یہ ملک جس کی بنیاد دھرتی کی محبت اور کسان کی محنت پر رکھی گئی تھی آج اسی دھرتی کے وفادار کو بھول چکا ہے۔ وہ کسان جس کے ہاتھوں میں مٹی کے ذرّے اور دل میں امید کے چراغ ہیں اب صبر کی حد سے آگے پہنچ چکا ہے۔ کھیتوں کی ہر بالی، ہر فصل، ہر پانی بھرے کھیت اس کی فریاد سناتے ہیں مگر وہ فریادایوانِ اقتدار کی بلند و بالا عمارتوں تک پہنچنے سے پہلے ہی خاموش ہو جاتی ہے۔ آج کسان کی محنت صرف روزی کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک مسلسل جدوجہد بن گئی ہے جو ہر دن اسے قرض، مشکلات اور بے قدری کے اندھیروں میں دھکیلتی ہے۔کسان کی کہانی محض زمین سے جڑی نہیں بلکہ یہ قومی تقدیر سے منسلک ہے۔ ناقص بیج، مہنگی کھاد، موسمیاتی تغیرات اور حکومتی پالیسیوں کی بے حسی نے اسے مستقل نقصان میں دھکیل دیا ہے۔ وہ شخص جسے تقریروں میں ”معیشت کی ریڑھ کی ہڈی”کہا جاتا ہے حقیقت میں سب سے زیادہ دباؤ اور بھروسے کی کمی کا شکار ہے۔ وہ انصاف چاہتا ہے رہنمائی نہیں مانگتا۔ خیرات نہیں طلب کرتا۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کی محنت کا صلہ اس کے حصے میں آئے۔اس کی پیداوار کی قیمت کو تحفظ ملے۔ منڈی شفاف ہو تاکہ مافیا کا جال اس کے ہاتھوں سے فصلیں نہ چھین سکے۔ سورج کی پہلی کرنیں کھیتوں پر بعد میں پڑتی ہیںمگرکسان پہلے جاگتا ہے۔ رات کے اندھیروں میں واپس آتا ہے اور اپنے قرضوں کا حساب لگا کر تھکن کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ اس کی محنت کی کوئی قدر نہیںرہی۔اس کی قربانی کا کوئی اہمیت نہیںرہی۔ اس کی زندگی کیلنڈر کے دنوں سے نہیںفصل کے رحم و کرم سے جڑی ہوئی ہے اور اب وہ فصلیں بھی اس کی نہیں رہیں کیونکہ منافع کوئی اور لے جاتا ہے۔کسان کی اذیت صرف ایک فصل یا ایک موسم کا نہیں بلکہ یہ سالوں پر محیط ایک زخم ہے۔ وہ زمین کو ماں کی طرح سمجھتا ہے۔ اس کے ساتھ وفاداری سے رہتا ہے مگر ماں جیسی شفقت اسے نصیب نہیں۔ ہر بیج جو وہ بوتا ہے، ہر پانی جو وہ دیتا ہے، ہر دیکھ بھال جووہ کرتا ہے اس کا فائدہ کسی اور کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے۔ اس کا جسم کھیتوں کی دھوپ، پسینے اور محنت سے تھک گیا ہے مگر اس کی محنت کی قیمت کہیں اور طے ہوتی ہے۔اس کی زندگی کا ہر دن حساب کتاب میں گزرتا ہے۔ ہر صفحہ خسارے سے بھرا ہے۔ وہ جیتے جی ہار ماننے پر مجبور ہے۔ اس کی غربت صرف مالی نہیں بلکہ یہ اس کی بے قدری اور اس کی پہچان کی کمی کا بھی ثبوت ہے۔ اسے معلوم ہے کہ اس کی محنت کا ذکر تقریروں میں ضرور ہوگا مگر عملی فیصلوں میں اس کی بات کا کوئی وزن نہیں۔ وہ خاموش ہے کیونکہ بولنے کی قیمت اس کے بس میں نہیں۔دیہات کی فضاؤں میں اگر غور سے سنا جائے تو ہنسی کم اور سسکیاں زیادہ ہیں۔ وہ باپ جو بچوں کی بھوک اور تعلیم کے سوالوں سے نظریں چرا لیتا ہے۔وہ ماں جو کھیت اور گھر کے حساب کتاب میں الجھی رہتی ہے۔ وہ نوجوان جو کھیت سے دل ہٹا کر شہر کے خواب دیکھنے لگتا ہے یہ سب کسان کے دکھ کے مختلف پہلو ہیں۔ وہ امید کے سہارے جیتا ہے۔ ہر دن یہ سوچ کر اٹھتا ہے کہ شاید حالات بدل جائیں مگر ہر دن اسے یہی بتاتا ہے کہ اس کی قسمت کے نقشے میں اس کا نام شامل نہیں۔کسان کی زندگی انتظار بن چکی ہے اور انتظار تھکن میں بدلتا جا رہا ہے۔ یہ کسان کسی ایک فصل کا نہیں بلکہ پورے نظام کا اسیر ہے۔ اس کے مسائل کسی ایک پالیسی یا ایک فیصلے سے حل نہیں ہوتے کیونکہ یہ مسائل جڑوں میں بیٹھ چکے ہیں۔ وہ صرف نقصان نہیں اٹھاتا بلکہ نظام پر اعتماد بھی کھو رہا ہے۔ وہ اعتماد کھو رہا ہے ریاست پر، حکومتی اداروں پر اور مستقبل پر۔ اس کی آنکھوں کی نمی بارش کی نہیں بلکہ ان خوابوں کا بوجھ ہے جو اس نے اپنی اولاد کیلئے دیکھے تھے مگر اب ان خوابوں کو لفظ دینے سے بھی ڈرتا ہے کہ کہیں یہ خواب بھی اسے چھوڑ نہ دیں۔راقم الحروف کے یہ الفاظ کسی موسم کی روداد نہیں بلکہ یہ کسان کا نوحہ ہے۔ یہ وہ فریاد ہے جو زمین سے اٹھتی ہے مگر سماعت کی حد سے آگے پہنچنے سے پہلے خاموش ہو جاتی ہے اگر یہ فریاد نہ سنی گئی تو یہ خاموشی ایک دن چیخ میں بدل جائیگی اور پھر دیر ہو چکی ہوگی ۔ کسان کی محنت، قربانی اور پسینہ صرف اس کیلئے نہیں بلکہ پوری قوم کیلئے ہے ۔ وہ دن رات زمین سے نظریں نہیں ہٹاتا۔ کام کرتا ہے۔ دیکھ بھال کرتا ہے مگر فیصلے اس کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ وہ بیج بوتا ہے۔ پانی دیتا ہے۔ زمین کی حفاظت کرتا ہے مگر منافع کسی اور کا ہوتا ہے۔ وہ قرض کی جکڑ میں زندگی گزارتا ہے اور ہر دن امید کے سہارے جیتا ہے کہ شاید کل بہتر ہوگا مگر کل بھی اسے وہی محرومی اور وہی ناانصافی ملتی ہے۔کسان کی زندگی کی کتاب میں ہر صفحہ خون اور پسینے سے بھرا ہوا ہے۔ ہر فصل کے ساتھ اس کی امید بھی اُگتی ہے مگر فصل کے ساتھ نقصان بھی بڑھتا ہے۔ اس کا دکھ صرف ذاتی نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کی بنیاد کو جھنجھوڑتا ہے۔ جس دن کسان ہمت ہار دے گا اس دن قوم نے اپنی غذائی خودمختاری کھو دی ہوگی اور مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہوگا۔یہ نوحہ اس کی وفاداری، قربانی اور بے بسی کا ہے۔ اس کی محنت کے بدلے میں اسے وہ مقام نہیں ملا جو اس کے حق میں تھا۔ اس کے ہاتھوں نے ملک کو کھلایا مگر وہ خود خالی رہ گیا۔ اس کی چیخ جو کھیتوں سے اٹھتی ہے اگر سماعت کی حد سے آگے نہ پہنچی تو یہ خاموشی ایک دن شور میں بدل جائے گی اور پھر شاید بہت دیر ہو چکی ہوگی۔یہ کسان صرف زمین کا رکھوالا نہیں بلکہ قوم کی زندگی کی بنیاد بھی ہے۔ اس کے بغیر معاشرہ ٹوٹ جاتا ہے۔ معیشت بکھر جاتی ہے ۔ مستقبل اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے۔ یہ نوحہ صرف ایک کسان کا نہیں بلکہ پورے نظام کی فریاد ہے۔ یہ ریاست کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ابھی وقت ہے۔ ابھی سنو۔ ابھی اس کی محنت کا انصاف کرو ورنہ یہ خاموشی ایک دن چیخ میں بدل جائے گی جو سب سنیں گے مگر سننے کے بعد کچھ نہ کر پائیں گے۔

