کالم

بلوچستان میں دہشتگردی، بی ایل اے اور بیرونی روابط کا پیچیدہ جال

پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور کٹھن جنگ لڑ رہا ہے۔ اگرچہ ملک نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار کامیابیاں حاصل کیں، لیکن حالیہ برسوں میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خاص طور پر کالعدم بلوچ لبریشن آرمی بی ایل اے کی سرگرمیوں نے نہ صرف بلوچستان بلکہ قومی سلامتی کے اداروں کیلئے بھی ایک سنگین چیلنج پیدا کر دیا ہے ۔ حال ہی میں جعفر ایکسپریس اور دیگر ریلوے تنصیبات پر حملوں سمیت متعدد بڑی کارروائیوں کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کر چکی ہے، جس کے بعد یہ بحث مزید شدت اختیار کر گئی کہ آخر یہ تنظیم کس حد تک بیرونی مدد، مالی معاونت اور بین الاقوامی دہشت گرد نیٹ ورکس سے منسلک ہے۔بی ایل اے کو پاکستان، امریکہ اور متعدد دیگر ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔ ابتدا میں اسے ایک علیحدگی پسند مسلح تنظیم کے طور پر دیکھا جاتا تھا جو بلوچستان کی علیحدگی کے نعرے کے تحت کارروائیاں کرتی تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس کی حکمت عملی، حملوں کی نوعیت اور عسکری صلاحیت میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی۔خودکش حملے خاص کر خواتین کو اس مکروہ فعل کے استعمال کرنا، ریلوے تنصیبات پر حملے، چینی شہریوں اور سی پیک منصوبوں کو نشانہ بنانا، اور پیچیدہ عسکری کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ تنظیم محض مقامی سطح کی مزاحمتی تحریک نہیں بلکہ جدید دہشت گرد نیٹ ورکس جیسی صلاحیت حاصل کر چکی ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کار بھی اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بی ایل اے کی کارروائیوں کی پیچیدگی گزشتہ چند برسوں میں نمایاں طور پر بڑھی ہے۔ٹی ٹی پی اور بی ایل اے، نظریاتی اختلاف کے باوجود عملی طور پر بیرونی آقاں کی شہہ پر پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے یک نکاتی ایجنڈے پر کاربند ہیں۔ ماضی میں یہ تصور کیا جاتا تھا کہ بلوچ قوم پرست تنظیمیں اور مذہبی شدت پسند گروہ ایک دوسرے سے نظریاتی طور پر متصادم ہیں۔ ایک جانب بلوچ قوم پرستی کا بیانیہ تھا جبکہ دوسری طرف تحریک طالبان پاکستان ٹی ٹی پی مذہبی انتہا پسندی کی نمائندہ سمجھی جاتی تھی۔تاہم حالیہ برسوں میں متعدد رپورٹس میں یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی ہے کہ دونوں تنظیموں کے درمیان عملی سطح پر تعاون بڑھ رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کی رپورٹس میں کنفرم کیا گیا ہے کہ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے درمیان قریبی رابطہ اور تعاون موجود ہے۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ دونوں گروہ افغانستان میں موجود بعض محفوظ پناہ گاہوں، سہولت کاروں اور لاجسٹک نیٹ ورکس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ایک اور رپورٹ میں اقوامِ متحدہ کے مانیٹرنگ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ بی ایل اے کی مجید بریگیڈ اور ٹی ٹی پی سمیت دیگر شدت پسند گروہوں کے درمیان تعاون کے شواہد سامنے آئے ہیں۔جون 2024 میں سیکیورٹی اداروں نے ایک اہم ٹی ٹی پی کمانڈر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق دورانِ تفتیش ایسے شواہد سامنے آئے جن سے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے درمیان تعاون اور رابطوں کی نشاندہی ہوئی۔ حکام کے مطابق دہشت گرد نیٹ ورکس بلوچستان میں مشترکہ سہولت کاری اور پناہ گاہوں کے قیام کی کوششوں میں مصروف تھے۔ حکام بارہا یہ مقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے بعض عناصر افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہیں۔ دفترِ خارجہ اور اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نمائندوں نے متعدد مواقع پر زور دے کر کہا کہ سرحد پار موجود محفوظ ٹھکانے دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیوں میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں ، سرحد پار موجود یہ نیٹ ورکس دہشت گردوں کو تربیت، مالی وسائل اور نقل و حرکت کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔یہ بات تو اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ ٹی ٹی پی ایک فتنہ ہے جس کی پشت پناہی ہندوستاں منظم طریقے سے کر رہا ہے جبکہ بلوچستان میں بھی ہندوستانی نیٹ ورکس پوری طرح ایکٹو ہیں۔جو بلوچستان میں بدامنی کو ہوا دیتے ہیں۔ خاص طور پر بھارت پر مختلف اوقات میں بی ایل اے اور دیگر بلوچ عسکریت پسند گروہوں کی معاونت کے ٹھوس شواہد پاکستان کے پاس ہیں۔بی ایل اے کی کارروائیوں کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے اکثر چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک)سے متعلق منصوبوں اور چینی شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔ گوادر، کراچی اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں نے نہ صرف انسانی جانوں خاص کر سکیورٹی اہلکاروں کا نقصان کیا بلکہ پاکستان کے معاشی مفادات کو بھی متاثر کیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق جب کوئی تنظیم ریاستی تنصیبات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سرمایہ کاری اور اقتصادی منصوبوں کو بھی نشانہ بنائے تو اس کے اثرات صرف سیکیورٹی تک محدود نہیں رہتے بلکہ ملکی معیشت اور سفارتی تعلقات بھی متاثر ہوتے ہیں ۔ حالیہ برسوں میں ہونیوالے بڑے حملوں نے یہ واضح کیا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں اپنی حکمت عملی اور آپریشنل صلاحیت کو مسلسل بہتر بنا رہی ہیں۔ ریلوے انفراسٹرکچر، سیکیورٹی فورسز، چینی مفادات اور عوامی مقامات پر حملے اس رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔ بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند عناصر کے درمیان تعاون جس طرح بڑھ چکا ہے تو یہ پاکستان کیلئے ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ سیکیورٹی چیلنج کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیکیورٹی ماہرین انسدادِ دہشت گردی کی جامع حکمت عملی، مثر سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس تعاون اور سیاسی استحکام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ بلوچستان میں جاری دہشت گردی محض ایک صوبائی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کی قومی سلامتی، معاشی ترقی اور علاقائی استحکام سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ بی ایل اے کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیت، ٹی ٹی پی کیساتھ روابط، سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں اور بیرونی معاونت کی رپورٹس اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔ دہشت گردی کے مختلف دھارے اب ایک دوسرے سے جڑتے جا رہے ہیں اور ان کا مشترکہ ہدف پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ بہرحال ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بلوچستان میں امن کا قیام، دہشت گردی کے خاتمے اور عوامی اعتماد کی بحالی پاکستان کے مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے