آئی جی پولیس آزاد کشمیر کیپٹن ریٹائر لیاقت علی ملک کا میرے آبائی شہر کوٹلی کا دورہ کتنا کامیاب رہا ہے اس بارے میں کوٹلی کی حکمرانیہ اشرافیہ اور عوامیہ ہی بتا سکتے ہیں عام آدمی اس ٹرائیکا سے سخت پریشان ہے تینوں نے عوام کے لئے پسند اور ناپسند کے ناکے لگا رکھے ہیں محترم ملک عوامی رنگ میں بھلے لگے ہیں پولیس دربار سے لے کر عوام کی عدالت تک کے خطاب سے پولیس دوستی عوام دوستانہ اور سول سوسائٹی سے اخوت کا رشتہ پھوٹ پھوٹ کر نکل رہا تھا میں آپ کے اعزاز میں سجی کسی تقریب میں جا نہیں سکا ساری صحافتی برادری شانہ بہ شانہ کھڑی تھی سوشل میڈیا میں ضلع بھر کے پولیس افسران چاق و چوبند دکھائی دیئے اور سول سوسائٹی کی نامی گرامی شخصیات بھی گھل مل گئی تھیں آپ کا ہر بیانیہ اقوال زریں کا مجموعہ تھا آپ کے اندر بیک وقت ایک اچھا پولیس افسر ایک اعلی انسان اور ایک صاف وشفاف کردار کا مالک روپوش لگا ہے اگر اسی طرح پولیس کی وردی بھی خدمت خلق پہن لے عام آدمی کے دکھ درد کو کم کرنے میں سنجیدہ ہو جائے تو پھر آئی جی صاحب کا دورہ کوٹلی ہر لحاظ سے کامیاب ہوا ہے اگر ساری محنت رات گئی بات گئی تک محدود ہے تو پھر دورے کو ناکام سمجھا جائے ایک لینٹ پولیس افسر کا اس طرح کوہالہ پل عبور کرنا بہت بڑی بات ہے پولیس وردی میں لیاقت علی ملک جیسے آئی جی کا ملبوس ہونا آزاد حکومت کے لئے بڑا اعزاز ہے ورنہ تھانہ کوٹلی کا کاتب ایف آئی آر جو حقیقت میں کاتب تقدیر کی کرسی پر براجمان ہے تھانے کے ماحول کو دہشت اور وحشت سے سجا رکھا ہوتا ہے جب تھانے کے اندر کوئی درد بھری کہانی داخل ہوتی ہے تو اس کہانی کے درد کا کوئی دردی کسی پولیس والے کی وردی میں نہیں ملتا ہے سائل کی شکایت کی ایف آئی آر کاٹنے سے پہلے تفتیش شروع کر دی جاتی ہے جب تک پولیس کلچر ہے جب تک حکمران پولیس کی طاقت سے طاقت ور بنتے رہیں گے اور جب تک پولیس جرائم میں ملوث ہے اس وقت تک پولیس کو خدمت خلق کا درس دینا فضول ہے۔آئی جی کا ہر بیانیہ اقوال زریں کا مجموعہ ہے ؟ پولیس کلچر کی وردی عوام دوست نہیں ہے؟لیاقت علی ملک کا دورہ کتنا کامیاب ہوا ہے ؟محترم لیاقت علی کا دورہ کوٹلی برائے تبلیغی پروگرام بغیر پروٹوکول کے قابل تحسین ہے آپ چاہتے ہیں کہ پولیس کا رویہ تبدیل ہو آپ کا عزم بھی نیک تمناؤں اور صالح جذبات خیالات اور خواہشات کا عکاس ہے ۔محکمہ پولیس کی وردیاں صاف وشفاف ہونی چائیں ان پر کسی طرح کا منفی داغ دھبہ باعث ندامت ہے لیکن پولیس کی پرورش جس پالنے میں ہوئی ہے اس میں ادارے کی نیک نامی بھی چھترول کی نذر ہو جاتی ہے پولیس کا دوسروں کی عزت نفس کو اچھالنا روزمرہ کا معمول ہے آئی جی پولیس کا اصلاح احوال کا پروگرام پولیس کے روئیے اور لہجے کو شائستہ نہیں بنا سکتا ہے۔ پولیس کے پاس ڈیل اور ڈھیل کا آپشن ہے جس وجہ سے کرنسی کا آزادانہ اور منصفانہ استعمال عام ہے جس شریف شہری کے گھر چوری ہوتی ہے وہ پولیس کے پاس نہیں جاتا ہے اگر چور پولیس کے اعتماد پر پورا اترتا ہے تو اسے پکڑنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے پولیس شہریوں کو تحفظ نہ دے سکے اور جرائم پیشہ افراد اس کی پناہ گاہوں میں محفوظ ہوں تو چوروں کو کون حراست میں لے گا پولیس سائل کو تھانے بٹھا لیتی ہے ہر روز نئے سوال اور نئی کہانی سے تفتیش کا آغاز ہوتا ہے آخر کار متاثرہ شخص اپنے ہونے والے نقصان سے دستبردار ہو جاتا ہے۔ پولیس کی وردی شہریوں کو ہراساں کرنے لگے تو احتساب کا عمل خودبخود دم توڑ دیتا ہے پولیس کا کمال ہے کہ اندھے قتل کو سراغ راتوں رات لگا لیتی ہے اور جو قتل دن دیہاڑے ہوتا ہے اس کی ایف آئی آر درج کرنے میں کئی دن لگ جاتے ہیں ۔ایک لینٹ افسر کا ایسے خادم اعلی کے ہمراہ آزاد کشمیر کی زمین پر لینڈ کرنا جو پولیس اور عوام میں گھل مل جائے اس کے نزدیک سارے منصب ایک صفحے پر ہوں یہاں پر ملک صاحب کے خیالات کو قلم بند کر رہا ہوں جس سے ان کی درویشی کی تقریب رونمائی آزاد کشمیر کے سارے تھانوں اشرافیہ کی تمام راہداریوں اور سول سوسائٹی کے سارے کاشانوں میں مقبولیت اور قبولیت حاصل کر چکی ہے عوامی آئی جی پولیس کہتے ہیں کہ مجھے شرم آتی ہے میرے گھر کے کمرے میں دو اے سی لگے ہوں اور میرے جوان کے لئے چار پائی نہ ہو اور بیرک ٹپکتی ہو،میں جس حالت میں آیا ہوں اسی حالت میں جاؤں گا وہی کپڑوں کا بیگ اور کتابیں ہوں گی ۔کاش میں بڑے صاحب کی کتابوں سے ملاقات کر سکتا کیونکہ کتابوں کی دنیا مجھے بہت اچھی لگتی ہے کتابیں اور کتابوں کا انتخاب کسی شخصیت کے بارے میں سب کچھ بتا اور سمجھا دیتا ہے جہاں تک پولیس کلچر کا تعلق ہے اس میں ملک صاحب کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے ہیں آپ اپنے تھانوں سے صرف ایک جملہ نکال دیں تو آپ کے تمام عوامی شوز کی ریٹنگ بلندیوں کو چھو سکتی ہے کہ یہاں پر جو بھی آتا ہے ایک ہی بات کہتا ہے کہ میں بے قصور ہوں اسی جملے نے تھانوں کو جرائم سے بھر دیا ہے اگر پولیس لیاقت علی ملک کی عوامی دوستی اور انسان دوستانے کے لطیفے بنائے اور سنائے تو پھر آپ کی لگن اور درویشی کی اوقات کہا پر جا کر ٹھہرتی ہے آپ کی خدمات نے لینٹ اور رینٹ پر کوہالہ پل پار کیا ہے آپ چلے جائیں گے اور نیا آنے والا پیٹی بھائی آئی جی کی باتوں کو کیسے لے گا پولیس کے نیٹ ورک کو توڑنے والے خود ٹوٹ جاتے ہیں آپ سب کے لئے مشکلات پیدا کرنے کے بعد اپنی پہلی والی پوزیشن سنبھال لیں گے پولیس کا قبلہ درست کرنے والا ہمیشہ خوار ہوا ہے پولیس سٹیٹ کے اپنے اصول ضابطے اور قاعدے ہیں ۔

