- الإعلانات -

پی ایس ایل کی دریافت ہونے پر مجھے فخر ہے، حسن علی

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) دنیا بھر کی بڑی کرکٹ لیگ کی طرح ایک بڑا برانڈ بن گئی ہے اور اس سے سامنے آنے والے کھلاڑی دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔

پی ایس ایل کے 3 کامیاب سیزن کے بعد اب چوتھا سیزن متحدہ عرب امارات میں جاری ہے جبکہ اس مرتبہ ایونٹ کے 8 میچز پاکستان میں بھی کھیلے جائیں گے۔

اس زبردست کرکٹ ایونٹ نے پاکستانی کرکٹ کو بہت سے ابھرتے کھلاڑی فراہم کیے ہیں، جن میں سے ایک فاسٹ باؤلر حسن علی بھی شامل ہیں۔

تین سال قبل ایک ڈرے، سہمے دکھنے والے حسن علی نے پاکستان سپر لیگ میں اپنا پہلا میچ کھیلا تو کسے معلوم تھا کہ یہ نوجوان آگے جا کر پاکستان کا ایک اسٹار بن جائے گا۔

پی ایس ایل کی ویب سائٹ پر شائع ایک انٹرویو کے مطابق پی ایس ایل میں اچھی کارکردگی نے نہ صرف ابھرتے ہوئے کھلاڑی حسن علی کو پاکستانی ٹیم کےلیے کھیلنے کا موقع دیا بلکہ ان کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا۔

پاکستان سپر لیگ کے جاری رواں سیزن میں حسن علی نے اب تک کی بہترین کارکردگی اس وقت دکھائی جب لاہور قلندرز کے خلاف میچ میں انہوں نے صرف 15 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، جس میں جنوبی افریقی کے مایہ ناز بلے باز اے بی ڈی ویلیئرز کی وکٹ بھی شامل تھی۔

حسن علی بھی خود اسبات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ڈرے ہوئے دکھنے والے کھلاڑی کے طور پر شروع ہونے والے اس سفر نے انہیں سدابہار کے لیے ایک پختہ فاسٹ بالر میں تبدیل کردیا۔

فاسٹ باؤلر حسن علی اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہاں، انہیں پی ایس ایل کی پہلی پروڈکٹ ہونے پر فخر ہے‘۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جب میں پہلی مرتبہ پریس کانفرنس کے لیے آیا تھا تو میں خوفزدہ اور بے چین تھا لیکن 2016 سے 2019 تک میرا سفر بہت زبردست تھا اور اس سے میں نے عزت اور شہرت حاصل کی‘۔

حسن علی کا کہنا ہے کہ ’میرے لیے یہاں پاکستان کے لیے ایک پختہ کھلاڑی کے طور پر بیٹھنا اچھی بات ہے، یہ میری سخت محنت کا اعزاز اور پی سی بی، پشاور زلمی کی ٹیم منیجمنٹ اور پاکستان کا مجھ پر اعتماد کا اظہار ہے‘۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2016 میں 3 میچز میں حسن علی نے صرف 2 وکٹیں حاصل کیں لیکن پشاور کے ہیڈ کوچ محمد اکرم اور اس وقت کے کپتان شاہد آفریدی نے اس ابھرتے ہوئے کھلاڑی کی آنکھوں میں وکٹ لینے کی شدت کو دیکھا اور انہیں اعتماد دیا۔

محمد اکرم حسن علی کے کھیل کے لیے جذبے سے متاثر ہوئے اور اسے سراہا۔

حسن علی کی بات کریں تو پی ایس ایل سے پہلے بہت کم لوگ ہی انہیں جانتے تھے اور انہوں نے گوجرانوالہ کے قریب لادھے والا وڑائچ میں اپنے آبائی علاقے میں پہلی مرتبہ کرکٹ کھیلی۔

جہاں حسن علی کے بڑے بھائی عطا الرحمٰن نے ان کا ٹیلنٹ کو چھوٹی عمر میں ہیں بھانپ لیا اور ان کے لیے گھر کے پچھلے حصے میں ایک پچ اور جم قائم کیا۔

فاسٹ باؤلر حسن علی کہتے ہیں ’ان کے کیریئر میں ان کے بڑے بھائی کا بہت عمل دخل ہے اور کچھ فرسٹ کلاس سیزن کے بعد انہیں پشاور کے فرنچائز نے پی ایس ایل کے پہلے ایڈیشن کے لیے چن لیا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے فخر ہے کہ میں پی ایس ایل کی پروڈکٹ کہلاتا ہوں، شاداب خان اور فہیم اشرف کو بھی پی ایس ایل نے تیار کیا اور یہ مستقبل میں نوجوانوں کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم ہے‘۔

پی ایس ایل میں پہلی مرتبہ انتخاب

حسن علی کہتے ہیں کہ ’میں اپنے بھائی کے ساتھ پی ایس ایل کا ڈرافٹ دیکھ رہا تھا، میں ایمرجنگ کٹیگری میں منتخب ہونے والا آخری کھلاڑی تھا اور میں اپنی روکی ہوئی سانس کے ساتھ دیکھ رہا تھا کہ میرے نام کا اعلان ہوا، پھر میں نے اپنے بھائی کو گلے لگا لیا‘۔

حسن علی نے ایک روزہ میچز میں اپنے کیریئر کا آغاز اگست 2016 میں آئرلینڈ کے خلاف میچ میں کیا اور اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

2017 میں وہ پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ وکٹ لینے والے کھلاڑی تھی جبکہ انہوں نے آئی سی سی چمپئنز ٹرافی میں بھی قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے 13 کھلاڑیوں کا شکار کیا۔

حسن علی کا کہنا تھا کہ ’پی ایس ایل نے ان کے کھیل میں کافی نکھار پیدا کرنے میں مدد کی، جب انہوں نے اپنا پہلا بین الاقوامی میچ کھیلا تو ان پر کوئی دباؤ نہیں تھا کیونکہ وہ پی ایس ایل میں پہلے ہی دنیا کے بڑے ناموں کا سامنا کرچکے تھے‘۔

ساتھ ہی ابھرتے ہوئے کھلاڑی حسن علی کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے لیے تینوں فارمیٹ میں کھیلنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔