کالم

چودھری حفیظ اللہ( مرحوم) جراتمند انسان تھے

riaz chu

چودھری حفیظ اللہ مرحوم بڑے خوبصورت، خوب سیرت ، دیانتدار اور فعال آفیسر تھے۔ ایسے افسر کسی بھی مہذب معاشرے میں قومی اثاثہ تصور کیے جاتے ہیں۔ چودھری حفیظ اللہ بڑے جرات مند اور بہادر آفیسر تھے جنہوں نے اپنے فرائض کی ادائیگی میں کبھی نفع نقصان نہیں سوچا تھا۔ مرحوم 1970 کے عام انتخابات میں ملتان میں ریٹرننگ آفیسر تھے اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ نواب صادق حسین قریشی مرحوم نے ان کے پاس اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے موقع پر ان کے دفتر کے ارد گرد مسلح پولیس کھڑی کر دی تھی تاکہ ان کے مقابلے میں کوئی دوسرا امیدوار اپنے کاغذات داخل نہ کر سکے۔ اسی حلقے سے عطاءاللہ ملک اورڈاکٹر احسان باری بھی امیدوار تھے۔ لیکن وہ پولیس کے کڑے پہرے کی وجہ سے کاغذات داخل نہ کر سکے۔
چودھری حفیظ اللہ مرحوم کے ساتھ راقم الحروف کے بہت دیرینہ اور دوستانہ تعلقات تھے۔ 1977 کے انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے لاڑکانہ سے بلامقابلہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے لئے وہاں سے پاکستان قومی اتحاد کے امیدوار اور جماعت اسلامی سندھ کے امیر جناب جان محمد عباسی کو اغوا کروا لیا اور وہ حلقہ این اے 163 لاڑکانہ سے بلامقابلہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوگئے۔ ان کی دیکھا دیکھی ان کے دیگر وزرائے اعلیٰ وغیرہ نے بھی بلامقابلہ منتخب ہونے کی بہتی گنگا میں اپنے ہاتھ دھونے شروع کر دیئے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نواب صادق حسین قریشی مرحوم نے بھی بلا مقابلہ منتخب ہونے کےلئے یہی طریقہ اپنایا۔
میاں احسان باری نے چودھری حفیظ اللہ مرحوم سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ انتخابی عذرداری داخل کریں ، اگریہ بات درست ہے تو میں گواہی دوں گا۔ چنانچہ میاں احسان باری نے چیف الیکشن کمشنر جسٹس سجاد احمد جان کو درخواست دی۔ 1977 کے عام انتخابات دھاندلی کے الزامات کی وجہ سے متنازع بن گئے تو چیف الیکشن کمشنر جسٹس سجاد احمد جان نے یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ ’الیکشن کمیشن کے تمام تر انتظامات کے باوجود ملک بھر میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کا ارتکاب کر کے ملک و ملت کے مفادات کو نقصان پہنچایا گیا، یہ ایسے ہی تھا کہ جیسے کوئی سجی سجائی دکان کو لوٹ کر لے جائے ۔ ‘بہر حال لاہور ایئرپورٹ پر نواب صادق حسین قریشی اور چودھری حفیظ اللہ مرحوم کی میری موجودگی میں ملاقات ہوئی اور قریشی صاحب نے چودھری صاحب کو گواہی نہ دینے پر راضی کرنے کےلئے بہت پاپڑ بیلے ۔ مگر سچے اور دیانتدار چودھری حفیظ اللہ مرحوم اپنی بات پر ڈٹے رہے۔ ان کی گواہی پر نواب صادق حسین قریشی کی کامیابی کالعدم قرار دے دی گئی۔
چودھری حفیظ اللہ انتہائی دیانتدار، اصولوں پر کاربند رہنے والے اور صوم وصلٰوة کے پابند تھے۔ ہر وقت ذکر اذکار کرتے رہتے۔ اسلام کے سچے شیدائی اور مظلوم کے ہمدرد اور دوست نواز انسان تھے۔ اسی وجہ سے ان کا حلقہ احباب کافی وسیع تھا۔مرحوم علم و عمل کا حسین امتزاج تھے۔ سادہ اور پرکشش شخصیت کے مالک تھے۔ تمام زندگی سادگی سے گزاری ۔ سیدھی سادھی زبان استعمال کرتے تھے۔
پوری زندگی وہ بہت سادہ رہے۔ملازمت کے دوران ان کودنیا داری کے بے بہا مواقع ملے مگر انہوں نے اس طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔وہ پاکیزہ درویش صفت آفیسرتھے جنہوں نے ہمیشہ اپنا دامن صاف رکھ کر ملازمت کی۔ چودھری حفیظ اللہ مرحوم صداقت، دیانت ، جرات اور شجاعت کا استعارہ تھے۔
چودھری صاحب نے لاءبھی کیا ہوا تھا مگروکالت کو کبھی ذریعہ معاش نہیں بنایا۔ کبھی کبھی دوست احباب کے ساتھ گپ شپ لگانے ہائیکورٹ بار میں چلے جاتے ۔ جدی پشتی زمیندار تھے۔ ان کی سندھ میں بھی زمین ہے جہاں ان کے صاحب زادے کھتی باڑی اور دیگر امور سنبھالتے ہیں۔ پنجاب میں بھی ان کی زمین ہے۔
کچھ عرصہ ملتان میں افسر مال بھی رہے۔ پھر چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل بنے اور بہترین انداز میں اس ذمہ داری کو نبھایا۔ میری اکثر ان سے ملاقات رہتی۔ ملتان میں تو ملاقاتیں تواتر کے ساتھ ہوتیں۔ بہاولپور میں کبھی اگر میرا جانا ہوتا تو ملاقات ضرور ہوتی۔
وطن عزیز کےلئے ان کی خدمات کوہمیشہ یادرکھاجائے گا۔دعاہے کہ اللہ تعالی چودھری حفیظ اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔  انہوں نے نا مساعد حالات میں کام کیا۔ وہ بلا شبہ ایک عظیم شخص تھے۔
ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جاتی رہے گی
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے