کالم

پیشہ ورسیاست دان

taiwar hussain

فطرت کوشش کے باوجود نہیں بدلتی ، انسان کی فطرت اس کے دنیا میں آنے سے پہلے تشکیل پاچکی ہوتی ہے اور پھر وہ اپنی اس تشکیل کے مطابق عمل کرنے پر مجبور ہوتا ہے ۔وہ اپنی فطرت میں رہن رکھا ہوا ہوتا ہے ۔ اگر کوئی یہ خبر دے کہ دریا نے رخ بدل لیا ہے ، پہاڑے اپنی جگہ چھوڑ دی تو مانا جاسکتا ہے لیکن یہ کہے کہ فلاں صاحب نے اپنی فطرت بدل لی تو دل ، دماغ اس خبر کو ماننے کیلئے تیار نہ ہوں گے۔ ایک دفعہ ایک گدھ اور ایک شاہین اکھٹے بلندی پر پرواز کرنے لگے دور سے دونوں ایک جیسے لگ رہے تھے ، دونوں اگر چہ ہم فطرت نہیں تھے لیکن وقتی طور پر مصروف پرواز ہوگئے ۔ شاہین نے دوران پرواز گدھ سے کہا کہ دنیا میں ذوق پرواز کے علاوہ کوئی بات قابل غور نہیں ہوسکتی ۔ گدھ نے بھی اپنی بڑائی بیان کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بلند پروازی بہت عزیز ہے لیکن کچھ ہی دیر بعد گدھ کی نظر ایک مردار پر پڑگئی اس نے شاہین سے کہا تم آسمان کی وستعوں میں لٹکے رہو ، مجھے میری منزل مل گئی اتنا کہہ کرگدھ نے سٹائل سے زمین کی طرف غوطہ لگایا اور مردار تک پہنچ کر اسے کھانے میں مصروف ہوگیا۔ فطرت کا تعلق تعلیم یا حالات سے نہیں بلکہ فطرت کا تعلق انسان کے باطن سے ہوتا ہے۔ انسانوں کو اگر غور سے پرکھا اور دیکھا جائے تو ان کے اعمال سے معلوم ہوجاتا ہے کہ جو کمینہ ہے وہ خواہ کسی مقام یا مرتبے تک رسائی حاصل کرلے وہ اپنی فطرت کے مطابق کمینہ ہی رہے گا، اس کے اعمال افعال سوچ کے انداز کردار ہر پہلو سے اس کی کمینگی کا پتہ چلتا رہتا ہے ۔ ہر چیز اپنے اصل کی طرف رجوع کرتی رہتی ہے ،بلند فطرت انسان اگر نامساعد حالات سے بھی گزرے تو بھی اس کا مزاج پست نہیں ہوتا۔ مولانا رومیؒ نے ایک دفعہ دیکھا کہ دریائے دجلہ کے کنارے کوا اور ہنس اکھٹے دانہ چگ رہے ہیں ۔ مولانا کو بہت تعجب ہوا قریب ہوکر دیکھا تو دونوں زخمی تھے ، پتہ چلا کہ اس تکلیف نے دونوں کو عارضی طور پر اکھٹا کردیا تھا ورنہ دونوں کی فطرت اور مزاج مختلف تھے ۔ ایک دفعہ ڈاکوو¿ں کا گروہ لوٹ مار کرنے گیا اپنے مقصد میں کامیاب ہوکر لوٹ رہے تھے کہ ایک بچے کے رونے کی آواز آئی جس کے ماں باپ ڈاکوو¿ں سے مقابلے میں مارے گئے تھے انہوں نے اس بچے کو ساتھ لیا ، اپنی سرپرستی اور ماحول میں اس کی پرورش کرکے اپنے فن میں ماہر بنادیا وہ بچہ ہونے کے باوجود ڈاکہ ڈالنے کے منصوبے بنانے اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کا ماہر بن گیا۔ ایک دفعہ ڈاکوو¿ں کے گروہ نے شہر کے کوتوال کے گھر ڈالہ مارا گھروالوں کے ساتھ پہرہ دینے والوں نے حفاظت کی اور ڈاکوو¿ں کو قتل کردیا بچہ بچ گیا جیسے کوتوال نے پالنا شروع کردیا وہ بڑا ہو ا تو ایک دن کوتوال کو اور اس کی بیوی بچوں کو قتل کرکے مال دولت کو لے اڑا ، کوتوال کے عزیزوں کو رونے دھونے میں مصروف دیکھ کر ایک دانا نے کہا صبر کریں و ہ بچہ بدفطرت تھا بدی کر گیا ۔میں اپنے ملک کے سیاستدانوں کو دیکھتاہوں تو لگتا ہے سب بد فطرت لوگوں کا ٹولہ ہے جو باری باری ملک لوٹ رہا ہے ۔ 75سالوں میں ملک کی یہ حالت ہوگئی کہ وہ ڈیفالٹ کے قریب پہنچ گیا ، بنگلہ دیش پاکستان سے الگ ہوکر ایک ریاست بن گیا ، معاشی حالت ہم سے بہتر کرلی لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ نہ تو عوام کی معاشی حالت اچھی ہے اور نہ ہی اسے تعلیم اور صحت کی سہولتیں میسر ہیں ، گاو¿ں دیہات جو دور دراز علاقوں میں قائم ہیں ان کو جدید دنیا کا پتہ ہی نہیں ان کی زندگیاں اکیسویں صدی کی ضروریا ت سے ہم آہنگ نہیں ۔ اب بھی ایسے گاو¿ں ہیں جہاں بجلی ، صاف پانی گیس اور صحت کی بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں ، اسی فیصد آبادی تو گاو¿ں میں آباد ہے جن کی زندگیاں حالات کے رحم ، رکم پر ہیں ، بیس فیصد آبادی سہولتوں سے آشنا ہے بلکہ بہت مخصوص طبقہ نہ صرف عیاشی کی زندگی گزارہا ہے بلکہ انہیںیہ بھی نہیں معلوم کہ اشیائے خوردنوش کس قدر مہنگی ہوچکی ہیں ، انہیں مہنگائی سے کچھ فرق نہیں پڑتا ، بے پناہ دولت انہیں ہر طرح کی سہولتیں ہروقت مہیا کرتی ہے ۔ انکے بچے امریکہ برطانیہ کنیڈا یا آسٹریلیا میں تعلیم حاصل کرتے ہیں پھر دولت کے سہارے وہ آکر انتخابات میں حصہ لیتے ہیں اور اسی دولت کی بیساکھی سے وہ پارلیمنٹ میں آکر بیٹھ جاتے ہیں کہا یہ جاتا ہے کہ عوامی نمائندے ہیں لیکن نہ تو انہیں عوام کی مشکلات کا صحیح طور پر پتہ ہوتا ہے اور نہ ہی یہ ان میں ملوث ہونا پسند کرتے ہیں ۔اقتدار کا نشہ ان کو بدمست کئے رہتا ہے کسی ادارے یا سرکار کی ملازمت اختیار کرنے سے پہلے ٹیسٹ، انٹرویو، تعلیمی قابلیت کے مطابق لئے جاتے ہیں پھر اس خالی آسامی کیلئے انتخاب ہوتا ہے لیکن افسوس ہے کہ قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کے ممبر بننے کیلئے تعلیم کی اہمیت نہیں صرف پیسہ ،طاقت اور ایک مرنے والا جھتہ ہونا چاہیے ، جو بھی تین چار کروڑ روپیہ لگاکر کامیاب ہوسکتا ہے وہ پھر چار پانچ سو کروڑ کمانا اپنا حق سمجھتا ہے اگر بدقسمتی سے کا احتساب ہوجائے تو مظلوم بن کر یہ دہائی دیتا ہے کہ سیاسی دشمنی کی وجہ سے مجھے جعلی اور بے بنیاد کیسز میں پھنسایا جارہا ہے وہ جدی پشتی شریف زادہ عوام کا غم خوار اور ان کی خدمت کا شیدائی ہے وہ انسانی خدمت کو عبادت سمجھتا ہے پیسہ کمانا اس کی سیاست نہیں بلکہ خدمت اسکا مشنور ہے جسے عوام نے پسند کیا اور کامیاب کیا ، بڑے بڑے بنگلے ، گاڑیاں اخراجات گرمیاں یورپ میں گزارنا یہ سب کچھ کہا ں سے آجاتا ہے ، اصل میں یہ پیشہ ور سیاستدان ہیں جونسل درنسل عوام کو بیوقوف بنارہے ہیں ، پیپلز پارٹی سندھ میں ایک طویل عرصے سے حکمران ہے ، کراچی اور اندرون سندھ کی جو حالت ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، اس سیلاب نے سب پول کھول دیئے اسی طرح نون لیگ والے ان کی اولادیں پیپلزپارٹی والے اور ان کی اولادیں پاکستان کو اپنی وراثتی جاگیر سمجھ کر قابض رہنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ۔ کیا پاکستان ان چند خاندانوں کے مفادات کا تحفظ دینے کیلئے معرض وجود میں آیا کیا کوئی دوسری پارٹی جو صحیح معنوں میں عوام دوست اور ان کی فلاح ، بہبود کیلئے کام کرنے والے ہو آگے نہیں آسکتی ۔ 75سال گزر گئے ان سیاسی جماعتوں نے جو ملک پر قابض رہی ہیں ملک کو ترقی یافتہ نہیں بنایا ۔ اب بھی بھوک ، افلاس سے متاثر ہوکر دوسرے ممالک ایڈ یا خیرات ہمیں بھیجتے رہتے ہیں حالیہ سیلاب میں بھی پرانی سیاسی جماعتیں جن کی وراثت چل پڑی ہے باہر سے آنے والی امداد کو ہڑپ کر جائیں گے ۔ نہ سڑکیں صحیح طرح بنیں گی ارو نہ ہی گاو¿ں اور شہروں میں ترقی نظر آئے گی انہوں نے کو بھکاری بنا رکھا ہے ۔ ویلے بیٹھ کر یہ سیاستدان اربوں روپئے کماتے ہیں ان کو صرف اپنا مفاد عزیز ہے ملک ، قوم ثانوی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اللہ سے دعا ہے کہ کوئی ایسا ملک کا سربراہ بنے جو ملک اور قوم کی ترقی اور خوشحالی کا ضامن ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے