- الإعلانات -

کرکٹ کا بھی ہاکی جیسا حال ہوگا، سعید اجمل

کوچ اور کپتان کو بھی سلیکشن کمیٹی میںشامل کیا جانا چاہئے، گراس روٹ لیول پر توجہ نہ دی گئی تو کرکٹ کا بھی ہاکی جیسا حال ہوگا، سعید اجمل
لاہور۔ قومی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز سپنر سعید اجمل نے کہا ہے کہ ٹیم کی شکست کے ذمہ دارکوچ اور کپتان ہوتے ہیں تو پھر سلیکشن کمیٹی میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کوچ اور کپتان سلیکشن کمیٹی کا حصہ ہوں گے تو پھر ٹیم میں وہی کھلاڑی شامل ہوں گے جن کی ٹیم کو ضرورت ہوگی،ٹیم کے پندرہ کھلاڑیوں میں سے حتمی گیارہ کھلاڑی بھی کپتان اور کوچ کو منتخب کرنا چاہئے کیونکہ مخالف ٹیم کی طاقت اور وکٹ کااندازہ انہی کو ہوتا ہے ۔سعید اجمل نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ میں ٹیم کےلئے غیر ملکی کوچ کے حق میں نہیں ہوں ،ٹیم کا کوچ ملکی ہونا چاہئے تاکہ کھلاڑیوں کی اس سے انڈر سٹینڈنگ آسانی سے ہوسکے تاہم اس بات کا خیال رکھا جائے کہ کوچ سخت اور سمجھوتہ کرنے والا نہ ہو،سعید اجمل نے کہاکہ قومی کرکٹ ٹیم کی بہتری کےلئے سکول ،کالجز ،کلبز اور ریجنز کی سطح پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے،ریجنز کے عہدیداروں کی کارکردگی کو مانیٹر کرنا بہت ضروری ہے ،ہم نے اگر گراس روٹ لیول پر کرکٹ کی طرف توجہ نہ دی تو پھر کرکٹ کا بھی ہاکی جیسا حال ہوگا،انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ شرجیل خان کو اپنی بیٹنگ میں بہتری لانے کےلئے اپنا وزن کم کرنے کے علاوہ وکٹوں کے درمیان رننگ کو بہتر بنانے اور آف سائڈ پر کھیلنے کی پریکٹس کی ضرورت ہے ،ان کو کوہلی کی بیٹنگ کو مد نظر رکھ کر محنت کرنا ہوگی ،کوہلی اکیلا ہی ٹیم کو جتوا دیتا ہے لیکن پاکستان کی ٹیم میں وننگ کھلاڑیوں کی کمی ہے،سعید اجمل نے کہاکہ ڈیپارٹمنٹ کے کھلاڑیوں کو ریجنز سے کھیلنے کی بھی اجازت ہونی چاہئے، پاکستانی ٹیم کی پرفارمنس کی بہتری کےلئے سینئر کھلاڑیوں کے متبادل کھلاڑیوں کا بیک اپ پول بنانا بہت ضروری ہے تاکہ ان کے ان فٹ ہونے یا ریٹائرمنٹ کی صورت میں ٹیم کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے،انہوں نے بتایا کہ ہیڈ کوچ وقار یونس کی رپورٹ کے لیک ہونے کی انکوائری کرکے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہوسکے ،انہوں نے کہاکہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ اور ایشیا کپ میں قومی ٹیم کی شکست کے اسباب جاننے کےلئے بنائی جانے والی تحقیقاتی کمیٹی کو جلد از جلد اپنی سفارشات مکمل کرکے چیئرمین پی سی بی کو دینی چاہئے اور پھر ان سفارشات پر عمل در آمد ضرور ہونا چاہئے ۔