کالم

بھارت کی ناکامی زیادہ دور نہیں

تاریخ نے اس سچ کو ثابت کیا کہ قائداعظم کا کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دینا بلاوجہ نہ تھا، کء دہائیاں گزر جانے کے بعد وقت نے اس حقیقت پر یوں مہر تصدیق ثبت کردی کہ پاکستان کی بقا وسلامتی کیلئے لازم قرار دیا جانے والا پانی کشمیر سے ہی آتا ہے ، دوآرا نہیں کہ پاکستانیوں کی اکثریت تنازعہ کشمیر سے اپنی والہاںہ وابستگی رکھتی ہے ، خبیر تا کراچی مسئلہ ہر خاص وعام سمجھتا ہے کہ پاکستان کی بقا وسلامتی بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر مقبوضہ علاقہ کی آزادی سے ہی وابستہ ہے ، ادھر مسئلہ کشمیر سات دہائیاں گزر جانے کے باوجود دو ایٹمی قوت کی حامل پڑوسی ریاستوں میں وجہ تنازعہ بنا ہے ، ستم ظریفی ہے کہ اقوام متحدہ سمیت مغرب کے بااثر ممالک اس دیرینہ تنازعہ کے حل پر توجہ مرکوز کرنے پر تیار نہیں، امن کے قائم کرنے کے عالمی ٹھیکداروں کو ہرگز کوئی سروکار نہیں کہ پاک بھارت کشیدگی کسی ایٹمی جنگ میں تبدیل ہوجاتی ہے تو پھر جنوبی ایشیا ہی نہیں کہ کراہ ارض کے حالات کیا ہوسکتے ہیں، دنیا جان لینا چاہے کہ مسلہ کشمیر محض پاکستان اور بھارت کے درمیان علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ یہ سرحد کے آرپار بسنے والے لاکھوں کشمیریوں کیلئے موت وحیات کا معاملہ ہے، کشمیریوں کا حق خود ارادیت کو خود اقوام متحدہ تسلیم کرچکی ، عالمی ادارہ اس حقیقت سے کسی طور پر نظریں نہیں چراسکتا کہ اگر وہ مسئلہ کشمیر اور تنازعہ فلسطین جیسے پرانے مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہتا ہے توجلد یا بدیر اپنی ساکھ کھو دے گا، ایک اور پہلو جس پر اقوام عالم کو توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ اس دیرینہ تنازعہ کے فریق محض بھارت اور پاکستان ہی نہیں بلکہ چین بھی ہے ، یوں اس زوایہ سے معاملہ کو دیکھا جائے تو یہ مسلہ تین ایٹمی قوتوں کے درمیان ہے ،سوال یہ ہے کیا دہائیوں سے زیرالتوا اس تنازعہ کا دیرپا حل ممکن ہے ، بنیادی سوال جس پر بھارت کو سنجیدگی کیساتھ توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ مقبوضہ وادی کو کسی صورت نئی دہلی کا اٹوٹ انگ قرار نہیں دا جاسکتا ، ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ مودی سرکار کی سوچی سمجھی حکمت عملی یہ ہے کہ تنازعہ کے دیرپا حل کے عمل کو مسلسل التوا میں رکھا جائے، یوں کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ بھارت اب تک کشمیری قوم کو خوف اور لالچ سے قابو میں لانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ، مثلا اب تک ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو شیہد کرنا اور سینکڑوں کو غائب کردینا بے جے پی کی بے رحمانہ پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہے ، اس پس منظر میں یہ سوال اور بھی اہم ہوجاتا ہے کہ ان حالات میں پاکستان کی کشمیریوں کی تحریک آزادی کی تسلسل کے ساتھ حمایت کس حد تک موثر ثابت ہورہی ہے ، دراصل نہیں بھولنا چاہے کہ جنوبی ایشیا ہی نہیں دنیا بھر میں پاکستان کے علاوہ کوئی اور دوسرا ملک نہیں جو کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے ہوئیہے، یقینا پاکستان ان گنت داخلی اور خارجی مسائل کا شکار ہے سچ تو یہ ہے کہ مملکت خداداد کو درپیش چیلنجز کی ایک بڑی وجہ مسلہ کشمیر کی جاری حمایت بھی ہے ،بلوچستان میں جاری شورش یو یا کے پی کے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی ہونے والی انسانیت سوز کاروائیاں سب ہی کے تانے بانے نئی دہلی سے جا ملتے ہیں۔ یوں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہے کہ نئی دہلی تحریک ازادی کشمیر کی بھرپور حمایت کرنے پر پاکستان میں لسانی ، سیاسی اور مذہبی دہشت گردی کا منعظم نیٹ ورک چلا رہا ہے ، بلوچستان اور خبیر پختوانخواہ نئی دہلی کی ہٹ لسٹ پر ہے ، کلبوشین یادو جیسے بھارت کے حاضر سروس آفیسر کی گرفتاری نے اس سچائی پر مہر تصدیق ثبت کرگی کہ بھارت سرکار کیوں اور کیسے پاکستان کو غیر مسحتکم کرنے کے منصوبہ پر عمل پیرا ہے ، تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی جدوجہد آزادی کو کسی خاص وقت یا سال تک محدود نہیں کیا جاسکتا، کیا ہم نہیں جانتے کہ جنوبی افریقہ کے رہنما نیلسن مینڈیلا نے 28 برس جیل کاٹی ، خود تقسیم ہند کی داستان بھی یہ بتانے کیلئے بہت کافی ہے کہ غاصب قوتیں ہرگز آسانی سے اپنا قبضہ ختم نہیں کیا کرتیں ، اس پس منظر میں بہت لازم ہے کہ کشمیری قوم صبر اور حکمت کا دامن کسی طورپر ہاتھ سے نہ جانے دے ، حوصلہ افزا یہ ہے کہ کشمیری قوم محض سرحد کے آر پار ہی نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہے ، یوں لازم ہے کہ مغرب کے جس ملک میں بھی اہل کشمیر موجود ہیں وہ تحریک آزادی کے ہر دن کے موقع پر اپنی موجودگی کا احساس دلائیں ،یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہے کہ آج سوشل میڈیا کی دنیا کا ہے ، کہیں بھی کسی بھی شکل میں ہونے والی ایک سرگرمی کی ٹیکنالوجی کی مدد سے دنیا بھر میں تشہیر کی جاسکتی ہے ، اہل کشمیر کو جان لینا چاہے کہ بھارت کی جانب سے آل پارٹیز حریت کانفرنس سمیت کشمیر کی ساری قیادت کو جیلوں میں بند رکھنے کا نمایاں مقصد یہی ہے کہ کشمیریوں کا جدوجہد آزادی کا جذبہ ماند پڑجائے ، کئی دہائیاں گزر جانے کے باوجود نئی دہلی تادم تحریر نہ صرف اس محاذ پر ناکام ہے بلکہ مستقبل میں بھی اس کی کامیابی کا کوئی امکان دور دور تک دکھائی نہیں دیتا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے