جنوبی ایشیا میں پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگی، زراعت، معیشت اور قومی سلامتی سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں آبی وسائل پر انحصار انتہائی زیادہ ہے۔ ملک کی زرعی معیشت کا بڑا حصہ دریاؤں کے نظام سے وابستہ ہے، جبکہ آبادی میں مسلسل اضافے اور موسمیاتی تبدیلیوں نے پانی کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایسے حالات میں جب پاکستان پہلے ہی پانی کی قلت کے خطرات سے دوچار ہے، بھارت کی جانب سے دریائے چناب اور دیگر مغربی دریاؤں پر مسلسل تعمیرات اور نئے منصوبوں کی اطلاعات ایک سنگین تشویش کا باعث ہیں۔ 1960ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں سندھ طاس معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کو دنیا کے کامیاب ترین آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانیوں پر بنیادی حق پاکستان کو دیا گیا، جبکہ راوی، بیاس اور ستلج بھارت کے حصے میں آئے۔ اگرچہ بھارت کو مغربی دریاؤں پر محدود نوعیت کے پن بجلی منصوبے تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی، لیکن اسے پانی کے بہاؤ میں ایسی مداخلت سے روکا گیا جو پاکستان کے حقوق اور مفادات کو متاثر کرے۔گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بھارت نے دریائے چناب اور جہلم پر متعدد پن بجلی منصوبے تعمیر کیے ہیں۔ بگلیہار ڈیم، سلال ڈیم اور دلہستی منصوبہ ان میں نمایاں ہیں۔ پاکستان نے مختلف اوقات میں ان منصوبوں پر اعتراضات بھی اٹھائے اور مؤقف اختیار کیا کہ بعض ڈیزائن خصوصیات سندھ طاس معاہدے کی روح سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ اگرچہ بعض معاملات میں عالمی ثالثی اور غیر جانبدار ماہرین سے رجوع کیا گیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے اپنی تعمیراتی سرگرمیوں کا سلسلہ نہیں روکا۔اب اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ بھارت دریائے چناب کے پانی کو سرنگوں کے ذریعے مختلف منصوبوں کی طرف منتقل کرنے یا اس کے بہاؤ کو مزید کنٹرول کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ صرف ایک تکنیکی یا انجینئرنگ معاملہ نہیں رہے گا بلکہ پاکستان کے لیے ایک اسٹریٹجک چیلنج کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ چناب پاکستان کی زراعت کے لیے انتہائی اہم دریا ہے۔ پنجاب کے وسیع زرعی علاقے اسی دریا کے نظام سے وابستہ ہیں۔ پانی کے بہاؤ میں معمولی تبدیلی بھی فصلوں، آبپاشی اور دیہی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔حالیہ برسوں میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ اپریل 2025ء کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو عملاً سرد خانے میں ڈالنے اور اس پر عمل درآمد معطل کرنے کا اعلان کیا، جسے پاکستان نے بین الاقوامی قانون، معاہداتی ذمہ داریوں اور سندھ طاس معاہدے کی روح کے منافی قرار دیا۔ اگرچہ دریاؤں کا بہاؤ فوری طور پر بند نہیں کیا گیا، تاہم اس اعلان نے جنوبی ایشیا میں آبی سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دیا اور یہ سوال پیدا کیا کہ کیا پانی کو مستقبل میں سیاسی دباؤ کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔اسی دوران بھارت نے دریائے چناب کے طاس میں متعدد نئے پن بجلی منصوبوں اور توسیعی منصوبوں پر کام تیز کر دیا۔ بھارتی حکام انہیں توانائی کی ضروریات اور ترقیاتی منصوبوں کا حصہ قرار دیتے ہیں، جبکہ پاکستانی ماہرین کے مطابق ان منصوبوں میں پانی کے بہاؤ کو منظم کرنے اور محدود پیمانے پر ذخیرہ کرنے کی ایسی صلاحیت موجود ہو سکتی ہے جو مستقبل میں پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان مسلسل بین الاقوامی فورمز پر اپنے تحفظات پیش کرتا رہا ہے۔عالمی سطح پر جاری قانونی کارروائیوں نے بھی اس تنازعے کو نئی اہمیت دی ہے۔ عدالتِ ثالثی اور دیگر متعلقہ فورمز میں پاکستان نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی شقوں کی مکمل پاسداری ناگزیر ہے اور مغربی دریاؤں کے پانی کے بہاؤ میں کسی بھی ایسی مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی جو پاکستان کے قانونی حقوق کو متاثر کرے۔ حالیہ قانونی پیش رفتوں نے ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ پانی کے تنازعات کا حل صرف بین الاقوامی قانون، معاہداتی اصولوں اور باہمی اعتماد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔بھارت کی جانب سے آبی منصوبوں کے دفاع میں یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ تمام تعمیرات سندھ طاس معاہدے کے دائرے میں ہیں اور ان کا مقصد صرف پن بجلی پیدا کرنا ہے۔ تاہم پاکستان کے ماہرین کا استدلال ہے کہ متعدد منصوبوں میں پانی ذخیرہ کرنے اور بہاؤ کو منظم کرنے کی ایسی صلاحیت موجود ہے جو معاہدے کے تحت دیے گئے حقوق سے زیادہ اثرات پیدا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان بارہا بین الاقوامی فورمز پر اپنی تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔پانی کو بطور سیاسی دباؤ استعمال کرنے کا تصور خطے کے امن کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ بھارت میں بعض سیاسی حلقے مختلف مواقع پر یہ بیانات دیتے رہے ہیں کہ پاکستان کو ملنے والے پانی پر نظرثانی ہونی چاہیے یا پانی کو سفارتی دباؤ کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ سندھ طاس معاہدہ قانونی طور پر اپنی جگہ موجود ہے، لیکن ایسے بیانات اعتماد کی فضا کو نقصان پہنچاتے ہیں اور خطے میں کشیدگی کو بڑھاتے ہیں۔پاکستان کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس صورتحال کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔ صرف احتجاج یا بیانات کافی نہیں ہوں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک اپنی آبی سفارت کاری کو مزید مؤثر بنائے۔ بین الاقوامی قانون، معاہداتی حقوق اور عالمی اداروں کے فورمز کو بھرپور انداز میں استعمال کیا جائے۔ پاکستان کو اپنے ماہرین، انجینئروں اور قانونی ٹیموں کی استعداد میں مزید اضافہ کرنا ہوگا تاکہ ہر نئے منصوبے کا تکنیکی اور قانونی جائزہ بروقت لیا جا سکے۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اپنی اندرونی آبی پالیسی پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ملک میں پانی کے ضیاع کی شرح بہت زیادہ ہے۔ نہری نظام میں پانی کا بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے، جبکہ جدید آبپاشی تکنیکوں کا استعمال محدود ہے۔ اگر ہم اپنے دستیاب وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال نہیں کرتے تو بیرونی خطرات کے خلاف ہماری پوزیشن بھی کمزور ہو جاتی ہے۔ قومی سطح پر آبی ذخائر کی تعمیر، نہری نظام کی بہتری اور پانی کے دانشمندانہ استعمال کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔موسمیاتی تبدیلی نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے گلیشیٔرز، جو جنوبی ایشیا کے دریاؤں کا بنیادی ذریعہ ہیں، تیزی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ مستقبل میں پانی کی دستیابی کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں دریاؤں کے بہاؤ پر کسی بھی قسم کی غیر معمولی مداخلت خطے کے کروڑوں لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے پانی کے معاملات کو سیاسی تنازعات سے بالاتر رکھتے ہوئے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان ماضی میں کئی جنگیں اور تنازعات ہو چکے ہیں، لیکن سندھ طاس معاہدہ ان تمام کشیدہ ادوار کے باوجود برقرار رہا۔ یہی اس معاہدے کی اہمیت اور افادیت کا ثبوت ہے۔ تاہم اگر معاہدے کی روح کو کمزور کیا گیا، اسے تعطل کا شکار کیا گیا یا یکطرفہ اقدامات کے ذریعے دوسرے فریق کے تحفظات کو نظرانداز کیا گیا تو یہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ہوگا۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اس مسئلے کو محض جذباتی نہیں بلکہ قانونی، سفارتی اور تکنیکی بنیادوں پر اٹھائے۔ عالمی برادری کو یہ باور کرایا جائے کہ پانی زندگی کا بنیادی حق ہے اور اس کے بہاؤ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا خطے کے امن کے خلاف ہے۔ پاکستان کو اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مضبوط مؤقف اپنانا ہوگا، کیونکہ پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ آنے والے زمانوں میں قومی سلامتی کا سب سے اہم مسئلہ بن سکتا ہے۔دریائے چناب پر بڑھتی ہوئی بھارتی سرگرمیاں، بگلیہار، سلال اور دلہستی جیسے منصوبوں کی تاریخ، نئے سرنگی منصوبوں کی اطلاعات، سندھ طاس معاہدے کو تعطل کا شکار کرنے کی کوششیں اور جاری قانونی تنازعات اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ پانی کا مسئلہ مستقبل کی سیاست، معیشت اور سلامتی کے مرکز میں ہوگا۔ اگر آج دانشمندانہ فیصلے نہ کیے گئے تو کل یہ مسئلہ صرف سفارتی اختلاف نہیں بلکہ ایک وجودی چیلنج کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ پاکستان کیلئے یہی وقت ہے کہ وہ اپنے آبی حقوق کے تحفظ، داخلی اصلاحات اور مؤثر سفارت کاری کو قومی ترجیحات میں سرفہرست رکھے۔

