غزہ کی بحری ناکہ بندی توڑنے کیلئے ترکیہ سے روانہ ہونیوالے گلوبل صمود فریڈیم فلوٹیلا کو اسرائیلی بحری کمانڈوز نے متشدد متعصب سلامتی کے وزیر ایتمار بن گوایر کی سربراہی میں بین الاقوامی پانیوں میں پچاس (٥٠) سے زائد کشتیوں میں سوار پانچ سو (٥٠٠) بین الاقوامی سماجی کارکنان بمشول پاکستان سعد ایدھی سوار تھے کو گرفتار کر لیا۔غیر قانونی حرکت کرتے ہوئے بین لاقواامی پانیوں میں تمام کشتیوں کوپکڑ لیا۔کارکنوں کی گرفتاری پر ساری دنیا میں اشتعال پیدا ہوا ہے۔پاکستان کے سعد ایدھی کی رہائی کے پاکستان کو اسرائیل پر دبائو ڈلوانے کا مطالبہ کیا ہے۔دنیا کے کئی ملکوں سمیت پاکستان نے اس کی پر زرو مذمت کی ہے۔گرین پیس کالس نے حکومتوں کو صمود فلوٹیلا کی حفاظت کا کہا ہے۔ اس کے علاوہ زمینی راستے سے بھی عالمی صمود فریڈم فلوٹیلا رواں دواں ہے۔اس سے قبل غزہ کے مظلوموں کی امداد کے لیے ترکیہ سے خوراک دوائیوں کے ساتھ ترکیہ سے فلوٹیلا چلا تھا۔ اسے بھی بین الاقوامی سمندرمیں اسرائیلی بحری کمانڈوز نے حملہ کر کے کئی سماجی کارکنوں کو شہید کیا تھا۔ کئی سال ترکیہ اور اسرائیل میں ٹینشن رہا۔بعد میں اسرائیل نے ترکیہ سے معافی مانگی تھی۔اس کے بعد ٢٠٢٥ء میں ایسا ہی فریڈم فلوٹیلا غزہ کی امداد کے لیے روانہ ہوا تھا۔جس یہ امدادی قافلہ اسرائیل کے قریب بین الاقوامی پانیوں میںتھا تو اسرائیل نے فلوٹیلا کی کشتیوں پر حملہ کر دیا۔ سارے سماجی کارکنوں کو گرفتار کر لیے جنہیں بعد میں رہا کیا۔ اس قافلے میں پاکستان کے سابق سینیٹرمشاق احمد خان بھی شریک تھے۔پھر ٢٠٢٦ء (١)میں ایک اور عالمی صمود فریدیم فلوٹیلا غزہ کا محاصرہ توڑنے اور خوراک اور دوائیاں پہنچانے روانہ ہوا تھا۔ اس عالمی فلوٹیلا میں بھی پاکستان کی نمایندگی سابق سنیٹر مشاق احمد خان نے کی تھی۔ ان پر بھی بین الاقوامی پانیوں میں دہشت گرد اسرائیل نے رات کی تاریکی میں حملہ کیا، انسانی حقوق کے کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔اس عالمی صمود فریڈیم فلوٹیلا سے بھی دشمنوں والا سلوک کیا تھا۔اس دفعہ تازہ عالمی صمود فریڈیم فلوٹیلا ٢٠٢٦ئ( ٢) کے ساتھ خود، ایتمار بن گوایر قومی سلامتی کے دہشت گرد وزیر نے توحد کر دی۔ جس کی ویڈیو دنیا میںوائرل ہو گئی۔عرب میڈیا نے کہا اسرائیل کسی طرح بھی غزہ کے بحری کی ناکہ بندی کھولنے نہیں دیتا۔ وہ انسانی ہمددری کے نام سے ناواقف ہے۔ اسرائیل کے کان شیطان نے بند کر دیے ہیں۔ اس کے اخلاق کا شیطان نے بیڑا غرق کر دیا ہے۔ اسرائیل انسانی ہمدردی پر اعتماد نہیں رکھتا۔ایتمار بن گویر قومی سلامتی کے وزیر نے اسرائیلی بحری کمانڈوز کے ذریعے نہتے صمود فریڈم فلوٹیلا کے رضاکاروںکوبحری فوج کے ساتھ فلوٹیلا کے جہاز پر آیا اور رضاکاروں کو زمین پر سر رکھنے کا حکم دیا۔سب کو خود تکلیفیں پہنچا ئیں ۔ قبرض کے قریب بین الاقوامی سمندر میں ایک جہاز پر کمانڈو حملہ کر کے رضاکاروںکو قید کر لیا۔ایک خاتون نے فری فلسطین کا نعرہ لگایا تو اس کے بحری فوج کے سپاہی نے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا۔رضاکاروں کو رسیوں سے باندھ دیا گیا۔ پاکستان سمیت دس ملکوںنے اس ظلم کی سخت مذمت کی۔دنیا میں تنہا اسرائیل کا تکبر صہیونی نظریہ کی ساکھ مسخ کی گئی ہے۔ فرانس، ہسپانیہ، اٹلی، ہالینڈ، بیلجیم، کینیڈا اور دیگر مغربی ملکوں کی حکمرانوں نے اپنے ملکوں میں اسرائیل سفیروں کو طلب کیا اور جواب طلبی کی۔یورپی ملکوں نے ایتمار بن گویر کے ان مناظر کو خوفناک، توہین آمیز اور انسانی وقار کے منافی قرار دیا۔میڈرڈ نے یورپی یونین سے ایمار بن گویر پر پانبدہ لگانے کا مطالبہ کیا۔ اس سے قبل اس شدید متشدد متعصب یہود پر پر امریکا داخلے پر پابندی لگائی گئی تھی۔ہسپانیہ کے وزیر اعطم پیڈرو سانچیزنے مذمت سے بھی آگے نکل گئے اور انہوں نے اعلان کیا کی ان کا ملک اس معاملے کو یورپی یونین کے سارے اداروں کے سامنے اُٹھائے گا۔ اسرائیل کے وزیر سلامتی نے پہلے سے خراب حالات کومذید خراب کر دیا ہے۔بے شرم دنیا میں دھتکارے ہوئے دہشت گرد ایتمار بن گویر کی اس حرکت جس کی ویڈیو پوری دنیا میں آگ کی طرح وائرل ہو گئی۔اسرائیلی تکبر سے صمود فلوٹیا کی رضاکاروں جس میں سے پیشتر مغربی ملکوں کے غیر انسانی سلوک پر اشتعال پھیل گیا ہے۔ یہ وہ شخص ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینے کا قانون پارلیمنٹ نے پاس کیا تو اس ظلم نے وہاں پارلیمنٹ میں شراب کا دور چلا یا اور خوشی منائی تھی۔ اس کی جنم دن پر اس کی بیوی نے اس کو پھانسی کا بنا، لوگو تحفتاً پیش کیا تو بہت خوش ہوا۔ اور اس کی ویڈیو بھی وائرل کی تھی۔جب تک امریکا اسرائیل کے حق میں ویٹوپاور استعمال کرتا رہے گا۔ دہشت گرد اسرائیل ایسا ہی ظلم فلسطینیوں اور ان تک امداد پہنچانے والے سے کرتا رہے گا۔ عالمی قافلہ صمود فلوٹیلا کے رضاکاروں کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا ا س سے کئی گناہ زیادہ ظلم کا معاملہ اسرائیل کے صہیوں نے پچھلے ٧٦ سالوں سے فلسطینیوں سے کر رہے ہیں۔مگر اُس وقت سے دنیا خاموش تماشاہی بنی رہی۔اب اسرائیل کے کرتوتوں سے ساری دنیا واقف ہو گئی ہے۔ اسرائیل میں بل لکل تنہا ہو چکا ہے ۔ دیکھیں امریکا پر اس کا چلا ہوا جادو کب زمیں بوس ہوتا ہے۔امریکہ کی ایک انوسٹیگیشن صحافی تنظیم نے اخبار میں سٹوری شائع کی ہے کہ اسرائیل کی جیلوں میں فلسطینی عورتوں سے کتوں سے جنسی تشدد کرایا جاتا ہے۔ اس سے قبل ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی کہ ایک اسرائیلی فوجی آفیسر خاتون کے فوجی رینک اُتارے جارہے ہیں۔ الزام تھا کہ اس نے ایک ویڈیو جاری کی تھی کہ اسرائیل کی جیلوں میں فلسطینی عورتوں سے سیکورٹی کے ذمہ دار ذبردستی جنسی تشدد کرتے پائے گئے ہیں۔ عالمی دبائو بڑھنے پر سارے کارکنان کو ترکیہ واپس ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے۔غزہ کی نسل کشی کو عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل وزیر اعظم نیتن یاہو اور اس کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کو جنگی جرم ثابت ہونے پر اقوا م متحدہ کے ملکوں کو کہا ہے کہ انہیں گرفتار کر کے عالمی عدالت انصاف میں قرار وقعی سزا کے لیے پیش کیا جائے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل قید میں فلسطینیوں کو وحشیانہ جسمانی تشدد، بھوکا رکھنا، جنسی تشدد کرنا،دانستہ طبی غفلت، توہین آمیز حملے عام ہے۔ غزہ میں جب اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ ہو رہا تھا تو دنیا نے دیکھا کہ اسرائیل یرغمالی رہائی کے وقت ہشاش بشاش نظر آتے ہیں۔ پروگراموں میں دیکھا گیا کہ اسرائیلی یرغمالی فوجی حماس کے مجاہدین کے سروں کو بوسے دیتے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل کی قید سے فلسطینی قیدی رہا ہو کر آتے ہیں تو وہ نیم مردہ ہوتے ہیں۔منہ لٹکا ئے ہوئے بیمار نظر آتے ہیں۔جس پر دنیا میں اسرائیل بدنام ہوا۔ اس کے بعد ایسی تقریب منانے سے بے غیرت نیتن نے حماس کو روک دیاگیا تھا۔دنیا کو بنانے والے ،انسانوں کے رب نے اگر یہودیوں کو دو دفعہ فلسطین میں فساد اور وحشت پھیلانے پر پہلے آشوریوں اور پھر رومی عسا ئیوں سے سزا دلائی۔ اور ساتھ میں یہ بھی کہا اگر تم انسان بن کے نہ رہے اور تیسری بار فساد پھیلا یااور انسانوں کو ناحق قتل کیا ۔تو تیسری بار تمھیں سزا دوں گا۔ یہودی ڈھائی ہزار سالوں سے در بدر بغیر ملک، بغیرزمین، بغیر مشترکہ ٹکانے کے بجائے تتر بتر تھے۔ ١٩١٧ء میں بلفور ڈیکلیریشن سے فلسطین میں آنا شروع گیا۔ فلسطینیوں کو گھروںسے نکال دیا۔ ١٩٤٨ء میں ایسا ظلم کیا کہ فلسطین اس وقت سے ہر سال یوم”نکبہ” یعنی تباہی کے نام سے دن مناتے رہتے ہیں۔اہل خرد کہتے ہیں شایدتیسری سزا کے لیے اللہ نے یہود ایک جگہ جمع کیا ہے تاکہ ان کو مٹایا جائے۔ایک حدیث میں ہے کہ آخری جنگ یہود سے مسلمانوں کی ہونی ہے۔ پتھر اور درخت مسلمانوں کو بتائیںگے کہ یہود ہمارے پیچھے چھپاہوا ہے اسے قتل کرو۔ صرف ایک غرقد کا درخت نہیں بتائے گا۔ اس حدیث پر مسلمانوں سے زیادہ یہودیوں کو یقین ہے۔ اسی لیے اسرائیل کی ساری شاہ راہوں پر یہ درخت لگایا گیا ہے۔راقم نے نیٹ پر ان شاہ راہوں پر اس درخت کو دیکھا ہے۔ ہر کوئی دیکھ سکتا ہے۔ تو یہ اس دہشت گرد اسرائیل کی عادت ہے غزہ کے شہریوں کو ترسا ترسا کر مارنا چاہتا ہے۔ اتنا تنگ کرنا چاہتا ہے کہ وہ غزہ سے ہجرت کر جائیں۔ اسرائیل کا وزیر خزانے دہشت گرد سموترش کہتا پھرتا ہے کہ ہم غزہ میںیہودیوں کی بستیاں بسائیں گے۔ مگر شیخ محمد یاسین شہید اور عزالدین شہید کے اسلامی تربیت یافتہ غزہ کے شہری اپنا وطن اور گھر چھوڑنے پر تیار نہیں۔ اللہ غزہ کو نہیں، اسرائیل کو جلد مٹائے گا اور دنیا دیکھے گی۔ ان شاء اللہ۔

