کالم

جستجو میں لذت تنویر رکھتی ہے مجھے

یہ نوے کی دہائی کے وسط کا واقعہ ہے ،جب اسلام آباد کے سیکٹر جی نائن فور میں ڈاکٹر تنویر احمد سے تعارف اور تعلق کا آغاز ہوا۔یہاں ڈاکٹر صاحب کا کلینک تھا اور اس کلینک کے پاس ہی میں رہائش پذیر تھا۔ان دنوں ڈاکٹر صاحب سیکٹر جی ایٹ میں رہتے تھے۔ ایک دو بار کی ملاقات سے اندازہ ہو گیا کہ ڈاکٹر صاحب صرف طب کے ڈاکٹر اور ادویات ہی کے ماہر نہیں ، فکر و فلسفہ اور زبان و ادب سے بھی گہری وابستگی اور دلچسپی رکھتے ہیں ۔ ہمارے ہاں عمومی طور پر میڈیکل ڈاکٹر حضرات اپنے کلینک میں مریض کے سامنے واقعتا مہر بہ لب بیٹھے رہتے ہیں، اور مریض کے ان گنت سوالات و استفسارات کے جواب میں چند ادویات لکھ کر چلتا کرتے ہیں۔بےزار اور اداس رہنا بھی پاکستان میں میڈیکل ڈاکٹرز کا محبوب رویہ شمار ہوتا ہے ۔لیکن ڈاکٹر تنویر احمد بالکل مختلف معالج تھے، معالج کیا تھے ، پورے کے پورے یونیورسٹی پروفیسر ، ایک مکمل ادیب اور ایک رجائیت پسند مفکر نظر آتے تھے۔کسی بھی علمی موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے وہ ایک روشن فکر ، زیرک ، موضوع گفتگو کی تہہ سے کامل واقفیت رکھنے والے سنجیدہ اور متبسم دانشور نظر آتے وہ مجھے یونیورسٹی ٹیچر ہونے کی وجہ سے اہمیت دیتے ،اور ہر وزٹ پر کوئی نہ کوئی علمی یا ادبی بات بھی ضرور کرتے ۔
کتابوں سے بے حد دلچسپی رکھتے تھے۔ رفتہ رفتہ وہ ہمارے فیملی ڈاکٹر بن گئے۔ میرے بلڈ پریشر کو بھی اوّل اوّل انہوں نے ہی دریافت کر کے علاج شروع کیا تھا۔ ڈاکٹر تنویر احمد نے 1970 میں نشتر میڈیکل کالج ملتان سے ایم بی بی ایس مکمل کیا۔وہ نشتر میڈیکل کالج کے مجلہ نشتر کے مدیر بھی رہے۔ مطالعے کے فراواں شوق نے فلسفہ ، ادبیات تاریخ ، سماجیات اور سیاسیات کو ذوق اور دلچسپی کا عنوان بنا دیا۔ اس ذوق اور محبت کی وجہ سے کتاب دوستی ان کی زندگی کا لازمی حصہ بن گئی۔تحقیق کہ کتابوں سے محبت کرنے والا، کثرت سے کتابیں پڑھنے والا اور کتاب سے بصیرت سمیٹنے والا ، کتاب لکھتا بھی ضرور ہے۔ انسانی فکر کے ارتقا پر ان کی متجسس دلچسپی کے نتائج ان کی معرکہ آرا کتاب کھوج کی صورت سامنے آئے،اس تصنیف میں انہوں نے شرق و غرب کے فلاسفہ کی مساعی کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے۔
کارل مارکس اور اینگلز کی کتاب OnReligion کا رواں اردو ترجمہ الہیات اور جدلیات کے عنوان سے جولائی 2022 میں شائع ہوا ہے۔ نامعلوم برطانوی ریاضی دان مارکوس دوساوتی کی 2016 میں سامنے آنے والی تصنیف Unknownکا اردو ترجمہ 2024 شائع ہوا ہے۔ڈاکٹر تنویر احمد کے اس ترجمے نے اردو دان طبقے پر سائنس اور سائنسی انداز نظر کے کئی در وا کئے ہیں۔ ڈاکٹر تنویر احمد کا تازہ ترین کارنامہ ایرانی شاعرہ فروغ فرخ زاد کے شعری مجموعے عصیان کا اردو ترجمہ ہے ۔1967 میں ایک مشکوک کار حادثے میں جان گنوانے والی 32 سالہ ایرانی روشن فکر شاعرہ ،دانشور اور آزاد منش و انسان دوست خاتون فروغ فرخ زاد کے شعری مجموعے "عصیان” کے اردو ترجمے کا سال 2025 میں شائع ہونا حد درجہ معنی خیز معلوم ہوتا ہے۔ فروغ فرخ زاد کی طرف متوجہ کرنے اور ان کے فارسی مجموعے کو رواں اردو زبان میں ترجمہ کرنے والے باکمال دانشور اور نکتہ رس مترجم ڈاکٹر تنویر احمد میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے چند سال بعد سال 1976 میں بسلسلہ ملازمت ایران چلے گئے تھے۔وہ ایران کی وزارت صحت کے تحت مختلف شہروں میں واقع درمان گاہ(صحت مراکز)کے ساتھ بطور ڈاکٹر وابستہ رہے ۔
اس دور کے ایران میں اعلی ثانوی سطح کے بعد تمام طلبہ و طالبات کے لیے لازم تھا کہ؛ وہ مزید تعلیم سے پہلے دو سال تک کسی دیہی اسکول میں بچوں کو پڑھایئں یا مرکز صحت میں خدمات انجام دیں ۔ڈاکٹر تنویر احمد عصیان کے اردو ترجمے کے آغاز میں بتاتے ہیں کہ؛ ".بارہویں جماعت پاس کرنے کے بعد لازم تھا کہ وہ دیہی علاقہ میں سکولوں میں پڑھائیں یا درمان گاہوں میں کام کریں۔ دو سال خدمت کے بعد وہ دانش کدہ (کالج(یا یونیورسٹی )دانش گاہ) میں داخلہ کے اہل ہو سکتے تھے۔میری درمان گاہ میں بھی ایسے بچے خدمت کر رہے تھے۔ ہادی تہران کا رہنے والا تھا اور پوران دخت کا گھر رشت(گیلان کا دارلحکومت)میں تھا۔
دونوں بچوں کا سیاست اور ادب پر کافی عبور تھا۔ ان سے جدید فارسی ادب اور ایران کی ان دنوں کی سیاست پر گفتگو رہتی۔..” اور یوں ؛ فارسی زبان و ادب ، ثقافت اور ایرانی سماجیات و سیاسیات سے دلچسپی اس کتاب دوست اور علم پرور میڈیکل ڈاکٹر کے ذوق و شوق کا حصہ بن گئے۔ فروغ فرخ زاد کے مجموعے عصیان کے ترجمے کا تعلق ڈاکٹر تنویر احمد کے اسی علمی ، لسانی اور سماجی و سیاسی تجربے اور مشاہدے و مطالعے کی طرف اشارہ کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ڈاکٹر تنویر احمد جدید ایرانی انقلابی شعرا سے اپنے تعارف اور اس دور میں ایران میں شاہ کی حکومت کے عوام اور شعرا و ادبا کے ساتھ رویے کے ضمن میں بتاتے ہیں کہ؛ "پوران دخت کی زبانی پہلی بار خسرو گل سرخی کا ذکر سنا۔
(جاری ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے