دنیا کے نقشے پر پاکستان ایک جغرافیہ ہی نہیں، ایک احساس، شناخت اور روشنی کا نام ہے ۔ یہ روشنی سرحدوں کی محتاج نہیں، یہ،، شمع سے شمع تک،، منتقل ہوتی ہے اور جہاں جہاں کوئی پاکستانی بستا ہے، وہاں وطن کی خوشبو، اقدار اور پہچان خود بخود روشن ہو جاتی ہے۔ آج دنیا کے ہر گوشے میں بسنے والے پاکستانی دراصل وہ روشن شمعیں ہیں جو اپنے اندر پاکستانیت کی لو سنبھالے ہوئے ہیں۔ایشیا سے امریکہ، یورپ، آسٹریلیا اور مشرقِ وسطی تک ایک کروڑ سے زائد پاکستانی بہتر روزگار، اعلیٰ تعلیم، اور مستقبل کی تلاش میں وطن سے دور زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ جن معاشروں میں رہتے ہیں، وہاں کی زبان سیکھتے، ثقافت کو سمجھتے اور قوانین کا احترام کرتے ہیں، مگر اپنی جڑیں پاکستان سے کبھی جدا نہیں کرتے ۔ جہاں بھی جاتے ہیں، ان کی شناخت کا پہلا حوالہ پاکستان ہی ہوتا ہے، اور یہی حوالہ ان کا فخر بنتا ہے۔ایک سچا پاکستانی وہ نہیں جو اپنی شناخت چھپائے، بلکہ وہ ہے جو اپنی تہذیب، اقدار اور کردار کے ذریعے دنیا کے سامنے پاکستان کا مثبت چہرہ پیش کرے۔ بیرونِ ملک ہماری ہر حرکت صرف ذاتی عمل نہیں رہتی بلکہ وطنِ عزیز کی عزت اور وقار کا عکس بن جاتی ہے۔ یہی احساسِ ذمہ داری پاکستانی کمیونٹی کو دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔آسٹریلیا میں بسنے والی پاکستانی کمیونٹی اس حقیقت کی روشن مثال ہے۔ 2023کے اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد پاکستانی آسٹریلیا میں مقیم ہیںجو مجموعی آبادی کا نمایاں حصہ بنتے ہیں اور یہ کمیونٹی تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہے۔ اس میں ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین، اساتذہ، کاروباری شخصیات، محنت کش اور اعلی تعلیم کیلئے آنیوالے طلبہ شامل ہیں جو نہ صرف اپنی ذاتی ترقی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان مثبت روابط میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔تاہم بیرونِ ملک نئی زندگی کا آغاز کبھی آسان نہیں ہوتا۔ زبان، ثقافت اور سماجی نظام کو سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔ ایسے میں اگر پہلے سے موجود ہم وطن رہنمائی، تجربہ اور تعاون کا ہاتھ بڑھائیں تو مشکلات خود بخود کم ہو جاتی ہیں۔ یہی بھائی چارہ، یکجہتی اور باہمی مدد پاکستانی کمیونٹی کی اصل طاقت ہے۔اسی جذبے کے تحت آسٹریلیا میں کمیونٹی اینڈ اسٹوڈنٹس ویلفیئر کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا، جس کے چیئرپرسن ڈاکٹر ماجد گوندل اور جنرل سیکرٹری نعمان خان منتخب ہوئے۔ اس تنظیم کے قیام میں قونصل جنرل آف پاکستان واجد حسین ہاشمی نے کلیدی کردار ادا کیا، جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کمیونٹی اپنے مسائل خود بہتر انداز میں حل کر سکتی ہے۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد صرف مسائل کا حل نہیں بلکہ پاکستانی ثقافت، خاندانی رشتوں، تعلیم، صحت اور پیشہ ورانہ ترقی کے میدانوں میں رہنمائی اور سہولت فراہم کرنا ہے۔اس مقصد کے لیے مختلف شعبوں پر مشتمل کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں، جن میں ثقافت، فیملی افیئرز، اسٹوڈنٹ ویلفیئر، اسپورٹس، تجارت، زراعت ،ہیومن ریسورس امپورٹ، آئی ٹی، انجینئرنگ اور میڈیکل جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔ یہ تمام کمیٹیاں رضاکارانہ بنیادوں پر کام کر رہی ہیں، جن کے اراکین کی تعداد اس وقت تقریبا دو سو ہے، اور مستقبل میں مزید پاکستانیوں کو شامل کر کے روابط کے دائرے کو وسیع کیا جائے گا۔ ان تمام سرگرمیوں کی نگرانی ڈاکٹر ماجد گوندل کر رہے ہیں، جو اس تنظیم کے صدر کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔چیئرپرسن ڈاکٹر ماجد گوندل کے مطابق، ایک مضبوط کمیونٹی اسی وقت قائم ہوتی ہے جب لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔ یہ تنظیم ان طلبہ، خاندانوں اور افراد کے لیے موجود ہے جنہیں زندگی کے اہم مراحل میں رہنمائی یا کسی مددگار ہاتھ کی ضرورت ہو۔ کمیونٹی کی خدمت محض ایک ذمہ داری نہیں بلکہ ایک مشترکہ قدر ہے، جو اعتماد، اتحاد اور احساسِ وابستگی کو مضبوط بناتی ہے۔ ہمدردی اور مقصد کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو کر ہم یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ کوئی خود کو تنہا محسوس نہ کرے۔کمیونٹی کو باہم جوڑنے کیلئے ایک ویب سائٹ pcswc.com.au بھی قائم کی گئی ہے، جہاں تازہ ترین معلومات، سرگرمیوں کی تفصیل اور بہتری کیلئے تجاویز فراہم کی جا سکتی ہیں۔ پانچ فروری کو قونصل جنرل میلبورن کے دفتر میں ان کمیٹیوں کا باقاعدہ افتتاح ہوا جس میں بڑی تعداد میں کمیونٹی رہنمائوں نے شرکت کی ۔ اس موقع پر قونصل جنرل واجد حسن ہاشمی نے کہا کہ قونصلیٹ کے دروازے کمیونٹی کیلئے ہمیشہ کھلے ہیں اور ہر ہم وطن کا تحفظ اور عزت ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ درخت کوئی اور لگاتا ہے، مگر اس کا پھل آنے والی نسلیں کھاتی ہیں، اور یہی کمیٹیاں مستقبل میں پاکستانی کمیونٹی کیلئے ثمر آور ثابت ہوں گی ۔ پاکستانیت چھپانے کی چیز نہیں بلکہ یہ شرف اور فخر کی علامت ہے۔ ہم جہاں کہیں بھی ہوں ، آسٹریلوی پاکستانی ہونے کے باوجود ہمارے لبوں پر پاکستان کا نام ہمیشہ فخر سے جگمگاتا رہے گا ۔ اسی یقین اور روشنی کے ساتھ ہم کہہ سکتے ہیں کہ شمع سے شمع جلے اور پاکستان کی روشنی دنیا بھر میں ہمیشہ روشن رہے۔

