
پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت کئی سال سے عالمی برادری کو مسلسل خبردار کر رہی ہے کہ افغان عبوری حکومت دہشت گردوں کی پناہ گاہ بنی ہوئی ہے اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی معاونت پاکستان میں دہشت گردی کا
نیویارک:اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ افغانستان سے سرگرم دہشت گرد تنظیمیں صرف ہمارے لئے نہیں پوری دنیا کیلئے خطرہ ہیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں افغانستان کی صورتحال پر مباحثے سے خطاب
راولپنڈی:سکیورٹی فورسز نے بھارتی سپانسرڈ شرپسندوں کی افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی، بھارتی حمایت یافتہ 30 دہشت گرد مارے گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے شمالی وزیرستان کے
افغانستان سے درآمد پر الیکٹرانک امپورٹ فارم سے استثنی کی مدت میں توسیع کا فیصلہ کر لیا گیا۔وزارتِ تجارت نے استثنی میں توسیع کی مدت 14 جون 2025 تک بڑھانے کا مراسلہ جاری کردیا۔وزارتِ تجارت کے مطابق پاک افغان باہمی
پاکستان اور افغانستان نے روابط برقرار رکھنے اور باہمی تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کابل میں افغان عبوری وزیر اعظم ملا
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگرد تنظیمیں افغانستان سے آپریٹ ہورہیں، برادر اسلامی ملک انہیں لگام ڈالے۔قائد مسلم لیگ ن میاں نواز شریف سے ملاقات کے لئے ایون فیلڈ لندن پہنچے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز
افغانستان میں 4 مجرموں کو سرعام سزائے موت دے دی گئی، جنہیں مقتولین کے لواحقین نے عوام کے سامنے گولیاں ماریں۔سزائے موت پانے والے 2 مجرمان کو صوبہ بادغیس میں جبکہ تیسرے کو نمروز اور چوتھے مجرم کو صوبے فراہ
پشاور:گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کا چھوڑا ہوا اسلحہ اب شدت پسندوں کے پاس ہے، نیشنل سکیورٹی اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کا موجود ہونا ضروری تھا، بانی پی ٹی آئی کیلئے
(گزشتہ سے پیوستہ) اسی کی دھائی میں جہاں ایک طرف پاکستان میں گلی گلی ، قریہ قریہ ، کوچہ کوچہ جہاد کی پکار عام ہو رہی تھی،خیرات پر چلنے والے مدرسے خام مجاہدین کی منڈیاں بنے اور ان کے مہتمم
میں ستم ظریف کے اس خیال کو تو قطعاً تسلیم نہیں کرتا کہ؛پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد سو جوتے اور سو پیاز کھانے کے اصول پر مدار کرتی ہے۔لیکن ہاں یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی