نگران وزیراعظم نے کہاہے کہ اب افغان حکومت تحریک طالبا ن پاکستان کی سہولت کاراور سرپرست ہے اور پاکستان میں پھیلائی جانے والی بدامنی اور دہشتگردی میںبرابرکی شریک ہے ۔ کافی عرصے بعد کسی پاکستانی حکمران کی جانب سے یہ دلیرانہ موقف سامنے آیا ہے جس میں افغانستان کو موردالزام ٹھہرایاگیا اسی پریس کانفرنس میں ایک صحافی کے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے یہ بھی کہاکہ افغانستان ایک الگ آزاد اور خودمختارملک ہے جبکہ پاکستان الگ ملک ہے ۔لائن آف کنٹرول کے اس طرف جو رہے گا اسے پاکستانی قوانین پر پوری طرح عملدرآمد کرناپڑے گا اس پریس کانفرنس کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ وزیراعظم نے کہاکہ افغانستان کے اندر جو پاکستانی غیرقانونی طورپرمقیم ہیں انہیں ہمارے حوالے کیاجائے ہم انہیں قبول کرنے کے لئے تیارہیں ۔یہ ایک واضح اشارہ تھا ان دہشتگردوں کی طرف جوافغان حکومت کی چھتری تلے بیٹھ کر پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لئے سازشیں کرتے رہتے ہیں اور پاکستان کی معیشت کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ افغان ایشو پروزیراعظم پاکستان کی جانب سے اس دلیرانہ موقف کی ہم تائید اورحمایت کرتے ہیں اور اس بات کے حامی ہیں کہ پاکستان سے تمام غیرقانونی تارکین وطن کو اپنے اپنے ملک چلے جاناچاہیے۔گزشتہ روز اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ افغان عبوری حکومت آنے کے بعد پاکستان میں دہشتگردی بڑھی، پاکستان مخالف دہشت گردوں کیخلاف افغان حکومت نے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے،چند مواقع پر دہشتگردوں کی سہولت کے بھی واضح ثبوت سامنے آئے، بدامنی پھیلانے کا زیادہ ہاتھ غیر قانونی تارکین وطن کا ، خودکش حملوں میں 15افغان شہری ملوث تھے، پاکستان نے ہر طرح سے مشکل حالات میں افغانستان کا ساتھ دیا،افغانستان ٹی ٹی پی یا پاکستان میں سے ایک کو چن لے، دہشت گردوں کی فہرست افغانستان کی عبوری حکومت کو بھیجی گئی،پاکستان کسی پر دبا و¿دیتا ہے اور نہ پاکستان کسی کا دباو¿ لے گا، پاکستان نے دہشت گرد کارروائیوں سے متعلق معلومات افغان حکومت کو فراہم کیں، دہشتگردوں کی فہرست بھی افغان عبوری حکومت کو بھیجی گئی، چند مواقع پر دہشتگردوں کی سہولت کے بھی واضح ثبوت سامنے آئے، پاکستان مخالف دہشت گردوں کیخلاف افغان حکومت نے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے۔ گزشتہ 2سال میں افغان سرزمین سے دہشت گردکارروائیوں میں اضافہ ہوا اور سرحدپاردہشت گردی کی وجہ سے 2ہزارسے زائدپاکستانی شہیدہوئے، افغان حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں اپنے ملک سے بھی غیر قانونی مقیم پاکستانیوں کو ہمارے حوالے کرے۔ پاک افغان تعلقات مشترکہ مذہب، تاریخ، ثقافت، بھائی چارے پر مبنی ہیں، پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کی 4دہائیوں تک میزبانی کی، گزشتہ40برس سے افغان بھائیوں کا ساتھ نبھایا، ہم افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو جاری رکھیں گے۔ پاکستان نے اب داخلی معاملات کو اپنی مدد آپ کے تحت درست کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اب تک واپس جانے والے غیرقانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی تعداد 2 لاکھ 52 ہزار کے قریب ہے، رضاکارانہ طور پر ڈھائی لاکھ افراد کا واپس جانا معمولی بات نہیں، تمام غیر ملکی خاندانوں کو عزت کے ساتھ واپس جانے کے مواقع فراہم کیے، توقع کرتے ہیں افغان حکومت بھی واپس جانے والوں کیلئے احسن اقدامات کرے گی۔افغان رہنماو¿ں کے دھمکی آمیزبیانات افسوسناک ہیں، دہشتگرد افغان سرزمین استعمال کرتے ہیں، مطلوب سرکردہ دہشتگردوں کی فہرست افغانستان کے حوالے کی گئی ہے، افغان عبوری حکومت دہشتگردی میں ملوث افراد کو ہمارے حوالے کرے، توقع ہے کالعدم ٹی ٹی پی کیخلاف ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے، پاکستان نے افغانستان کوپاکستان یا کالعدم ٹی ٹی پی میں سے ایک کو چننے کا کہا ہے۔افغان حکام کی الزام تراشی اور دھمکی آمیز بیانات نے پاکستانی غیور عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے، افغان عبوری حکومت کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ دونوں ریاستیں خود مختار ہیں، ٹی ٹی پی کیخلاف کارروائی دونوں ممالک کے حق میں ہے، امید ہے ان اقدامات کے بعد ہمارے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔پاکستان کے اوپر کسی قسم کا دﺅبا نہیں یہ ذہن سے نکال دیں کہ امریکا یا کسی اور ملک کا پاکستان پر دباﺅ ہے، پاکستان نہ کسی کا دبا ﺅلیتا ہے نہ لے گا ۔ پاکستانی پشتونوں کا اتنا ہی حق ہے جتنا پنجابی، بلوچی، سندھیوں کا ہے، کسی کیخلاف امتیازی سلوک برداشت نہیں کیا جائیگا، کسی پشتون کوٹارگٹ کرناقبول نہیں، اس طرح کی حرکات میں ملوث افراد کوسخت سزادی جائیگی۔
صدرمملکت غیرجانبداررہیں
صدرمملکت بدستور تحریک انصاف کے ساتھ جڑے نظرآتے ہیں کیونکہ اکثروہ اپنی تقاریر میں پاکستان تحریک انصاف کے لئے محفوظ راستہ تلاش کرنے اور سیاسی رواداری کی مثالیں دیتے دکھائی دیتے ہیں اور وہ ابھی تک اس بات پرڈٹے ہوئے ہیں کہ نومئی کو جوکچھ ہوا وہ ایک عوامی ردعمل تھا وہ اسے اپنی سیاسی جماعت کی سنگین غلطی تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ سیاسی رواداری کا تو یہ عالم ہے کہ ان کے عہد ے کی مدت ختم ہونے کے باوجود انہیں آئندہ انتخابات تک اپنے عہدے پر برقراررکھاگیا ہے تاکہ عام انتخابات ان کی نگرانی میں ہوں اور کل کو وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ان انتخابات میں کوئی دھاندلی ہوئی ہے یاسیاسی مداخلت کی گئی ہے ۔صدرمملکت کو اپنے منصب کا خیال کرتے ہوئے اپنے آپ کو غیرجانبدارثابت کرناچاہیے تھا جسے وہ بدقسمتی سے نہ کرسکے اور اپنے آپ کو ایک سیاسی پارٹی کاکارکن ثابت کرتے رہے اسی پس منظر میں انہوں نے وزیراعظم پاکستان کو ایک مکتوب تحریر کیاہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ نگراں حکومت کا غیر جانبدار اکائی کے طور پر تمام سیاسی جماعتوں کو ہموار میدان فراہم کرنا بے حد اہم ہے، آئندہ انتخابات میں تمام رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کو مساوی حقوق اور مواقع فراہم کرنے کی نگراں حکومت کی پالیسی پر آپ کے حالیہ بیانات باعثِ اطمینان ہیں اور پختہ یقین ہے کہ جمہوریت ہی پاکستان کے عوام اور ریاست کےلئے آگے بڑھنے کا مناسب راستہ ہے،صدر مملکت نے خط میں لکھا کہ عوام کا سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا اور آزاد میڈیا کے ذریعے رائے کا اظہار کرنا ہی جمہوریت کی روح ہے جبکہ آزادانہ، منصفانہ اور مستند الیکشن پر پورے پاکستان میں اتفاق ہے، تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماوں کو الیکشن میں حصہ لینے اور عوام کو انہیں منتخب کرنے کا حق ہے۔ڈاکٹر عارف علوی نے لکھا کہ صدر مملکت ریاست کے سربراہ کے طور پر جمہوریہ کے اتحاد کی علامت ہیں۔ خواتین سیاسی ورکرز کی طویل نظر بندی یا عدالت کی جانب سے ریلیف کے بعد بار بار دوبارہ گرفتاریاں معاملے کو مزید حساس بنا دیتی ہیں۔
خناق کی پھیلتی خطرنا ک بیماری
خناق بچوںکی ایک خطرناک بیماری ہے جسے پاکستان میں تقریباً ختم کردیاگیاتھا مگر اچانک اس مرض نے صوبہ خیبرپختونخوامیں سراٹھالیا ہے جس سے سولہ اموات واقع ہوچکی ہیں۔سمجھ نہیں آتی کہ ہمارے سرکاری ہسپتال کیاکررہے ہیں۔نہ وہاں پر ڈاکٹردستیاب ہوتے ہیں نہ صحیح طبی علاج معالجہ دستیاب ہے اورنہ ہی ٹیسٹ کرانے کی کوئی سہولت میسرہے حالانکہ حکومت کی جا نب سے تمام سہولیات ان ہسپتالوں کے اندر ہیں مگر اس کے باوجود عوام دھکے کھانے پرمجبور ہیں اس طرف حکومت کو سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے تاکہ پتہ چلایاجاسکے کہ عوام کو طبی سہولیات کیوں نہیں مل رہیں۔اخباری اطلاعات کے مطابق اب تک 328 افراد بیماری سے متاثر ہو چکے ہیں۔ متاثرہ افراد میں 6 ماہ کے بچوں سے لے کر 68 سال تک کی عمر کے افراد شامل ہیں، تاہم محکمہ صحت کے پاس خناق سے متاثرہ افراد کے لئے انٹی ڈفتھیریا سیرم بھی موجود نہیں، جس کی وجہ سے صورت حال مزید تشویشناک ہو گئی ہے۔اسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو بھی اے ڈی سی کی عدم دستیابی سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق صوبے کے 28اضلاع سے خناق کے متاثرہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ پشاور، کوہاٹ، کرک، خیبر اور چارسدہ سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ صرف پشاور سے 68 کیسز سامنے آئے ہیں، بچوں کی مکمل ویکسینیشن سے مرض سے بچاﺅ ممکن ہے۔
اداریہ
کالم
نگران وزیراعظم دلیرانہ موقف
- by web desk
- نومبر 10, 2023
- 0 Comments
- Less than a minute
- 1491 Views
- 2 سال ago

