حلقہ احباب سردار خان نیازی خاص خبریں کالم

اسحاق ڈار کی ملاقات پر تشویش کیوں؟

Halq-e-Ahbab sardar khan niazi

پاکستان اس وقت تاریخ کے نازک ترین لمحات سے گزر رہا ہے ، حالات کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پورا ملک ہمہ تن گوش ہو کر اسلام آباد کی طرف دیکھ رہا ہے ،یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم اس وقت سیریس دنوں سے گز ررہے ہیں، حالات بہت سنگین چل رہے ہیں، کسی پل کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
ملکی سیاست میں اس وقت وزیر خزانہ اسحاق ڈار نہایت اہمیت کی حامل شخصیت ہیں، جنہیں ایک طرف سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف تو دوسری جانب اداروں کا بھی بھر پور اعتماد حاصل ہے ، اور اس وقت وہ سابق وزیر اعظم میاںنواز شریف کے بی ہاف پر فیصلے کررہے ہیں، کیونکہ اس وقت انہیں مریم نواز کے بعد جو حق حاصل ہے وہ شاید وزیر اعظم شہباز شریف کو بھی حاصل نہیں۔
نواز شریف ان کی ہر بات پر اعتماد کرتے ہیں، ان کے اور نواز شریف کے درمیان سمدھی کا رشتہ قائم ہے ، دوسرے الفاظ میں اگر انہیں ڈیفکٹو وزیر اعظم کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا، انہوں نے بطور وزیر خزانہ ریاست کیلئے بڑے مفید کام کیے ، کہ ریاست خود انہیں برطانیہ سے پاکستان بلوانے اور وزیر خزانہ بنانے پر مجبور ہوئی، انہوں نے ملک سے سود کے خاتمہ جیسا بہت بڑا اور تاریخی فیصلہ کیا۔
ان کی صدر مملکت سے ہونے والی ملاقات پر کچھ حلقے پریشان ہو گئے ، اب لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ان حلقوں کو اس ملاقات سے پریشانی کیوں ہے ، یہ میں نہیں کہہ رہا ہے بلکہ لوگ کہہ رہے ہیں، عوامی رائے بہر حال مقدم ہو ا کرتی ہے ،ا س لئے آواز خلق کو نقارہ خدا سمجھا جاتا ہے ، اب لوگ کہتے ہیں کہ میاں شہباز شریف کو کرونا نہیںہوا،مگرموقف یہ ہے کہ انہیں کرونا تو ہوا ہے مگر کتنا ہوا ہے اور وہ کس سٹیج پر ہے اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
یہ بھی وہ ہی معاملہ ہے جو عمران خان کے قافلے پرہونے والے حملے کے بعد پیدا ہوا، کچھ حلقے تو یہ ماننے کیلئے تیار ہی نہیں کہ عمران خان پر گولیاں چلیں اور وہ اس میں زخمی ہوئے ، بہر حال گولیاںچلنے کا واقعہ ایک حقیقت ہے ، میرے بہت قریبی عزیز علی نیازی جو عمران خان کے ساتھ لانگ مارچ میں شریک تھے، انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ گولیاں واقعتاً چلیںجس میں بھی زخمی ہوا، اور عمران خان بھی زخمی ہوئے،اب عمران خان کس حد تک زخمی ہوئے اس بارے کچھ کہانہیں جا سکتا۔
اس احتجاج کے دوران مشتعل عوام نے روز ٹی وی کی گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچایا، مگر اس کی خبر نہ تو ہم نے پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے اردو اور نہ ہی انگریزی اخبارات میں شائع کی اور نہ ہی ٹی وی چینلوں پر آن ایئر کی، اب میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کرونا کی بیماری میںمبتلا تو ہیں، مگر کس حد تک بیمار ہیں، اس کے بارے میں کچھ نہیںکہا جاسکتا، مگر رائے عامہ کو خاموش نہیں کرایا جاسکتا۔
جہاں تک میری بات ہے تو میں نے چند روز پیشتر کالم لکھا تھا، ” کون بنے گا مقدر کا سکندر؟“ میں عام طور پر اداروں کے حوالے سے نہیںلکھتا،مگر چونکہ ان دنوں فضا ایسی بنی ہوئی ہے کہ مجبوراً ایسا لکھنا پڑا،اب ایک اور بات یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کامعاملہ ہویا پھر نئے چیف کی تعیناتی کا مسئلہ ہو میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اصل فیصلہ اسحاق ڈار نے ہی لکھنا ہے اور اس پر دستخط وزیر اعظم شہباز شریف نے کرنے ہیں ، نواز شریف ، اسحاق ڈار دو بدن ایک روح کی مانند ہیں، گو کہ سینیٹر عرفان صدیقی اور پریز رشید کو بھی نواز شریف کا اعتماد اور قربت حاصل ہے مگر یہ حقیقت ہے اس وقت اسحاق ڈار نمبر ون پوزیشن پر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے