صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے سلسلے میں منعقدہ ایک شاندار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے چین کی ون چائنہ پالیسی کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور معاشی ترقی کے حوالے سے چین کی مسلسل حمایت کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، چین نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی اور منصفانہ موقف کی حمایت کی ہے، پاکستان اور چین عالمی اور علاقائی امن و استحکام، ترقی اور کثیر الجہتی نظام کی حمایت جاری رکھیں گے، پاک چین سفارتی تعلقات کی 75 سالہ تقریب چین کے ساتھ دوستی ،خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ چین اور پاکستان نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے،دو طرفہ تعلقات تعاون کو آگے بڑھائیں گے۔ حکومت اور عوامِ پاکستان کی جانب سے چین کی قیادت اور عوام بالخصوص چین کے صدر شی جن پنگ کو سفارتی تعلقات کے 75برس مکمل ہونے پر دلی مبارکباد پیش کی۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی، دفاع اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مسلسل فروغ پارہا ہے۔ صدر مملکت نے پاکستان اور چین کی سفارتی تعلقات کی 75 سالہ تقریبات کے انعقاد اور مشترکہ تقریب کے شرکاکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس تقریب کا انعقاد پاک-چین دوستی کی عکاس ہے۔ دونوں ملکوں نے باہمی احترام پر مبنی جس سفر کا آغاز کیا جو دوستی کے ساتھ ساتھ دوطرفہ سٹرٹیجک تعاون اور پارٹنرشپ پر قائم ہے، پاکستان اور چین نے ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کا خیال رکھا ہے۔بے حد خوشی ہے کہ میں پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے اس خصوصی استقبالیے میں آپ کے ساتھ شریک ہوں۔ چینی حکامکی یہاں موجودگی اس تاریخی موقع کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہے اور اس کے ساتھ پاکستان اور چین کی دوستی کی مضبوطی کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔75 سال قبل دونوں اقوام نے باہمی احترام اور مشترکہ خواہشات پر مبنی ایک سفر کا آغاز کیا تھا، آج وہ سفر ایک منفرد ہمہ موسمی سٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ میں ڈھل چکا ہے۔ اس سنگ میل پر ہم اس شاندار تاریخ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جس میں پاکستان اور چین نے ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کا مکمل یکجہتی کے ساتھ تحفظ کیا۔ آج ہمارا تعاون تجارت، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، دفاع، سائنس و ٹیکنالوجی، زراعت، تعلیم، ثقافت اور عوامی روابط سمیت متعدد شعبوں پر محیط ہے۔ دنیا میں دونوں ممالک کی دوستی ایک منفرد مثال اور وقت کی ہر آزمائش پر پوریاتری ہے،سی پیک صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ وژن کا عملی مظہر ہے، چین کی اقتصادی اور فوجی قوت دنیا کیلئے مثال ہے، سی پیک میں زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، کان کنی و معدنیات ترجیح ہیں، مشترکہ کاوشوں سے ترقی کا راستہ طے کریں گے، فخر ہے دنیا چین کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی۔ پاکستان سب سے پہلا مسلم ملک اور دنیا کے اولین ممالک میں شامل تھا جس نے چین کو تسلیم کیا، 75 سال قبل ہمارے بانیان نے ان تعلقات کی بنیاد رکھی، اس کے بعد ہم نے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ دنیا میں منفرد مثال کی حامل پاکستان-چین دوستی وقت کی ہر آزمائش پر پورا اتری ہے، زلزلے ، سیلاب سمیت کسی بھی مشکل میں چین پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہا، کوئی بھی آفت ہو ، چین نے ہمارا بے مثال ساتھ دیا۔ پاکستان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ساٹھ کی دہائی میں پہلی پرواز جو بیجنگ ایئرپورٹ پر اتری وہ پاکستانی تھی ۔ پاکستان نے ہمیشہ ون چائنہ پالیسی کی حمایت کی ہے اور کرتے رہیں گے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ دونوں ممالک کی دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہوئی، مشترکہ مقاصد اور سوچ کی بنیاد پر دونوں ممالک قریب سے قریب تر ہوتے گئے، تعاون کے نتیجے میں نہ صرف دونوں ممالک بلکہ خطے میں بھی امن و ترقی آئے گی۔
امریکہ ایران مذاکرات میں اہم پیشرفت متوقع
وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے تہران میں ملاقات کی ہے جبکہ ایرانی خبر رساں ایجنسی نے بتایاہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بھی تہران آمد متوقع ہے۔ایرانی سرکاری میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے بتایاہے کہ پاکستان کی ثالثی سے امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کا حتمی مسودہ طے پا گیا ہے جس کا اعلان اگلے چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔امریکی وزیر خارجہ روبیو نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پانے کے حوالے سے کچھ مثبت اشارے موجود ہیںپاکستانی حکام تہران کا دورہ کریں گے امید ہے کہ اس دورے سے سفارت کاری کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس نافذ کیا تو ایران سے معاہدہ ممکن نہیں ہوگا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تہران کے ساتھ بات چیت جاری ہے تاہم ایران سے افزودہ یورینیم حاصل کرکے اسے تباہ کردیں گے ہرمز میں ٹول ٹیکس وصولی قبول نہیں ناکہ بندی کی وجہ سے آبنائے ہرمز پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے۔اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک جنگ کو ختم نہیں سمجھیں گے جب تک افزودہ یورینیم ایران سے ہٹا نہیں دیا جاتا تہران پراکسی ملیشیاوں کی حمایت بند نہیں کردیتا اور اس کی بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کو ختم نہیں کر دیا جاتا۔دوسری جانب ایرانی آرمی چیف نے یہ عزم دہرایا ہے کہ مسلح افواج ملکی دفاع کیلئے تیار ہیں جبکہ دو سینئر ایرانی ذرائع نے بتایا ہے کہ سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای نے ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے کہ ہتھیاروں میں استعمال کے قابل یورینیم بیرون ملک نہیں جانی چاہئے۔تاہم ایک سینئر ایرانی اہلکار نے ان رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے الجزیرہ کو بتایا کہ رہبر اعلی نے یورینیم ملک میں رکھنے سے متعلق ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیایہ معاہدے کے دشمنوں کا پروپیگنڈا ہے۔ ایران خود اس جوہری مواد کی افزودگی کو کم کرے گایہ اگلے مرحلے کے مذاکرات کا موضوع ہے۔ اماراتی صدر کے مشیر انور قرقاش نیہرمز میں اماراتی پانیوں پر ایران کے کنٹرول کے منصوبے کو دیوانے کا خواب قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔دریں اثنا ایک اعلیٰ ایرانی ذریعے نے بتایا ہے کہ امریکا کے ساتھ اب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پایا ہے تاہم اختلافات میں کمی آئی ہے۔ ذریعے نے مزید کہا کہ ایران کی یورینیم افزودگی اور آبنائے ہرمز پر تہران کا کنٹرول اب بھی اختلافی نکات میں شامل ہیں۔ ادھراقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایراوانی نے مطالبہ کیا ہے کہ سلامتی کونسل کو ایران کے خلاف امریکی صدر کی بار بار اور روزانہ کی دھمکیوں پر خاموش یا لاتعلق نہیں رہنا چاہئے ۔
شہداء کے اہلخانہ کے اعزاز میں ایوارڈزکی تقریب
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں منعقدہ تقریب میں 50 ستارہ امتیاز ملٹری اور 12 تمغہ بسالت عطا کیے گئے۔ بعد از شہادت اعزازات شہدا کے اہلخانہ نے وصول کئے ۔ اس موقع پر فیلڈ مارشل نے شہدا ء اور غازیوں کو قوم کا فخر قرار دیا۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف ان کی مسلسل کوششوں کو سراہا ، شہدا اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہدا اور غازی قوم کا فخر ہیں، ان کی قربانی ہر پاکستانی کیلئے ایک مقدس امانت ہے، مادر وطن میں امن و سلامتی ان کی عظیم قربانیوں اور فرض سے بے پناہ لگن کی مرہون منت ہے۔مادر وطن کا امن اور سلامتی شہدا کی عظیم قربانیوں کی مرہون منت ہے پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آپریشنل تیاری اور عزم قابل تحسین ہے۔ملک بھر میں پائیدار امن و استحکام کے حصول تک دہشتگردی کیخلاف جنگ قومی عزم کے ساتھ جاری رہے گی۔پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں لازوال قربانیاں دی ہیں۔
اداریہ
کالم
پاک چین سدابہاردوستی
- by web desk
- مئی 23, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 0 Views
- 7 سیکنڈز ago

