
موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آنے پر پاکستان تحریک انصاف اوراس کے حواری اس حکومت کو امپورٹڈقراردیتے تھکتے نہیں تھے اور ان کی خوش فہمی اورخام خیالی تھی کہ موجودہ حکومت معاشی بحران کی وجہ سے چندماہ سے زائدنہیں چل
کیا پیسہ اور عہدہ انسان کو سکون دیتا ہے یا وہ ذات یہ سب کچھ بعض لوگوں کو سزا کے طور پر دیتی ہے۔ جس کا اندازہ گزرتے وقت کے بعد ہوتا ہے۔ سیاسی حکمران وزرا، چیف جسٹس ججز صاحبان
یقیناً پاکستان اس وقت سنگین معاشی مشکلات میں پھنسا ہوا ہے اگر موجودہ صورتحال کو دیکھاجائے توبجٹ بنانابہت مشکل تھا کیونکہ آئی ایم ایف کی طرف سے قرض کے حصول کاایک بڑا چیلنج درپیش ہے مگر اس کے باوجود حکومت
ملک اس وقت معاشی، سیاسی اور سماجی بحرانوں میں یوںگھرا ہوا ہے کہ ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں۔معیشت کو ٹھیک کرنے کے دعوے کرنے والوں نے بے تحاشا قرضہ لینے کے باوجود بھی ملکی معیشت بہتر نہیں
ہماری حکومتیں بجلی کی پیداوار بڑھانے کی بجائے بجلی بچانے پر زور دیتی چلی آئی ہیں، پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے چارموسم عطاءکئے ہیں اوروافرآبی ذخائرمہیاکررکھے ہیں جس کو زیراستعمال لاکرہم سستی پن بجلی تیارکرسکتے ہیں مگر وجہ سمجھ نہیں
یہ بات مسلمہ ہے کہ سچے معاشرے میں جس طرح برے آدمی کا موجود رہنا ناممکن ہوتا ہے اسی طرح جھوٹے معاشرے میں سچے انسان کا وجود مشکلات کا سبب بنتا ہے نیک اور ایماندار آفیسر ہمیشہ اپنے ساتھ سفری
ملک کی تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کرانے کا معاملہ زیرسماعت ہے، اگلے روزوزارت دفاع کی جانب سے ملک کی تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کرانے کی درخواست پر سماعت کرنے کے بعد عدالت نے درخواست کو ناقابل
حکم الٰہی کی تکمیل کرتے ہوئے روزے کی محنت ومشقت اٹھانے والے ایسے خوش نصیب ہیں کہ جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی رضا ومغفرت اور گناہوں کی بخشش کے اعزاز سے نوازتے ہیں۔ اور ان کے اعزاز میں ہونے والی تقریبات
اگرچہ گزشتہ چند ماہ سے ملک میں مہنگائی نے تمام اگلے پچھلے ریکار ڈ توڑ ڈالے ہیں اور اس وقت مہنگائی کی شرح ۴۴ فیصد سے بھی زائد ہو چکی ہے، تاہم ماہ رمضان کے آتے ہیں منافع خوروں اور
چلیں گھڑی چور والا معاملہ تو کسی حدتک اپنے انجام کو پہنچا۔صبح سے شام تک جلسوں سے لے کر ٹی وی پروگراموں اخبارات اور سوشل میڈیا تک قیامت برپا تھی۔توشہ خانہ کا گھڑی چور توشہ خانہ لوٹ کر لے گیا