- الإعلانات -

کیا نیند کی کمی بھی کرونا کے خطرے کو بڑھا دیتی ہے؟ تحقیق میں خوفناک انکشاف

محققین نے رات کی پرسکون نیند کو کرونا کے خطرے میں کمی کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ رات نیند کا ہر اضافی گھنٹا کووڈ 19 کا خطرہ 12 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند پوری نہ ہونے سے سب سے پہلا اثر آپ کی جسمانی توانائی اور دماغی کارکردگی پر پڑتا ہے۔ نیند کی کمی سے آپ سارا دن تھکن اور سستی کا شکا رہیں گے۔ آپ اپنے کام ٹھیک طرح سے انجام نہیں دے سکیں گے، نہ ہی نئے تخلقیی خیالات سوچ سکیں گے۔

یہی نہیں نیند کی کمی آپ کو بدمزاج اور چڑچڑا بھی بنا سکتی ہے۔ طویل عرصے تک نیند کی کمی کا شکار رہنے والے افراد موٹاپے، ڈپریشن، ذیابیطس، ذہنی دباؤ اور امراض قلب کا شکار ہوجاتے ہیں۔ 22 مارچ کو طبی جریدے بی ایم جے نیوٹریشن، پریونٹیشن اینڈ ہیلتھ میں شائع ہونے والی تحقیق میں ماہرین کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ نیند کی کمی کے باعث کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

حالیہ میں کہا گیا ہے کہ اچھی نیند اور اپنی ملازمتوں سے مطمئن افراد میں کرونا کا خطرہ کافی حد تک کم ہے۔
ماہرین کی جانب سے اس تحقیق میں میڈیکل اسٹاف کو بھی شامل کیا گیا جو کرونا مریضوں کا بہت زیادہ سامنا کرتے ہیں اور ہر وقت خطرے سے دوچار رہتے ہیں۔ تحقیق میں 2844 ہیلتھ ورکرز کو شامل کی گیا تھا اور نتائج سے معلوم ہوا کہ رات کو نیند کا ہر اضافی گھنٹا کووڈ 19 کا شکار ہونے کا خطرہ 12 فیصد تک کم کردیتا ہے مگر دوپہر کو نیند کا ہر اضافی گھنٹہ اس خطرے کو 6 فیصد تک بڑھا دیتا۔

تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ جو لوگ ملازمت سے متعلق تھکاوٹ یا جسمانی توانائی میں کمی کے مسئلے کا شکار ہوتے ہیں، ان میں کووڈ 19 کی تشخیص کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں 2.6 گنا زیادہ ہوتا ہے۔ حالیہ تحقیق میں ایسے عناصر کی نشاندہی کی گئی ہے جس کا تعلق صفائی ستھرائی سے نہیں بلکہ مناسب نیند اور ملازمت سے غیر امطمئن افراد میں تناؤ لاتا ہے اور وبا کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ رات کو نیند کے جتنے زیادہ مزے لیں گے اتنا زیادہ کسی بھی بیماری کے خلاف لڑنے کےلیے اپنے جسم کو تیار کریں گے۔ واضح رہے کہ یہ پہلی تحقیق ہے جس میں نیند کی کمی کو کرونا کا خطرہ بڑھانے کا باعث قرار دیا گیا ہے۔