کالم

ملک دیوالیہ کے لئے بڑی محنت کرنی پڑتی ہے

چلیں گھڑی چور والا معاملہ تو کسی حدتک اپنے انجام کو پہنچا۔صبح سے شام تک جلسوں سے لے کر ٹی وی پروگراموں اخبارات اور سوشل میڈیا تک قیامت برپا تھی۔توشہ خانہ کا گھڑی چور توشہ خانہ لوٹ کر لے گیا بھلا ہو عدالت کا کہ جس نے اپنے دروازوں تک پہنچنے والے اس شور پر جب توشہ خانہ کا ریکارڈ طلبی کا حکم دیا تو ذمہ داروں نے یہ کہہ کر بات ٹالنے کی کوشش کی کہ حساس ریکارڈہے اس سے ملکی مفاد متاثر ہو گالیکن عدالت نے ہربہانے کو مسترد کرتے ہوئے آخر منگواہی لیا ۔ ریکارڈ صرف 2002 سے 2022 تک کا پیش کیاگیا ہے ساڑھے چارسو کے قریب صفحات کا یہ ریکارڈالزام علیان پر الٹاپڑگیا ہے بلکہ ایک نیا کٹاکھل گیا ہے۔بات گھڑی چورسے شروع ہوئی تھی ریکارڈ چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ گھڑی تو ایک طرف ہمارے حکمرانوں اور ان کے خانوادوں بلکہ سرکاری افسروں اوربعض قلمکاروں سے لے کر خود کو غیر ملکی شہری کہلوانے والوں تک نے بھی توشہ خانہ کو مال مفت دل بے رحم کے سنہری اصول پرعمل کرتے ہوئے حسب توفیق لوٹاہے توشہ خانہ نہ ہوا خالہ جی کا گھر ہو گیا کہ جو چیز پسند آئی جیب میں ڈال لی الزام گھڑی چوری کا تھا یہاں مرسیڈیز گاڑیوں سے لے کر طلائی زیورات تک اور قالینوں سے لیکر مصلوں تک کو نہیں چھوڑاگیا۔توشہ خانہ کے اس ریکارڈ کو دیکھ کر ایک اندازہ تو لگایا جاسکتا ہے کہ ہم پر حکومت کرنے والے راجے مہاراجے کس بے رحمی سے ریاستی ثمرات کو محض اپنے اور اپنے خاندانوں دوستوں عزیزوں کیلئے لوٹتے اور ڈکار لینا بھی پسند نہیں کرتے بات محض توشہ خانہ تک ہی محدود نہیں بلکہ دیگر ریاستی ثمرات اورمراعات کیساتھ بھی دہائیوں سے ایسا ہی ہورہا ہے جبکہ عام آدمی اگر ریلوے کا ناکارہ ہینڈل بھی اٹھا لے تو اسے سرکاری مال چوری کرنے پر برسوں جیل اور عدالتوں کا منہ دیکھنا پڑتا ہے لیکن دیکھا جائے تو توشہ خانہ کا یہ ریکارڈ ابھی نامکمل ہے بلکہ بعض دوستوں کا خیال ہے کہ اس میں بھی ابھی کچھ حصے چھپائے گئے ہیں جب 1985 سے 2000 تک کا ریکارڈ سامنے آئے گا تو لوگ حیران وپریشان ہو جائیں گے سفارتی روایت کے مطابق حکمران یا ملکی نمائندگان کو بیرون ملک دوروں کے مواقع پر تخائف پیش کئے جاتے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح ہمارے ہاں آنے والی غیر ملکی شخصیات کو حسب مراتب تخائف دیے جاتے ہیں مگر یہ تخائف کسی شخص کیلئے نہیں بلکہ اس عہدے اور ریاست کیلئے ہوتے ہیں جسکی وہ نمائندگی کر رہا ہوتا ہے اس طرح یہ تحائف ہر لحاظ سے قومی دولت کاحصہ ہوتے ہیں اسلئے قومی مفاد اور حساس معلومات قراردیکر انکی تفصیلات سے عام آدمی تک رسائی سے دور نہیں رکھا جاسکتا۔ بہرحال عدالت کے حکم پر ابھی توشہ خانہ کا کچھ ریکارڈ آیاہے اور بہت ساباقی ہے ہونا یہ چاہئے کہ ان تمام شخصیات سے ان تخائف کی اصل رقوم موصول کرکے قومی خزانے میں بھی جمع کرایاجائے اور ایسالائحہ عمل بھی تیار کیاجائے کہ توشہ خانہ کے تحائف کی عام نیلامی ہو جو زیادہ قیمت لگائے اسے وہ چیز فروخت کرکے رقم حکومتی خزانے میں جمع ہو۔ایک طرف عام آدمی مہنگائی مفلسی بیروزگاری اور افلاس کی وجہ سے دودقت کی روٹی کا محتاج ہے اور دوسری طرف حکمران قیمتی تحفوں کومن مرضی کی قیمت لگا کر ہڑپ کرنے میں مصروف ہیں مگر کیا کریں کہ حکمرانوں کی دیکھا دیکھی ہمارے ادارے بھی اسی روش پر چل پڑے ہیں پشاور سے ایک خبر ہمارے حکمرانوں اور ذمہ داروں کی عادتوں اور انداز کی ایک تکلیف دہ مثال ہے کہ جس میں بتایا گیا ہے کہ رویت حلال کمیٹی پشاور نے چاند دیکھنے کیلئے اڑہائی سو افراد کا اجلاس طلب کیا ہے جس میں انکی بھوک مٹانے کےلئے مرغن خوراک دم پخت تکہ بوٹی سیخ کباب حلوہ ماڈااور دیگر لوازمات اور نجانے کیاکچھ رکھا گیاہے۔پشاور میں اگر ایساہوگا تو لاہور کراچی کوئٹہ اور دیگر مراکز رویت حلال پر بھی اسی قسم کے انتظامات ہونگے۔بندہ پوچھے کہ ملکی خزانہ خالی ہے قرضوں سے ہم گزراوقات کر رہے ہیں عالمی مالیاتی ادارہ اور دیگر ممالک ہمیں ٹکے کا قرضہ نہیں دے رہے اور یہ صاحبان مال مفت دل بے رحم والی پالیسیوں سے باز نہیں آرہے کیا ایساممکن نہیں کہ گورنر اور نگران حکومت فوری ایکشن لیے ہوئے حلوہ ماڈا پروگرام بھی بند کرے اور ایسا پروگرام بنانے والوں کو بھی کمیٹی سے باہر پھینکیں۔دیکھا جائے تو چاند دیکھنے کیلئے کسی اونچی عمارت پر ایک دوربین اور تین چار لوگوں کی ضرورت ہے اور بس لیکن لوگ پوچھتے ہیں کہ ہمارا ملک دیوالیہ ہونے کے کیوں قریب ہے تو وجہ ایک توشہ خانہ اور روایت حلال کمیٹی کے پروگرام سے ہی جان لیں ورنہ غریب آدمی تو ماچس خریدنے پر بھی ٹیکس دیتاہے۔ملک ایسے ہی دیوالیہ نہیں ہوتے انہیں دیوالیہ کرنے کیلئے بڑی محنت کرنی پڑتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے