اس وقت پاکستان بھر میں اگر جذبہ حب الوطنی کے تحت جائزہ لیا جائے تو مہنگائی میں ہو شربا اضافہ غربت میں خوفناک حد تک فراوانی اور بیروزگاری میں تاریخ ساز زیادتی ہو چکی ہے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے پاکستان میں رہنے والے 90فیصد پاکستانیوں کو ان مسائل میں پیس کر یا تو قبروں کا ایندھن بنا دیا جائے گا یا پھر معیشت پر قابض کفر کے علم برداروں کے بتائے ہوئے قوانین پر سر جھکا کر مذہب کو بالا طاق رکھ کر حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دے کر طاقتوروں کے بتائے ہوئے اصولوں کو گلے کا طوق بنا کر مذہب کا حصہ سمجھ کر قبول کر لیا جائے گا کیونکہ بھوک ہی تو ہے جو بنی ادم کو تہذیب کے اداب بھلا دیتی ہے۔ اگر موجودہ پاکستانی معیشت پاکستان میں موجود غریبی بھوک بیماری بے روزگاری پر غور کیا جائے تو اس وقت دنیا کی بساط پر پس پردہ متحرک مندرجہ ذیل کفر کے ایوانوں میں صدیوں سے موجود کچھ طاقتور خاندانوں کی داستان محض دولت کی فراوانی کی نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے دھارے کو اپنی مرضی کے مطابق موڑنے کی وہ خوفناک صلاحیت ہے جو راک فیلر روتھ شیلڈ مورگن اور ڈوپونٹ جیسے ناموں کے گرد گھومتی ہے ان خاندانوں نے قرون وسطی کے شاہی درباروں سے لے کر جدید دور کے جمہوری ایوانوں تک اپنا اثر و رسوخ اس مہارت سے پھیلایا ہے کہ آج دنیا کا کوئی بھی بڑا واقعہ محض اتفاق نہیں بلکہ ان کی طویل المدتی منصوبہ بندی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے روتھ شیلڈ خاندان نے سود پر مبنی بینکاری کا وہ جال بنا جس نے پوری دنیا کو قرض کی زنجیروں میں جکڑ لیا ان کا فلسفہ یہ رہا کہ جب ریاستیں آپس میں ٹکراتی ہیں تو دونوں کو اسلحہ اور سرمایہ فراہم کر کے اپنی تجوریاں بھری جائیں جبکہ راک فیلر خاندان نے کالے سونے یعنی تیل کی صنعت پر قابض ہو کر دنیا کی شہ رگ اپنے ہاتھ میں لے لی ان کی حاکمیت کا خفیہ راز یہ ہے کہ یہ خاندان براہ راست حکومت کرنے کے بجائے عالمی مالیاتی اداروں فیڈرل ریزرو اور خفیہ سوسائٹیوں کے ذریعے پس پردہ رہ کر حکم چلاتے ہیں جہاں دنیا کے نقشے بدلنے اور قوموں کی تقدیر لکھنے کے فیصلے کسی عوامی پارلیمان میں نہیں بلکہ بند کمروں کے پراسرار اجلاسوں میں کیے جاتے ہیں ان کا طریقہ واردات یہ ہے کہ پہلے مصنوعی معاشی بحران یا وبائیں پیدا کی جاتی ہیں اور پھر نجات دہندہ بن کر ایسے حل پیش کیے جاتے ہیں جو انسانیت کو مزید غلامی کی طرف دھکیل دیں مورگن خاندان نے عالمی صنعتوں اور مالیاتی ڈھانچوں کو اپنے حصار میں لیا تو ڈوپونٹ خاندان نے بارود اور کیمیکلز کی ایجاد سے جنگوں کے رخ متعین کیے یہ وہ لوگ ہیں جو نسل در نسل اقتدار کی منتقلی کا ایسا نظام رکھتے ہیں جس میں عام انسان کی حیثیت محض شطرنج کے مہرے سے زیادہ نہیں ان کی اصل طاقت وہ بے پناہ سرمایہ نہیں بلکہ وہ خفیہ معلومات اور ٹیکنالوجی ہے جسے یہ عام عوام سے چھپا کر رکھتے ہیں تاکہ دنیا ہمیشہ ان کے اشاروں پر ناچتی رہے یہ خاندان میڈیا اور نظام تعلیم کو ہتھیار بنا کر انسانی شعور کو اس طرح مغلوب کر چکے ہیں کہ لوگ اپنی زنجیروں سے محبت کرنے لگتے ہیں اور ان نام نہاد خدایان زمین کی حاکمیت کو اٹل حقیقت سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں ان طاقتور خاندانوں کی عالمی حاکمیت کے پیچھے جہاں مالیاتی اور سیاسی محرکات ہیں وہیں ان کے مذہبی پس منظر اور عقائد کے حوالے سے بھی حقائق اور نظریات کی ایک طویل بحث موجود ہے جس میں روتھ شیلڈ خاندان کا تعلق بنیادی طور پر اشکنازی یہودی پس منظر سے ہے اور انہوں نے اٹھارویں صدی کے جرمنی میں اپنی جڑوں کو استوار کیا جبکہ ان کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ ان کی وفاداری کسی خاص ریاست کے بجائے اپنے خاندان اور عالمی صہیونی ایجنڈے کے ساتھ رہی ہے دوسری طرف راک فیلر خاندان کا تعلق پروٹسٹنٹ مسیحی فرقے سے رہا ہے اور ان کے مورثِ اعلی جان ڈی راک فیلر ایک سخت گیر مذہبی انسان کے طور پر مشہور تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان خاندانوں کے بارے میں یہ نظریہ مضبوط ہوتا گیا کہ ان کا اصل مذہب عام روایتی مذاہب سے ہٹ کر ایک مخصوص عالمی نظریہ ہے جسے سیکولر ہیومنزم یا بعض حلقوں میں الومیناتی اور فری میسنری کے خفیہ نظریات سے تشبیہ دی جاتی ہے جہاں انسانیت کو کنٹرول کرنے کے لیے مذہب کو محض ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے مورگن اور ڈوپونٹ جیسے خاندان بھی مسیحی پس منظر کے حامل رہے ہیں لیکن ان کی حاکمیت کا طریقہ کار بتاتا ہے کہ ان کے نزدیک سب سے بڑا عقیدہ طاقت کا حصول اور عالمی نظامِ نو کی تشکیل ہے جس میں روایتی مذہبی حدود و قیود کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی یہ خاندان بظاہر مختلف مذہبی شناخت رکھتے ہیں مگر ان کے باہمی گٹھ جوڑ اور عالمی اداروں پر قبضے سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ ان کا اصل دین وہ مادہ پرستی اور عالمی بالادستی ہے جو انہیں پوری دنیا کے وسائل کا تنہا وارث بناتی ہے ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ صیہونیت اور عالمی اشرافیہ کے ایک ایسے مشترکہ ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں جس کا مقصد تمام الہامی مذاہب کے اثر کو زائل کر کے ایک ایسا عالمی نظام لانا ہے جہاں صرف ان کے بنائے ہوئے قوانین کی پرستش کی جائے یوں ان کا مذہب ان کی اپنی ذات اور ان کا اپنا بنایا ہوا وہ معاشی نظام ہے جس نے پوری دنیا کو ایک لادینی شکنجے میں جکڑ رکھا ہے.ذرا غور فرمائیں قارئین کہ مندرجہ بالا تمام الفاظ کی ترتیب ترکیب ۔ کیا ہمارے سچے دین اسلام کی مخالفت اور کفر کی دنیا بھر میں موجودہ حالات کے پیش نظر معاشی مسائل میں اضافہ کر کے نا اتفاقی کی ہوا چلا کر بغض کینہ انفرادی مفادات کی تکمیل کرپشن ظلم زیادتی انصاف کی عدم فراہمی اقربا پروری کر کے اور غربت مہنگائی بھوک میں بیحد و حساب اضافہ کر کے عملی طور پر کفر کی امامت پر واضح دلیل کو ظاہر نہیں کر رہی ہے۔کیا امت مسلمہ سمیت دنیا بھر کے غریب بے بس اور کمزور ممالک کو شیطان کی بتائی ہوئی ترکیبات پر عمل کر کے حقیقی طور پر جہنم کے دروازوں تک نہیں پہنچا دیا گیا ہے اگر یہ درست ہے تو پھر ان الدین عند اللہ الاسلام کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر ہی فلاح خوشحالی اور اخرت کی کامیابی کا دروازہ کھولا جا سکتا ہے وگر نہ بہادر شاہ ظفر کی طرح ذلت غلامی رسوائی ہی امت مسلمہ کا اثاثہ رہ جائے گی اور۔داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں۔

