- الإعلانات -

کورونا وائرس کا دوسرا حملہ زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے، ماہرین

نیواڈا: طبّی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جو لوگ ناول کورونا وائرس سے ایک بار متاثر ہو کر صحتیاب ہوچکے ہیں یہ وائرس ان پر دوسری بار بھی حملہ آور ہوسکتا ہے جبکہ دوسرا حملہ، پہلے سے زیادہ خطرناک اور جان لیوا ہوسکتا ہے۔ نیواڈا کے ایک 25 سالہ نوجوان کے بارے میں بتایا گیا ہے جو اپریل کے مہینے میں کورونا وائرس کا شکار ہوا لیکن اس بیماری کو شکست دینے میں کامیاب ہوگیا۔ تاہم یہی بیماری جون کے مہینے میں اس پر دوبارہ حملہ آور ہوگئی۔

ناول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری ’’کووِڈ 19‘‘ کا یہ دوسرا حملہ زیادہ شدید تھا جس کے نتیجے میں اس نوجوان کے خون میں آکسیجن کم ہونے کے علاوہ اسے دم گھٹنے کا احساس بھی ہونے لگا۔ جینیاتی تجزیئے سے معلوم ہوا کہ اس نوجوان کو دوسری بار متاثر کرنے والا کورونا وائرس، پہلے والے کورونا وائرس سے بہت تھا۔ مطلب یہ کہ کورونا وائرس ہمارے اندازوں کے مقابلے میں بہت تیزی سے ارتقاء پذیر ہورہا ہے۔

کیس رپورٹ میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ناول کورونا وائرس کا دوسرا حملہ، پہلے حملے سے زیادہ شدید اور خطرناک ہونے کے علاوہ ہلاکت خیز بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ اس حوالے سے اب تک ہالینڈ سے ایک 89 سالہ بوڑھی خاتون کے مرنے کی خبر آچکی ہے جو کورونا وائرس کے پہلے حملے میں بچ گئی تھیں لیکن دوسرے حملے میں وائرس نے ان کی جان لے لی۔ تاہم وہ خاتون پہلے ہی سے کینسر میں بھی مبتلا تھیں اور ان کی کیموتھراپی جاری تھی۔

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما راشد ربانی کے بارے میں بھی یہی کہا جارہا ہے کہ ان کی موت کورونا وائرس کے دوسرے حملے سے ہوئی تھی۔ پہلی بار وہ مئی کے مہینے میں کورونا وائرس سے متاثر ضرور ہوئے تھے جس کا پتا کورونا وائرس کے ٹیسٹ سے چلا تھا۔ لیکن ان میں علامات ظاہر نہیں ہوئیں اور کچھ دن بعد وہ صحتیاب ہوگئے۔

ان پر کورونا وائرس کا دوسرا حملہ ستمبر کے اختتامی دنوں میں ہوا جو پہلے حملے سے زیادہ شدید تھا؛ اور اسی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کو ایک بار شکست دے کر صحتیاب ہوجانے والے افراد اس خوش فہمی میں مبتلا نہ رہیں کہ یہ وائرس ان پر دوبارہ حملہ نہیں کرے گا، بلکہ انہیں اور زیادہ محتاط ہوجانا چاہیے کیونکہ کورونا وائرس کا دوسرا حملہ پہلے والے حملے سے زیادہ خطرناک اور جان لیوا تک ثابت ہوسکتا ہے۔