر کشمیر موقف کے ساتھ جوڑ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والا ہر بڑا سیاسی تنازعہ صرف مقامی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ قومی سطح کی اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔ ابتدا میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی تاجروں، وکلا، طلبہ، ٹرانسپورٹرز اور مختلف شہری حلقوں کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم تھی۔ اس کے مطالبات بنیادی طور پر معاشی نوعیت کے تھے۔ عوام سستی بجلی چاہتے تھے، آٹے کی مناسب قیمت چاہتے تھے اور حکمران طبقے کی مراعات پر سوال اٹھا رہے تھے۔ اس وقت شاید کسی نے بھی نہیں سوچا تھا کہ یہی تحریک چند برسوں بعد آزاد کشمیر کی سب سے طاقتور عوامی قوت کے طور پر سامنے آئے گی اور ریاستی پالیسیوں کو براہ راست چیلنج کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے گی۔ سال 2024 اس پوری کہانی کا اہم ترین موڑ ثابت ہوا۔ پاکستان میں شہباز شریف وزیر اعظم تھے جبکہ آزاد کشمیر میں چوہدری انوار الحق کی حکومت قائم تھی۔ مئی 2024 میں بجلی کے نرخوں، آٹے کی قیمتوں اور معاشی مشکلات کے خلاف احتجاجی لہر شدت اختیار کر گئی۔ ابتدا میں حکومت نے اسے معمول کا احتجاج سمجھا لیکن جیسے جیسے تحریک پھیلتی گئی، ریاستی ردعمل بھی سخت ہوتا گیا۔ آنسو گیس کا استعمال کیا گیا اور پھر وہ لمحہ بھی آیا جب تصادم میں انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ یہ وہ مقام تھا جہاں ریاست اور عوامی تحریک دونوں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔ بالآخر وفاقی حکومت کو مداخلت کرنا پڑی، مالیاتی پیکیج دیا گیا،اس مرحلے پر عوامی ایکشن کمیٹی نے اسے اپنی کامیابی قرار دیا جبکہ حکومت نے اسے مسئلے کا سیاسی حل کہا۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ مسئلہ ختم نہیں ہوا تھا بلکہ صرف موخر ہوا تھا۔ 2025 میں تحریک دوبارہ منظم ہوئی اور اس بار مطالبات صرف معاشی نہیں رہے تھے۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے ایک وسیع اصلاحاتی ایجنڈا پیش کیا۔ اس عرصے میں کمیٹی نے خود کو صرف ایک احتجاجی تحریک کے بجائے ایک عوامی نمائندہ قوت کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا۔ یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آزاد کشمیر میں پن بجلی کے بڑے منصوبے موجود ہیں اور طویل عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ ان منصوبوں سے حاصل ہونیوالے فوائد کا کتنا حصہ مقامی آبادی کو ملنا چاہیے۔
ستمبر اور اکتوبر 2025 میں احتجاجی سرگرمیوں نے دوبارہ شدت اختیار کی،حالات کشیدہ ہوتے گئے۔ مختلف مقامات پر تصادم ہوئے جن میں جانی نقصان بھی ہوا۔ اس کے بعد مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ حکومت نے دعوی کیا کہ متعدد مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کا مقف تھا کہ معاہدوں پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔ یہی اختلاف بعد میں ایک بڑے بحران کی بنیاد بنا۔ 2026 میں تنازعے نے ایک نئی شکل اختیار کر لی۔ اس مرتبہ بحث مہنگائی یا بجلی کے نرخوں کی نہیں بلکہ آزاد کشمیر اسمبلی کی ان بارہ نشستوں کی تھی جو مہاجرینِ کشمیر کے لیے مخصوص ہیں۔ یہ نشستیں 1947 کے بعد پاکستان منتقل ہونے والے کشمیریوں کی نمائندگی کے لیے مختص کی گئی تھیں اور آزاد کشمیر کے 1974 کے عبوری آئین میں انہیں آئینی تحفظ حاصل تھا۔ عوامی ایکشن کمیٹی اور اسکے حامی حلقے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آزاد کشمیر میں رہنے والے لوگوں کی نمائندگی پر ان نشستوں کا کیا اثر پڑتا ہے اور کیا مقامی آبادی کو زیادہ فیصلہ سازی کا اختیار نہیں ملنا چاہیے۔ یہیں سے ایک بنیادی سیاسی اور نظریاتی اختلاف سامنے آیا۔ جون 2026 میں جب آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے ان نشستوں کے آئینی تحفظ کو برقرار رکھا تو عوامی ایکشن کمیٹی نے احتجاجی تحریک کو مزید تیز کر دیا۔ حالات تیزی سے کشیدہ ہونے لگے۔ حکومت نے کمیٹی پر پابندی عائد کر دی، متعدد رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا نیٹ سروس بند کر دی گئی۔ ریاست کا موقف تھا کہ یہ اقدامات امن و امان کی بحالی کے لیے ضروری ہیں جبکہ کمیٹی اور اس کے حامیوں نے اسے سیاسی آواز دبانے کی کوشش قرار دیا۔ اس دوران آزاد کشمیر میں وزیر اعظم کے منصب پر فیصل ممتاز راٹھور موجود ہیں جبکہ وفاق میں بدستور شہباز شریف کی حکومت ہے۔ دونوں حکومتوں نے مختلف مواقع پر مذاکرات کی بات بھی کی اور سخت اقدامات بھی کیے۔ یہی دوہرا طرز عمل اس بحران کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس بحران کا سب سے المناک باب راولاکوٹ میں لکھا گیا جہاں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔لوگ مارے گئے، اور پورا خطہ ایک خوفناک بے یقینی کا شکار ہو گیا۔ یہاں پہنچ کر سب سے اہم سوال پاکستانی ریاست کے کردار کا پیدا ہوتا ہے۔ ایک طرف ریاست کا موقف ہے کہ امن و امان برقرار رکھنا اس کی ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی تحریک ریاستی نظم کو چیلنج کرے یا تصادم کی کیفیت پیدا ہو تو حکومت خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔ ریاست یہ بھی کہتی ہے کہ مہاجرین کی نمائندگی اور کشمیر پالیسی کے بعض پہلو محض مقامی نہیں بلکہ قومی نوعیت کے معاملات ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر 2024 میں عوامی مطالبات جائز تھے اور انہی مطالبات پر مذاکرات بھی ہوئے تھے تو پھر 2026 میں انہی حلقوں کے ساتھ سیاسی مکالمے کے بجائے تصادم کی فضا کیوں پیدا ہوئی؟ کیا سیاسی سوالات کا جواب سیاسی عمل کے ذریعے نہیں دیا جانا چاہیے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔ تاہم انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کو مکمل طور پر تنقید سے بالاتر قرار نہ دیا جائے۔ دنیا کی ہر عوامی تحریک اپنی اخلاقی قوت سے زندہ رہتی ہے۔ اگر احتجاج ایسے مرحلے میں داخل ہو جائے جہاں ریاستی اداروں کے ساتھ براہ راست تصادم معمول بن جائے تو تحریک کی اخلاقی برتری متاثر ہوتی ہے۔ اس پورے بحران میں سب سے زیادہ نظر انداز ہونے والی حقیقت شاید یہ ہے کہ آزاد کشمیر کا مسئلہ صرف بارہ نشستوں، چند احتجاجوں یا چند گرفتار رہنماؤں کا مسئلہ نہیں۔ اصل مسئلہ اعتماد کا بحران ہے۔ ایک طرف عوام کا ایک طبقہ سمجھتا ہے کہ اس کی آواز مکمل طور پر نہیں سنی جا رہی، دوسری طرف ریاست کو خدشہ ہے کہ بعض مطالبات مستقبل میں بڑے سیاسی اور آئینی نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ آج جب ہم اس پورے بحران کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک حقیقت پوری وضاحت کیساتھ سامنے آتی ہے کہ آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال کسی ایک حکومت، ایک جماعت یا ایک ادارے کی پیدا کردہ نہیں۔یہ برسوں سے جمع ہونے والی معاشی محرومیوں، سیاسی بے اعتمادی، آئینی ابہام اور حکمرانی کے مسائل کا مجموعہ ہے۔ چوہدری انوار الحق کی حکومت ہو یا بعد میں فیصل ممتاز راٹھور کی انتظامیہ، وفاق میں شہباز شریف کی حکومت ہو یا ریاستی ادارے، سب نے کسی نہ کسی مرحلے پر صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ طاقت اور سیاسی مکالمے کے درمیان مطلوبہ توازن ہمیشہ برقرار نہیں رکھا جا سکا۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت وقتی خاموشی پیدا کر سکتی ہے مگر پائیدار استحکام پیدا نہیں کر سکتی۔ اسی طرح سڑکوں پر نکلنے والی تحریکیں وقتی دبا تو پیدا کر سکتی ہیں مگر مستقل تبدیلی کے لیے انہیں بھی سیاسی بصیرت اور آئینی راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ آزاد کشمیر آج اسی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ریاست کو اپنے شہریوں کی بات سننے کی ضرورت ہے اور عوامی تحریکوں کو اپنے مطالبات کو سیاسی عمل کے اندر موثر انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ شاید یہی وہ راستہ ہے جو اس خوبصورت مگر مسلسل بے چینی کا شکار خطے کو تصادم سے نکال کر استحکام، انصاف اور اعتماد کی طرف لے جا سکتا ہے۔
کالم
آزاد کشمیر… تصادم کے پیچھے چھپی کہانی
- by web desk
- جون 12, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 6 Views
- 1 گھنٹہ ago

