

پاکستان کے قریبی ترین بین الاقوامی شراکت داروں میں ترکیہ کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔یہ تعلقات تاریخی بنیادوں پر استوار ہیں اور مشترکہ اقدار،اسٹریٹجک تعاون اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان پائے جانے والے مخلصانہ جذبات و محبت

امریکہ اور ایران کے درمیان فائرنگ کا تازہ ترین تبادلہ ہمیں ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ جنگ بندی صرف دستخطوں سے نہیں بلکہ سیاسی تحمل سے بھی برقرار رہتی ہے۔آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی بحری جہاز کے خلاف

وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کی قیادت کا پاکستان کے ثالث کے کردار پر اعتماد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد اپنی سفارتی کوششوں کو “دائمی امن کے حصول تک” جاری رکھے گا اور اس عزم

امریکہ ایران 60 دنوں کے اندر حتمی ڈیل کیلئے روڈ میپ پر متفق ہیں۔ تکنیکی سطح کے مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں باقی ہفتے تک جاری رہیں گے۔امریکہ اور ایران آبنائے ہرمز میں واقعات سے بچنے کیلئے مواصلاتی لائن قائم کرنے پر

امریکہ اور ایران کے درمیان ابتدائی معاہدے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ایرانی ہم منصب مسعود پیزشکیان نے الیکٹرانک طور پر دستخط کیے ہیں اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے بطور ثالث اس کی توثیق کی ہے۔

واشنگٹن نے امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کا باضابطہ مسودہ جاری کردیا جس میں فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل طورپر جنگ ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے معاہدے کے تحت فریقین ایک دوسرے کی خودمختاری کا

ایران امریکہ معاہدے کو دنیا کے بیشتر حصوں میں راحت کی سانس ملی ہے۔اس کے باوجود راحت کو یقین کی غلطی نہیں کرنی چاہئے۔زیادہ امکان یہ ہے کہ یہ معاہدہ پائیدار امن کی بنیاد کے بجائے کاغذ کا ایک نازک

آخرکار ایک معاہدہ ہوا ہے۔امریکہ اور ایران نے باڑ کو ٹھیک کرنے اور جنگ کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔یہ ایک عہد ساز لمحہ ہے،اور اسلام آباد اس کیلئے مکمل کریڈٹ کا مستحق ہے ۔جمعہ کو سوئٹزرلینڈ

امریکی اور ایرانی حکام نے کہا کہ انہوں نے جنگ کے خاتمے،ایران کی امریکی ناکہ بندی کو روکنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لئے ایک لائحہ عمل پر اتفاق کیا ہے،یہ ایک ابتدائی معاہدہ ہے جس نے تیل

پاکستان کے غیر ملکی قرضے میں رواں مالی سال کے پہلے دس مہینوں میں 83 فیصد تک کا اضافہ ہوا،حکومت نے تقریبا 11 بلین ڈالر کے بیرونی قرضے حاصل کیے جو کہ پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں