صحت

انسانی اعضاء کی پیوندکاری جانوروں میں ہوگی

جاپانی حکومت نے اپنے قوانین میں تبدیلی کرکے ماہرین کو جانوروں میں انسانی اعضاء کی پیوندکاری و نشو و ونما کی اجازت دے دی۔

جاپانی ماہرین پہلے بھی چوہوں اور سوئر میں انسانی اعضاء کی پیوندکاری کے تجربات کرتے رہے ہیں اور ان میں انہیں ابتدائی کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں۔

جاپانی ماہرین نے چوہوں کے پیٹ میں ایک لبلبہ تیار کرکے اسے دوسرے چوہے میں ٹرانسپلانٹ کرنے کا کامیاب تجربہ بھی کر چکے ہیں۔

تاہم اب حکومت نے ماہرین کو بڑے پیمانے پر جانوروں میں انسانی اعضاء کی پیوندکاری و نشو و نما کی اجازت دے دی۔

سائنسی جریدے ’نیچر‘ کے مطابق اسٹین فورڈ یونیورسٹی کے ماہر پروفیسر ہیرو موتسو ناکاؤچی کی تجویز پر جاپانی حکومت نے انسانی اعضاء کی پیوندکاری و نشو و نما کے قوانین میں تبدیل کردی۔

قوانین میں تبدیلی کے بعد پروفیسر ہیرو موتسو ناکاؤچی اور ان کی ٹیم کو بڑے پیمانے پر جانوروں کے پیٹ میں انسانی اعضاء کی پیوندکاری و نشو نما کرنے کی قانونی اجازت مل گئی۔

قوانین میں تبدیلی کے بعد اب جاپانی ماہرین ابتدائی طور پر انسانی اعضاء کی چوہوں یا اسی طرح کے دیگر انتہائی چھوٹے جانوروں کے پیٹ میں پیوندکاری کریں گے، جس کے بعد ان اعضاء کو وہاں سے کسی اور جانور میں منتقل کرکے ان کی نشو و نما کی جائے گی۔

اس عمل میں کافی وقت لگ سکتا ہے اور یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ماہرین کب تک بڑے پیمانے پر انسانی اعضاء کی پیوندکاری اور نشو و نما کرنے کے بعد تیار کیے گئے اعضاء کو کسی جانور یا انسان میں منتقل کریں گے۔

ابتدائی طور پر تیار کیے گئے نئے اعضاء کو ماہرین جانوروں میں ہی استعمال کریں گے۔

جانوروں میں انسانی اعضاء کی کامیاب ٹرانسپلانٹیشن کے بعد انہیں کسی بھی بیمار یا ضرورت مند انسان میں ٹرانسپلانٹ کرنے کے تجربات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب کئی ماہرین نے اس متنازع تجربے کو بڑے پیمانے پر قانونی قرار دیے جانے پر اعتراض بھی کیا ہے اور مستقبل میں انسانی صحت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ جانوروں میں پیوند اور نشو و نما کیے گئے اعضاء کو انسانوں میں منتقل کرنے سے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ان سے آنے والے وقت میں جانوروں سمیت انسان کی نسل کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور کامیاب تجربات کے بعد انسان و جانور کے اعضاء پر مشتمل ایک نئی نسل سامنے آ سکتی ہے۔

ایک جیسے ہی اعضاء جانوروں اور انسانوں میں استعمال کرنے کے خطرناک نتائج ہوں گے، بعض ماہرین—اسکرین شاٹ/ ہولی وڈ فلم دی فرسٹ کیٹ
ایک جیسے ہی اعضاء جانوروں اور انسانوں میں استعمال کرنے کے خطرناک نتائج ہوں گے، بعض ماہرین—اسکرین شاٹ/ ہولی وڈ فلم دی فرسٹ کیٹ

سونے سے قبل اس مشروب کو پینے کے فوائد جانتے ہیں؟

ہر ثقافت کے اپنے مصالحے اور جڑی بوٹیاں ہوتے ہیں جو غذائی اعتبار سے کسی پاور ہا?س سے کم نہیں ہوتے، ان میں سے ایک ہلدی بھی ہے۔

پاکستان بھر میں اسے عام استعمال کیا جاتا ہے جس کے متعدد فوائد ہیں۔

یہ کھانے کا رنگ اور ذائقہ ہی بہتر نہیں کرتی بلکہ جراثیم کش ہونے کے ساتھ ساتھ مضبوط اینٹی آکسائیڈنٹ مصالحہ بھی ہے۔

مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ سونے سے قبل دودھ میں ہلدی ملا کر پینا کس قدر فائدہ مند ہے؟

یہ مشروب جسم کے لیے جادو اثر ثابت ہوتی ہے اور اگر اسے روزانہ پینا عادت بنالیا جائے تو جسمانی مدافعتی نظام مضبوط، زہریلے مواد کے اخراج اور دیگر مختلف امراض سے بچا سکتا ہے۔

یہاں اس کے فوائد درج ذیل ہیں۔

جگر کی صفائی

ہلدی کے بارے میں سائنسی طور پر ثابت ہوچکا ہے کہ یہ جگر کے لیے فائدہ مند مصالحہ ہے، یہ جسم کے اندر صفائی کا کام کرتا ہے جبکہ جگر میں فیٹی ایسڈ کے اجتماع کی روک تھام کرتا ہے، ہلدی ملا دودھ جگر کی غذا اور کیمیکل پراسیس کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے جبکہ ایسے مواد کو جسم سے خارج کرتا ہے جس کی ضرورت نہیں ہوتی، جس سے جسم زہریلے مواد سے بچتا ہے۔

جسمانی ورم کم کرے

ہلدی کا بنیادی جز curcumin ہوتا ہے جو کہ ورم کش خصوصیات رکھتا ہے، جس کی وج ہسے عام ورم کے لیے اس کا علاج ہوتا ہے جبکہ جوڑوں کے امراض اور دیگر مساءلسے تحفظ ملتا ہے۔ سونے سے قبل ایک گلاس اس مشروب کا پینا ایسے انزائمے کو بلاک کرتا ہے جو جسمانی ورم کا باعث بنتے ہیں۔

بیکٹریا سے لڑتا ہے

اس مشروب کو پینے سے جسم کی اینٹی بایوٹیک صلاحیت بہتر ہوتی ہے جو کہ بیکٹریا اور وائرسز سے لڑتے ہیں، جس سے موسمی نزلہ زکام اور گلے کی خراش کے علاج میں مدد ملتی ہے۔

کینسر سے لڑنے کی طاقت بڑھتی ہے

ہلدی میں ایک طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹ ہوتا ہے اور طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق ہلدی جسم کے اندر تکسیدی تناﺅ کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے جو کہ کینسر جیسے خطرناک امراض کی وجہ بنتا ہے، یہ صرف کینسر کی روک تھام ہی نہیں کرتا بلکہ اس سے لڑنے والا مصالحہ بھی ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ہلدی کا استعمال کینسر زدہ خلیات کا خاتمہ کرکے رسولی کو بڑھنے سے روکتا ہے۔

جسمانی چربی گھلائے

ہلدی ملا دودھ نہ صرف میٹابولزم کی رفتار بڑھتا ہے بلکہ یہ چربی کو ہضم کرنے کا عمل بھی تیز کرتا ہے، اس مشروب کو پینا عادت بنالینا جسم میں چربی کے اجتماع کو روکتا ہے جس سے توند سے نجات ملتی ہے۔

دل کو صحت مند بنائے

ہلدی ایسے مواد کو جسم میں خارج ہونے سے روکنے میں مدد دیتی ہے جو ورم اور خون کی شریانوں سے جڑے امراض کا باعث بنتا ہے، ہر رات ہلدی ملا دودھ پینا امراض قلب میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم کرتا ہے۔

دماغ کے لیے بھی بہترین

ہلدی ملا دودھ پینا دماغ میں ایسے جز کی سطح کو بڑھاتا ہے جو الزائمر اور دماغی تنزلی کا باعث بننے والے دیگر امراض سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

مضبوط مدافعتی نظام

ہلدی میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس دفاعی خلیات جیسے ٹی سیلز، بی سیلز اور دیگر کو متحرک کرتے ہیں، جس سے جسمانی مدافعتی نظام زیادہ مضبوط ہوکر بیرونی جراثیموں پر حملہ آور ہوتا ہے۔

ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں

ہلدی ہڈیوں کا حجم گھٹنے کی روک تھام کرتی ہے، جبکہ کیلشیئم سے بھرپور دودھ میں آدھا چائے کا چمچ ہلدی کو ملانا ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے موثر مشروب ثابت ہوتا ہے۔

بلڈ گلوکوز لیول کنٹرول کرے

ہلدی میں شامل اجزا بلڈگلوکوز لیول کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، جس سے ذیابیطس کے مریضوں کو مختلف پیچیدگیوں سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

اچھی نیند میں مددگار

اس مشروب کا استعمال نیند کے معیار کو بہتر بناسکتا ہے، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دودھ میں ہلدی ملا کر پینا بے خوابی کی شکایت کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے، اس کے علاوہ یہ مشروب ذہنی بے چینی بھی کم کرتا ہے، جس سے بھی نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

سرخ کھٹی چیری دماغ کے لیے فائدہ مند

واشنگٹن: قدرت کے خزانوں میں چیری ایک لاجواب پھل ہے۔ اب ٹماٹر جیسی سرخ رنگت والی کھٹی چیری میں ایسے مرکبات کا انکشاف ہوا ہے جو خصوصاً بزرگ افراد میں دماغی و ذہنی صلاحیت کو بہتر بناسکتے ہیں۔

اسی بنا پر محققین عمرسیدہ افراد کو ٹارٹ چیری کا رس پینے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اس میں موجود حیاتیاتی مرکبات یادداشت، ردِ عمل اور دیگر اعصابی امور کو تقویت دیتے ہیں۔

امریکہ میں یونیورسٹی آف ڈیلاور کے سائنسدانوں نے چیری کی افادیت جانچنے کے لیے 65 سے 73 سال کے 34 افراد کو بھرتی کیا جو بظاہر تندرست تھے۔ ان افراد کو دو گروہوں میں تقسیم کیا گیا۔ پہلے گروہ کو روزانہ صبح اور شام 480 ملی لیٹر ٹارٹ چیری کا جوس دیا گیا اور یہ عمل 12 ہفتوں تک جاری رکھا گیا۔ دوسرے گروہ کو ایک فرضی مشروب دیا جاتا رہا۔

اس دوران مطالعے میں شریک افراد میں سے کسی نے بھی دماغی قوت بڑھانے والی دوائیں نہیں کھائی اور شرکا پورے عرصے میں اپنی معمول کی غذائیں کھاتے رہے اور معمولاتِ زندگی انجام دیتے رہے۔ ان میں سے کسی کو بھی نہیں بتایا گیا کہ کسے چیری کا رس دیا گیا ہے اور کسے عام مشروب پلایا جارہا ہے۔

12 ہفتے بعد تمام شرکا کے ٹٰیسٹ لیے گئے تو دلچسپ نتائج سامنے آئے۔ جن افراد نے چیری کا رس استعمال کیا انہوں نے بصری یادداشت کے ایک ٹیسٹ میں 23 فیصد کم غلطیاں کیں۔ جبکہ عام مشروب پینے والے افراد کی عین اسی ٹیسٹ میں بہت معمولی بہتری دیکھی گئی۔ اس وژول ٹیسٹ کا مقصد بصری یادداشت اور نئی باتیں سیکھنے کی صلاحیت کو چانچنا تھا۔

چیری کا جوس پینے والے افراد نے یہ بھی کہا کہ انہیں اپنی یادداشت پر اعتماد میں 5 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے بعد وہ چیزوں کو اچھی طرح یاد کرنے لگے ہیں۔ ان بزرگوں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں چلنے پھرنے میں 4 فیصد بہتری ہوئی جسے ایک خاص ٹیسٹ سےبھی ناپا گیا۔ بصری معلومات کو سمجھنے میں تین فیصد اضافہ ہوا۔ تمام شرکا نے یادداشت کے مجموعی ٹیسٹ، جگہوں کے تعین اور حکمتِ عملی کے استعمال میں بھی 18 فیصد اضافے کا اعتراف کیا۔

یہ بہت حوصلہ افزا نتائج ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹماٹر جیسی سرخ رنگت والی چیری میں پولی فینولز، میلانِن اور اینتھوسائنِن پائے جاتے ہیں۔ یہ سب انسانی دماغی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں اور اسی بنا پر ماہرین عمررسیدہ افراد کو چیری کا جوس پینے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

7 سالہ بھارتی بچے کے منہ میں 550 دانت

نئی دلی: بھارت میں 7 سالہ بچے کے منہ میں 21 قدرتی دانتوں کے علاوہ 526 اضافی دانت بھی موجود ہیں جنہیں سرجری کے ذریعے نکال دیا گیا ہے تاہم یہ ایک عالمی ریکارڈ بن گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت میں چینائی کے رہائشی 7 سالہ بچے روندر ناتھ کے منہ میں قدرتی دانتوں کے علاوہ 526 دانت موجود تھے، یہ اضافی دانت ایک جھلی میں ڈھکے ہوئے تھے اور بظاہر نظر نہیں آرہے تھے۔

Indian Child 526 Teeth removed

بچے کو 3 سال کی عمر سے نچلے جبڑے میں سوجن کی شکایت تھی جو رفتہ رفتہ بڑھ رہی تھی اور اس میں تکلیف بھی بہت زیادہ تھی۔ بچے کے والدین نے گھریلو ٹوٹکوں کے کار آمد نہ ہونے پر ماہر امراض دندان سے رجوع کیا۔

سرجن کا کہنا ہے کہ ایکس ریز اور سی ٹی اسکین کی جانچ پڑتال سے بچے کے نچلے جبڑے میں ایک تھیلی کی موجودگی کا انکشاف ہوا تھا جسے آپریشن کے ذریعے نکال دیا گیا، تھیلی کا وزن 200 گرام تھا اور اس میں 526 نئے دانت موجود تھے۔

معالجین کا کہنا ہے کہ یہ ایک خاص قسم کی بیماری ہوتی ہے جسے compound composite ondontome کہا جاتا ہے جس کا علاج عمومی طور پر سرجری کرکے اضافی دانتوں کو باہر نکال دینا ہوتا ہے۔

اگر ناشتہ نہیں کرتے تو ان امراض کے لیے تیار ہوجائیں

کہا جاتا ہے کہ ناشتہ دن کی سب سے اہم غذا ہے جسے کسی صورت نہیں چھوڑنا چاہیے۔

درحقیقت بیشتر طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ ناشتہ ممکنہ طور پر دن کا اہم ترین کھانا ہوتا ہے مگر اس صورت میں جب آپ کچھ اصولوں پر عمل کریں۔

تو کیا آپ اکثر ناشتہ چھوڑ دیتے ہیں؟ اگر ہاں تو یہ صحت کے لیے تباہ کن عادت ہے جو متعدد طبی مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ناشتہ عام طور پر 10 سے 12 گھنٹے کے فاقے کے بعد ہوتا ہے اور اگر آپ اسے چھوڑ دیتے ہیں تو مختلف مسائل کا سامنا مختصر یا طویل المدت میں ہوسکتا ہے۔

تاہم یہ جان لینا بہتر ہے کہ اگر آپ اکثر ناشتہ نہیں کرتے تو جسم پر یہ عادت کیا اثرات مرتب کرسکتی ہے۔

موٹاپے کا امکان

اگر آپ بڑھتے وزن سے پریشان اور اس وجہ سے صبح کی پہلی غذا چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تاکہ موٹاپے سے بچ سکیں، تو یہ ایک غلطی فہمی سے زیادہ نہیں۔ ایسی متعدد طبی تحقیقی رپورٹس سامنے آچکی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ناشتہ کرنے کی عادت صحت مند جسمانی وزن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ جو لوگ ناشتہ نہیں کرنے کے عادی ہوتے ہیں، وہ دیگر اوقات میں لاشعوری طور پر حد سے زیادہ کھالیتے ہیں۔

آدھے سر کا درد

ناشتہ چھوڑنا جسم میں شوگر لیول کو بہت زیادہ کم کردیتا ہے جس کے باعث گلوکوز کی سطح بھی گر جاتی ہے۔ یہ نہ صرف بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے بلکہ اس سے آدھے سر کے درد کی تکلیف بھی لاحق ہوجاتی ہے۔

ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھتا ہے

ایک تحقیق میں دریافت کیا تھا کہ جو مرد ناشتہ نہیں کرتے، ان میں ناشتہ کرنے والوں کے مقابلے میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ 27 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، درحقیقت جو لوگ روزانہ ناشتہ کرتے ہیں ان میں امراض قلب کا باعث بننے والے عناصر کا خطرہ کم ہوجاتا ہے، ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ناشتہ چھوڑنا فشار خون یا بلڈ پریشر میں اضافے، بلڈ شوگر بڑھانے اور انسولین کی مزاحمت کا باعث بنتا ہے۔

جسمانی توانائی میں کمی

ناشتہ چھوڑنا روزانہ کا معمول بن جائے تو صبح کے وقت جسم زیادہ سستی محسوس کرنے لگتا ہے کیونکہ اسے اعضا کے افعال کے لیے ایندھن میسر نہیں ہوتا، یعنی صبح کی پہلی غذا جسمانی سرگرمیوں کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے۔

ذیابیطس

ناشتہ نہ کرنے کی عادت ذیابیطس ٹائپ ٹو جیسے خطرناک مرض کا خطرہ ایک تہائی حد تک بڑھادیتی ہے۔ جرمن ڈائیبیٹس سینٹر کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ صبح کی پہلی غذا کو جزو بدن نہ بنانا ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار بننے کا امکان 33 فیصد بڑھا دیتا ہے۔ اور یہ صرف ان افراد کے لیے ہے جو کبھی کبھار ایسا کرتے ہیں۔ ایسے افراد جو ہفتے میں کم از کم 4 دن ناشتہ نہیں کرتے، ان میں یہ خطرہ ناشتے کرنے والوں کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ محققین کے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ ناشتہ نہیں کرتے، وہ دن میں ناقص غذا کا زیادہ استعمال کرسکتے ہیں۔

بالوں سے محرومی

ناشتہ دن کی اہم ترین غذا ہے جو بالوں کی جڑوں کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے، کم پروٹین والی غذا کا استعمال بالوں کی نشوونما کے لیے ضروری عناصر پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے جس سے بال گرنا شروع ہوجاتے ہیں اور گنج پن کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔

سانس کی بو

ناشتہ نہ کرنا صرف صحت کے لیے ہی نقصان دہ نہیں بلکہ یہ سماجی زندگی پر بھی اثرانداز ہوتا ہے کیونکہ اس عادت کے نتیجے میں سانس میں بو جیسے مسئلے کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ناشتہ نہ کرنے سے لعاب دہن بننے کا عمل متحرک نہیں ہوپاتا، جس سے زبان پر بیکٹریا کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے جو اس مسئلے کا باعث بنتا ہے۔

ذہنی تناﺅ اور چڑچڑا پن

ناشتہ نہ کرنے یا طویل وقت تک بھوکے رہنے سے مزاج بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ ناشتہ کرنے کے عادی ہوتے ہیں، ان کا مزاج دن کی پہلی غذا سے دوری اختیار کرنے والوں کے مقابلے میں زیادہ خوشگوار ہوتا ہے۔ ناشتہ نہ کرنے سے بلڈشوگر لیول بھی گرتا ہے جو کہ چڑچڑے پن کا باعث بنتا ہے۔دوسری جانب ایک تحقیق کے مطابق ناشتہ نہ کرنے پر جسم میں تناﺅ بڑھانے والے ہارمون کورٹیسول کا اخراج بڑھتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ ناشتہ نہ کرنا جسم کے لیے پرتناﺅ ایونٹ ہوتا ہے۔ جسم میں کورٹیسول کی مقدار میں اضافے سے متعدد منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، جیسے جسمانی وزن بڑھنا، جسمانی دفاعی نظام کمزور ہونا، مختلف امراض کا خطرہ بڑھنا اور بلڈ شوگر لیول میں عدم توازن وغیرہ۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

موٹاپے کا باعث بننے والی عام عادت

آپ جسمانی طور پر متحرک ہیں اور بہت زیادہ کھانا بھی نہیں کھاتے، مگر پھر بھی موٹاپے کا شکار ہورہے ہیں؟

تو اس کی وجہ آپ کی جیب یا ہاتھ میں ہوسکتی ہے اور وہ ہے اسمارٹ فون۔

یہ دعویٰ کولمبیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

سائمن بولیور یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اسمارٹ فونز پر بہت زیادہ وقت گزارنا موٹاپے کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران کالج کے طالبعلموں کا جائزہ لینے پر دریافت کیا گیا کہ جو افراد دن بھر میں 5 گھنٹے یا اس سے زائد وقت موبائل فونز پر گزارتے ہیں، ان میں موٹاپے کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں کافی زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ موبائل فون پر زیادہ وقت گزارنے والے افراد میں میٹھے مشروبات اور فاسٹ فوڈ یا میٹھا کھانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے جبکہ ورزش بھی کم کرتے ہیں۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ رات کو بہت زیادہ اسمارٹ فونز کا استعمال میٹابولزم کو متاثر کرسکتا ہے، جس سے نیند کی کمی اور خود پر کنٹرول کم ہوتا ہے، یہ سب عناصر موٹاپے کی جانب ہی لے جاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق نتائج سے موٹاپے کی بنیادی وجوہات میں سے ایک کا علم ہوتا ہے جو کہ خون کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران ایک ہزار لڑکوں اور لڑخیوں کے طرز زندگی کا جائزہ جون 2018 سے دسمبر 2018 تک لیا گیا اور یہ دیکھا گیا کہ وہ روزانہ کتنی دیر اسمارٹ فون کا استعمال کرتے ہیں۔

محققین نے دریافت کیا کہ جو طالبعلم اپنا زیادہ وقت فون استعمال کرتے ہوئے گزارتے ہیں، وہ زیادہ میٹھے مشروبات اور فاسٹ فوڈ کو جزوبدن بناتے ہیں جبکہ جسمانی سرگرمیوں میں بھی انہیں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی۔

تحقیق کے مطابق جو خواتین 5 گھنٹے سے زائد اسمارٹ فونز استعمال کرتے ہوئے گزارتی ہیں ان میں مردوں کے مقابلے میں جسمانی وزن دوگنا زیادہ بڑھنے کا امکان ہوتا ہے، مگر مردوں میں بھی یہ وقت موٹاپے کا شکار بنانے کے لیے کافی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج امریکن کالج آف کارڈیالوجی لاطینی امریکا کانفرنس میں پیش کیے گئے۔

اس سے قبل رواں ماہ نیدرلینڈ اور فرانس کے طبی ماہرین کی مشترکہ تحقیق میں بھی یہی نتیجہ اخذ کیا گیا تھا۔

چوہوں پر کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ ان ڈیوائسز سے خارج ہونے والی نیلی روشنی میں ایک گھنٹہ رہنا بھی چوہوں کی کھانے کی خواہش پر اثرانداز ہوتا اور اگلے دن ناقص غذا کے استعمال کا امکان بڑھ جاتا۔

ان جانوروں کے بلڈشوگر لیول اوپر کی جانب جاتے جس کے باعث جسم شکر کو پراسیس کرنے سے قاصر ہوجاتا جو کہ ذیابیطس سے قبل کی ایک انتباہی نشانی ہے۔

مرچیں کم کھائیں، یادداشت بچائیں

دوحہ، قطر: ایک نئے مطالعے سے یہ عجیب و غریب نتیجہ برآمد ہوا ہے کہ مرچ مصالحے والے کھانے کی مسلسل عادت آگے چل کر یادداشت میں کمی کی وجہ بن سکتی ہے۔

یہ تحقیق قطر، آسٹریلیا اور امریکا میں کی گئی جس میں 55 سال یا اس سے زائد عمر کے 4,582 چینی باشندوں کا مسلسل 1991 سے 2006 تک مطالعہ کیا گیا۔ اس طرح مجموعی طور پر یہ تحقیق 15 سال تک جاری رہی تھی۔

اس دورانیے میں کالی مرچ اور میٹھی کیپسیسم مرچ کو ہٹاکر تازہ یا سفوف کی صورت میں سرخ اور ہری مرچ کھانے والوں کا جائزہ لیا گیا۔ پورے مطالعے میں چھ مرتبہ تین تین دن کےلیے ان اقسام کی مرچ کے استعمال کرنے والوں کے ٹیسٹ کیے گئے۔ پورے 15 برس میں تمام رضاکاروں کی یادداشت اور حافظے کو مختلف ٹیسٹ سے جانچا گیا۔

اس کی تفصیلات تحقیقی جریدے نیوٹریئنٹس میں شائع کی گئی ہیں۔ ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کئی سال تک روزانہ 50 گرام مرچ کھانے والوں میں دیگر کے مقابلے میں یادداشت میں کمی کا خطرہ دوگنا ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے افراد میں سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ یہ کمی ان افراد میں زیادہ دیکھی گئی ہے جن کا باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) کم تھا لیکن زیادہ بی ایم آئی کے حامل افراد میں اس کے کم اثرات مرتب ہوئے۔

معلوم ہوا کہ زیادہ مرچیں کھانے والے افراد کی آمدنی کم، بی ایم آئی کم اور وہ دیگر کے مقابلے میں زیادہ کام کرنے والے اور پھرتیلے ثابت ہوئے تھے۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ تعلیمی استعداد کم یا زیادہ مرچ کے استعمال کی وجہ بھی ہے تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

قطر یونیورسٹی کے پروفیسر زیومن شائی نے کہا ہے کہ مرچیں جسمانی چربی گھلاتی ہیں، وزن گھٹاتی ہیں اور بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتی ہیں۔ لیکن عمررسیدہ افراد میں یادداشت کی کمی کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔

اس تحقیقی سروے سے یہ تو معلوم ہوگیا کہ مرچوں سے حافظہ کمزور ہوتا ہے لیکن اس کی سائنسی وجہ اب تک معلوم نہیں ہوسکی ہے۔ ماہرین اگلے مرحلے میں مرچوں اور یادداشت کے درمیان تعلق کی وضاحت کرنے پر مزید غور کریں گے۔

کینسر کا مریض بنانے کا خطرہ بڑھانے والی عادات

کیا آپ کو معلوم ہے کہ تمباکو نوشی کم از کم 15 مختلف اقسام کے کینسر کا باعث بنتی ہے؟ جبکہ ہر دس میں سے نو پھیپھڑوں کے کینسر کے شکار افراد اسی کے باعث مہلک مرض کا شکار ہوتے ہیں۔

مگر اس بات سے قطع نظر کہ آپ سگریٹ نوشی کرتے ہیں یا نہیں، چند چیزیں اور بھی ایسی ہیں جو آپ کے کینسر کے مریض بننے کا خطرہ بڑھا دیتی ہیں۔

موٹاپے کے شکار

جسم میں اضافی چربی ایسٹروجن سمیت دیگر ہارمونز کی سطح بڑھاتی ہے جو خلیات کی نشوونما میں اضافے اور پھلاﺅ کا باعث بن سکتا ہے اور اس سے کینسر کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ موٹاپا شدید ورم کا باعث بھی ہوسکتا ہے جس سے ڈی این اے کو نقصان پہنچتا ہے اور کینسر کا مرض متاثرہ فرد کو شکار کرلیتا ہے۔ موٹاپے سے آنتوں، بریسٹ اور دوران رحمی سمیت دیگر اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

بہت زیادہ وقت تک بیٹھنا

اگر تو آپ دفتر میں ہر وقت بیٹھے رہتے ہیں یا گھر پر ٹیلیویژن سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں تو اس سے مختلف اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق دو گھنٹے دن میں بیٹھ کر گزارنا آنتوں کے کینسر کا خطرہ آٹھ فیصد جبکہ پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ چھ فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق جو خواتین زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتی ہیں ان میں بریسٹ کینسر کا خطرہ ہوتا ہے۔

سرخ گوشت کا زیادہ استعمال

معتبر ہاورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ 3 اونس سرخ گوشت کا استعمال کرتے ہیں ان میں امراض قلب یا کینسر کے باعث موت کا خطرہ 13 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح یالے یونیورسٹی کا اپنی ایک تحقیق میں کہنا ہے کہ جو خواتین حیوانی پروٹین سے بھرپور غذاﺅں کا زیادہ استعمال کرتی ہیں ان میں خون کے سرطان کی ایک قسم کا خطرہ 70 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

سگریٹ نوش کے آس پاس رہنا

ہوسکتا ہے کہ آپ دیگر افراد کو تمباکو نوشی کی بری عادت میں مصروف رہنے کی اجازت دے کر خود کو فراخ دل ثابت کرنا چاہتے ہو یا بحث سے بچنا چاہتے ہو، وجہ چاہے جو بھی درحقیقت ایسا کرنا آپ کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ سگریٹ کا دھواں سیکڑوں زہریلے کیمیکلز خارج کرتا ہے اور ان میں سے ستر فیصد کیمیکلز کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس سیکنڈ ہینڈ دھویں کی کچھ مقدار بھی جسم کے اندر جانا نقصان دہ ہوتا ہے اور پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے جبکہ خواتین میں بریسٹ کینسر کا خطرہ ہوتا ہے۔

زیادہ نہ چلنا

چہل قدمی سب سے آسان ورزش ہے جس کے لیے آپ کو زیادہ محنت بھی نہیں کرنا پڑتی، اگر ہفتے میں پانچ دن تیس منٹ تک معتدل رفتار سے چہل قدمی کی جائے تو کینسر کا خطرہ کافی حد تک کم ہوجاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ورزش کرنے کے نتیجے میں خواتین میں بریسٹ کینسر کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوا۔

بہت زیادہ ٹی وی دیکھنا

طبی سائنس کے مطابق رات کے وقت مصنوعی روشنی کی زد میں ہمارا جسم کا رہنا مخصوص کینسر کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ خاص طور پر خواتین میں بریسٹ کینسر کا خطرہ بڑھنے کے شواہد سامنے آئے ہیں تاہم ابھی اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

Google Analytics Alternative