عالمی سفارت کاری میں بعض ملاقاتیں رسمی مسکراہٹوں کے شور میں گم ہوجاتی ہیں، مگر کچھ ایسے تاریخی لمحات بھی ہوتے ہیں جو آنے والے برسوں کی راہ متعین کرتے ہیں۔ کرغزستان کے صدر صادر ژپاروف کا پاکستان کا حالیہ دورہ انہی کم یاب اور فیصلہ کن لمحات میں سے ہے۔ بیس برس بعد کسی کرغز صدر کی پاکستان آمد نہ صرف علامتی اہمیت رکھتی ہے بلکہ یہ دورہ خطے میں ابھرتی ہوئی جغرافیائی حرکیات، تجارتی امکانات اور توانائی تعاون کے نئے دور کا پیش خیمہ بھی محسوس ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ وسطی ایشیا پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ اہم خطہ رہا ہے۔ جغرافیائی قربت، مذہبی و تہذیبی ہم آہنگی اور تاریخی روابط کے باعث اسلام آباد ہمیشہ سے چاہتا رہا ہے کہ یہ خطہ محض سفارتی بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ فعال معاشی و تزویراتی تعاون کی شکل اختیار کرے۔ اس تناظر میں پاکستان کرغزستان تعلقات خصوصی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ کرغزستان وسطی ایشیائی ریاستوں میں وہ اہم جغرافیائی مقام رکھتا ہے جو اسے یورپی منڈیوں کے قریب اور چین وسطی ایشیا اقتصادی راہداریوں کا لازمی حصہ بناتا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ صدر ژپاروف کی ملاقات میں دونوں رہنماں نے تجارت، توانائی، رابطہ کاری، مواصلاتی ڈھانچے اور سرمایہ کاری جیسے بنیادی شعبوں میں عملی اقدامات پر اتفاق کیا۔ کرغزستان چونکہ لینڈ لاک ملک ہے اس لیے پاکستان کی بندرگاہیں خصوصا کراچی اور گوادر اس کے لیے قدرتی سمندری رسائی فراہم کرتی ہیں۔ وزیراعظم نے بجا طور پر اس رسائی کو اسٹریٹجک موقع قرار دیا اور دونوں ممالک کے تجارتی حجم کو 20 کروڑ ڈالر تک لے جانے کے ہدف کو محض خواہش نہیں بلکہ قابل حصول منصوبہ بندی کا حصہ بتایا۔
پاکستان کرغزستان بزنس فورم اس دورے کی سب سے عملی پیش رفت تھی۔ وزیراعظم پاکستان نے اپنے خطاب میں کرغز سرمایہ کاروں کو پاکستان کے ابھرتے ہوئے صنعتی و تکنیکی شعبوں خاص طور پر ٹیکسٹائل، زراعت، سیاحت اور آئی ٹی میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ ساتھ ہی ایس آئی ایف سی کے ون ونڈو ماڈل کا ذکر یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے مطلوبہ ادارہ جاتی ڈھانچہ فراہم کرنے کی سنجیدہ کوشش کر رہا ہے۔ دوسری جانب صدر ژپاروف نے نہایت اہم نکتہ اٹھایا کہ کرغزستان یورپی منڈیوں کے لیے گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے، یوں دونوں ممالک مشترکہ طور پر عالمی تجارت میں نئی راہیں ہموار کر سکتے ہیں۔تجارت اور سرمایہ کاری کے علاوہ توانائی کے میدان میں بھی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ کاسا 1000 منصوبہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان توانائی شراکت داری کی بڑی مثال ہے۔ پاکستان کے حصے کا منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل میں پہنچ چکا ہے، جبکہ کرغزستان نے اپنا حصہ پہلے ہی مکمل کر لیا ہے۔ یہی تعاون مستقبل میں ہائیڈرو پاور، بجلی کی تجارت اور گرڈ انضمام کے مزید نئے راستے کھول سکتا ہے۔ صدر آصف علی زرداری سے ون آن ون ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات اس دورے کا وہ سیاسی پہلو تھا جو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی بنیاد کو مضبوط کرتا ہے۔ صدر زرداری نے بجا طور پر اس حقیقت کی جانب اشارہ کیا کہ موجودہ تجارتی حجم دونوں ممالک کی اصل صلاحیت کا عشرِ عشیر بھی نہیں۔ انہوں نے کرغزستان کو بحیرہ عرب تک کم لاگت راہداری فراہم کرنے کی پیشکش کی، جبکہ براہ راست پروازوں کے اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا یہ دونوں اقدامات مستقبل میں عوامی روابط، سیاحت اور کاروباری تبادلوں کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔ دورے کے دوران 15 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط بھی اسی وسیع وژن کی علامت ہیں۔ ان معاہدوں کا تنوع تعلیم، زراعت، کان کنی، بندرگاہوں کے استعمال، ثقافت، بینکاری، نوجوانوں کے پروگرام، فارن سروس اکیڈمیوں کے تعاون، کسٹمز ڈیٹا شیئرنگ اور سسٹر سٹی تعلقات یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اور کرغزستان دوطرفہ تعلقات کو محض سفارتی سطح پر نہیں بلکہ ادارہ جاتی اور معاشی بنیادوں پر استوار کرنا چاہتے ہیں۔وسطی ایشیائی ریاستیں آج بدلتی ہوئی عالمی معیشت میں مرکزی حیثیت اختیار کر رہی ہیں۔ چین وسطی ایشیا جنوبی ایشیا رابطہ کاری، خطے میں نئے ریلوے منصوبے، توانائی ذخائر، معدنی دولت اور ابھرتی ہوئی منڈیاں یہ سب پاکستان کے لیے وہ مواقع ہیں جن کے ذریعے نہ صرف تجارت کا حجم کئی گنا بڑھ سکتا ہے بلکہ علاقائی رابطے اور اسٹریٹجک تعاون بھی مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔صدر ژپاروف کا یہ دورہ اسی سمت میں فیصلہ کن پیش قدمی ہے۔ تاہم معاہدوں ، رابطہ کاری کے منصوبوں پر عملدرآمد، اور کاروباری برادری کی شمولیت ہی اس دورے کو حقیقی معنوں میں تاریخی بنائے گی۔آخر کار، قومیں مشترکہ وژن، عملی فیصلوں اور تسلسل میں ترقی کرتی ہیں۔ اگر اسلام آباد اور بشکیک یہی رفتار برقرار رکھیں تو آنے والے برسوں میں پاکستان اور کرغزستان نہ صرف مضبوط معاشی شراکت میں بندھ سکتے ہیں بلکہ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان وہ پل بھی بن سکتے ہیں جو مشترکہ ترقی کی نئی داستان رقم کرے۔
کالم
دو دہائیوں بعد پاکستان ،کرغزستان ایک راہ پر
- by web desk
- دسمبر 6, 2025
- 0 Comments
- Less than a minute
- 88 Views
- 3 مہینے ago

