- الإعلانات -

چین کے ساتھ سرحدی مسائل مذاکرات سے حل ہوسکتے ہیں، بھارتی آرمی چیف

بھارت کے آرمی چیف جنرل منوج مکند نیروان نے مغربی ہمالیہ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کے باوجود کہا کہ چین کے ساتھ سرحد پر جاری تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔

خبر ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق جنرل منوج کہا کہ انہیں اطمینان ہے کہ چین کے ساتھ جاری تنازع مذاکرات سے حل ہوجائے گا جبکہ سرحد پر دونوں ایٹمی ممالک کی افواج کئی مہینوں سے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔

لداخ کے دورے کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں یقین ہے کہ مسائل کو مکمل طور پر مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے حالات کسی حد تک کشیدہ ہیں’ اور بھارت نے متعدد علاقوں میں چین کی کسی بھی سرگرمی کو روکنے کے لیے اضافی فوجی تعینات کر دیے ہیں۔

بھارت سرحد پر ہونے والی کشیدگی کا الزام چین پر عائد کرتا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ چین اپنی فوج کو لداخ کے برفانی علاقے سے دور رکھنے کے دوطرفہ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

دوسری جانب چین نے گزشتہ ماہ کے آخر میں کہا تھا کہ بھارت کی فوج نے ایل اے سی میں غیر قانونی مداخلت کی اور چین کی سرحدی خود مختاری کی خلاف ورزی کی۔

سرحد میں کشیدگی کے ایک دوسرے پر الزامات کے باوجود دونوں ممالک نے مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کی خواہش کا اظہار کیا اور فوجی عہدیداروں نے جنوبی لداخ کے علاقے پنگونگ میں کئی دنوں تک مذاکرات کیے جہاں تازہ جھڑپ ہوئی تھی۔

بھارتی اور چینی میڈیا نے تازہ رپورٹ میں کہا کہ روس کے دارالحکومت ماسکو میں دونوں ممالک کے وزارئے دفاع کے درمیان ملاقات متوقع ہے۔

روس میں دونوں ممالک کے وزرائے دفاع شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت ایک اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

چین کے اخبار ‘گلوبل ٹائمز’ کے ایڈیٹر انچیف ہو شیجان نے اس حوالے سے ٹوئٹر پر کہا کہ ‘میری معلومات کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان انتظامات میں پیش رفت ہوئی ہے اور وئی فینگھے اور راج ناتھ سنگھ کے درمیان متوقع طور پر ملاقات ہوگی’۔

بھارتی وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مجھے اس ملاقات کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہیں۔

چین اور بھارت کے وزرائے دفاع کے درمیان ملاقات ہوتی ہے تو یہ دونوں ممالک کے درمیان رواں برس جون میں سرحد میں ہونے والی کشیدگی کے بعد اعلیٰ سطح کی پہلی ملاقات ہوگی۔

یاد رہے کہ 20 جون کو وادی گالوان میں کشیدگی کے دوران 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد دونوں فریق پیچھے ہٹنے پر رضامند ہوئے تھے۔

تاہم مذاکرات کے کئی دور کے باوجود مختلف مقامات پر فوجیں آمنے سامنے ہیں جس میں انتہائی بلندی کا مقام پیانگونگ تسو جھیل بھی شامل ہے جس کے بارے میں دونوں ممالک دعویٰ کرتے ہیں۔

31 اگست کو چین اور بھارت دونوں نے ہمالیہ کی سرحد پر ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے پر اشتعال انگیزی کے الزامات عائد کیے تھے۔

بھارتی فوج نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’29 اور 30 اگست 2020 کی درمیانی شب میں پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) نے لداخ کے مشرقی حصے میں جاری کشیدگی کے دوران فوجی اور سفارتی رابطوں کے دوران ہونے والے گزشتہ اتفاق رائے کی خلاف ورزی کی اور اشتعال انگیز فوجی نقل و حرکت کی تاکہ حیثیت کو تبدیل کیا جائے’۔

چین کی فوج نے جواب میں کہا تھا کہ بھارتی فوج نے 4200 میٹر بلندی پر واقع جھیل کے قریب پینگونگ تسو کے مقام پر سرحد عبور کی اور اشتعال انگیزی کرتے ہوئے سرحد میں حالات میں تناؤ پیدا کردیا۔

پیپلز لبریشن آرمی ریجنل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ چینی فوج اس تمام کارروائی کے انسداد کے لیے ضروری اقدامات کر رہی ہے کیونکہ بھارت علاقائی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی کر رہا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کا احترام کیا اور کبھی بھی اسے عبور نہیں کیا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا تھا کہ دونوں اطراف کے سرحدی فوجی دستوں نے زمینی مسائل پر مواصلاتی رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان تقریباً 3500 کلومیٹر (2 ہزار میل) طویل سرحد پر تنازع ہے اور اسی وجہ سے 1962 میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بوئی تھی، تاہم نصف صدی کے دوران رواں موسم گرما میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی انتہائی عروج پر پہنچ گئی تھی۔