اداریہ کالم

عالمی پلیٹ فارم پر پاکستان کی بڑی کامیابی

پاکستان کو 2025-26 کی مدت کےلئے اقوام متحد کی سلامتی کو نسل کا غیر مستقل رکن منتخب کر لیا گیا ہے ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا آٹھویں بار غیر مستقل رکن منتخب ہوگیا جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت کے حوالے سے خفیہ رائے شماری ہوئی، جس میں185ممالک کے ممبران نے حصہ لیا۔ پاکستان کو 182 ممالک کے اراکین نے ووٹ دیے۔پاکستان یکم جنوری2025 سے 31دسمبر 2026تک رکن ہوگا۔ پاکستان دو سال تک سلامتی کونسل کا غیر مستقل ممبر ہوگا۔ اس انتخاب میں پانچ نشستوں کےلئے افریقی گروپ، ایشیا پیسفیک گروپ، لاطینی امریکن اور کیریبین گروپ میں سے ایک ایک امیدوار کو چنا جاتا ہے جبکہ دو سیٹیں مغربی یورپی اور دیگر گروپ کے لیے ہیں۔ہر گروپ میں شامل ممالک کسی ایک متفقہ امیدوار کو سامنے لاتے ہیں جسے کلین سلیٹ کہا جاتا ہے۔ ایشیا پیسفیک گروپ سے پاکستان امیدوار تھا۔ پاکستان کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے انتخابات میں زبردست حمایت حاصل رہی ۔وزیراعظم شہباز شریف نے اس پر انتخاب پر مسرت کا اظہار اور قوم کو مبارکباد دی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کا مسلسل آٹھویں بار سلامتی کونسل کا رکن منتخب ہونا یقینا ایک قابل فخر لمحہ ہے۔ یہ انتخاب امن اور سلامتی کے لیے ہماری قوم کے عزم کا ثبوت ہے۔انہوں نے نے کہا کہ ہم عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کےلیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کریں گے جبکہ اقوام عالم کے درمیان امن، استحکام اور تعاون کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پوری قوم کے لے خوشی کا موقع ہے اور سفارتی سطح پر پاکستان نے اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس کامیابی پر کہا کہ ہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے تمام اراکین کے پاکستان پر اعتماد کرنے اور اسے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب کرنے پر شکر گزار ہیں ۔ کونسل کےلئے پاکستان کی امیدواری کی توثیق کرنے پر ھم ایشیا پیسیفک گروپ کے اراکین کے بھی مشکور ہیں ۔ غیر مستقل رکن کے طور پر آٹھویں مرتبہ منتخب ہونے کے بعد پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے لئے ایک بھر پور تجربہ اور بین الاقوامی امن و سلامتی کی بحالی کے لئے شراکت کی مضبوط میراث لے کر آیا ہے جس کا اظہار اقوام متحدہ کے مقاصد اور اصولوں پر سختی سے عمل پیرا ہونے سے ہوتا ہے اسی طرح اقوام متحدہ کی امن پیدا کرنے کی کوششوں اور دنیا کے مختلف خطوں میں امن کی راہ ہموار کرنے کے پاکستان کے ارادے اور اقدامات سے ہوتا ہے ۔ اپنی آنے والی مدت غیر حل شدہ تنازعات کے منصفانہ اور پرامن حل کےلئے پر عزم رہے گا ۔ یک طرفہ اور غیر قانونی استعمال یا طاقت کے استعمال کی دھمکی سے حربے کی مخالفت کرنا ، دھشت گردی کا اس کی تمام مشکلوں اور مظاہر میں مقابلہ کرنا ، اقوام متحدہ کی موثر قیام امن، من کے نفاذ اور قیام امن کی کوششوں کی حمایت کرنا اور علاقائی اورعالمی بحرانوں کے حل کے لئے موثر کردار ادا کرتا رہے گا۔ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر ارکان اور اقوام متحدہ کے چارٹر کو بر قرار رکھنے اور جنگ کی روک تمام اور امن کو فروغ دینے کے ویژن پر عمل کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی وسیع تر رکنیت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہے ۔ عالمی خوشحالی کو فروغ دنیا اور انسانی حقوق کے عالمی احترام کو فروغ دینا بھی پاکستان کا مقصد ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پاکستان کے علاوہ اگلی مدت کے لئے چار دیگر غیر مستقل ارکان کا انتخاب بھی کیا ہے۔ صومالیہ ، پانامہ ، یونان اور ڈنمارک نے جنرل اسمبلی کے انتخابات میں کامیابی حال کی۔ صومالیہ کو 179 ، پانامہ کو 183 ، یونان کو 2 18 ، ڈنمارک کو 184 اور پاکستان کو 182 ووٹ ملے جو ایکواڈور ، جاپان ، مالٹا، موزمبیق اور سوئٹزر لینڈ کی جگہ لیں گے ۔ پاکستان اس سے قبل سات مرتبہ یو این ایس سی کا غیر مستقل رکن رہا ہے ، پانامہ پانچ ، ڈنمارک چار ، یونان دوبار اور صومالیہ ایک بار غیر مستقل رکن رہا ہے ۔ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان ہیں ،چین، فرانس ، روس ، برطانیہ اور امریکہ ۔ اس کے علاوہ دس غیر مستقل اراکین منتخب کئے جاتے ہیں ۔ غیر مستقل ارکان میں سے پانچ ہر سال منتخب کئے جاتے ہیں۔ جغرافیائی تقسیم کے مطابق ہونے والے انتخابات میںافریقی گروپ، ایک ایشیا سینگ گروپ ، ایک لاطینی امریکی اور کبیر سین گروپ اور ایک مشرقی یورپی گروپ کو دی گئی ہے ۔ امیدواروں کو دو تہائی روٹ حاصل کرنے ہوتے ہیں جو کہ 193 رکنی جنرل اسمبلی میں سے 129 ووٹ کے مساوی ہیں ۔ پاکستان نے 30ستمبر1947کو اقوام متحدہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اقوام متحدہ کے رکن کی حیثیت سے پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کے لئے پر عزم ہے ، خاص طور پر بین الاقوامی امن اور سلامتی کے فروغ اور اس کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ پائیدار امن اور انسانی حقوق کی ترقی کے لئے۔ پاکستان کا قیام امن کے لئے اقوام متحدہ کے ساتھ ایک دیرینہ وابستگی ہے اور ایک سرکردہ فوجی تعاون کرنے والے کے طور پر اس مقصد کی کامیابی کے حصول میں پاکستان کا اہم حصہ ہے۔ پچھلے 60سالوں میں پاکستان کے امن دستوں نے دنیا کے چار براعظموں میں ، اقوام متحدہ کے 46 مشنوں میں نیلے پرچم کی نمائندگی کی ۔ پاکستان اقوام متحدہ کے پہلے امن مشن میں سے ایک کا LINMOGEP بھی میزبان ہے جو جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ جنگ بندی کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ ایک ایسا کام ہے جیسے ھم اپنے مجرے ہوئے خطے میں امن و سلامتی کے سلام ایک شراکت کے طور پر بہت اہمیت دیتے ہیں۔عالمی پلیٹ پر پاکستان کو ایک بڑی کامیابی ملی ہے یقینا یہ پاکستانی کو سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
بجلی کے نرخوں میں پھر اضافہ
نیشنل الیکٹرک پاورریگولیٹری اتھار(نیپرا)نے کے الیکٹرک کے علاوہ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے صارفین کےلئے بجلی کے نرخوں میں 3.3 روپے فی یونٹ اضافہ کی منظوری دے دی ہے ۔ نیپرا کے مطابق فیول چار چیز ایڈ جسٹمنٹ کی میں ٹیرف میں اضافے کا اطلاق الیکٹرک ولیکل چارجنگ اسٹیشنزز کی مد میں ہو ا ہے۔یہ اضافہ لائف لائن صارفین کے علاوہ تمام صارفین پر گا۔ بجلی کے بلوں میں تازہ ترین اضافے کےساتھ جون میں صارفین کو بھاری بلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جون میں 1.90 روپے فی یونٹ جولائی اور اگست میں 0.23 روپے فی یونٹ اضافی نرخ ہوں گے۔ اس انتہائی پریشان کن صورتحال کے پیچھے آئی پی پیز کا کردار ہے، جن کے توسط سے اس وقت 62فیصد سے زائد بجلی تیل و گیس کے مہنگے ترین ذرائع سے بنانی پڑ رہی ہے۔ پاکستان جسے قدرت نے پانی،شمسی توانائی اور ہوا کی شکل میں بے بہا نعمتیں عطا کر رکھی ہیں ان سب سے مشکل سے کل پیداوار کا 38فیصدکھینچ تان کر پورا کر ناپڑرہا ہے۔
اسرائیل کا اقوام متحدہ کے زیر انتظام اسکول پر حملہ
اسرائیل نے بربریت کی ایک اور بدترین مثال قائم کی ہے۔مقامی سرکاری حکام کے مطابق وسطی غزہ کے نصیر رات کیمپ میں بے گھر فلسطینیوں کو پناہ دینے والے اسکول پر اسرائیلی حملے میںبچوں سمیت40 افراد شہید ہو گئے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور جمعرات کو یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب فوج نے وسطی غزہ میں متعدد پناہ گزین کیمپوں پر نئے زمینی اور فضائی حملے کا اعلان کیا ۔ یہ اسکول اقوام متحدہ کے ادارے سے منسلک تھا۔ غزہ کی پٹی پر حکومت کرنے والے حماس نے صبح سویرے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے خوفناک قتل عام قرار دیا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے